آئی بی ایم نے عالمی تحقیقاتی نیٹ ورک کو جنوبی افریقہ تک پھیلا دیا

میلہ بہاراں کے لیے یونین پے انٹرنیشنل کی عالمی خصوصی پیشکشیں جاری

ہبلوٹ نے ایک ہی ہٹ میں ہول کردیا!

جے اے سولر کی 2014ء میں جنوبی بحر الکاہل کی مارکیٹ میں کامیابی

اے پی آر انرجی انڈونیشیا کے ٹھیکوں کی تجدید اور توسیع

کیوٹریکس نے آرٹسٹ منشور اور آرٹسٹ ٹرسٹ کے قیام کا اعلان کردیا۔گیت نگاروں اور گلوکاروں کے لیے ادائیگی کے طریقے کو بنیادی طور پر تبدیل کرڈالا

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

تلاش کریں

آئی بی ایم نے عالمی تحقیقاتی نیٹ ورک کو جنوبی افریقہ تک پھیلا دیا

– جوہانسبرگ کی تحقیقی لیبارٹری جنوبی افریقہ کی قومی ترجیحات کو مدد دے گی اور بگ ڈیٹا، کلاؤڈ اور موبائل ٹیکنالوجیز کے استعمال میں جدت کو تحریک عطا کرے گی جوہانسبرگ ، 06 فروری  2015ء/ پی آرنیوزوائر/ ایشیانیٹ پاکستان — آئی بی ایم (این وائی ایس ای: IBM) نے آج اپریل 2015ء سے جوہانسبرگ میں شروع ہونے والی نئی لیبارٹری کے ساتھ آئی بی ایم ریسرچ – افریقہ کی توسیع کے منصوبوں کا اعلان کیا ۔ اس کی توجہ بگ ڈیٹا، کلاؤڈ اور موبائل ٹیکنالوجیز کو جدید بنانے کے لیے جنوبی افریقہ کی قومی ترجیحات، ہنرمندی کو بڑھانے کی تحریک اور جدت طرازی پر منحصر اقتصادی ترقی کو استحکام دینے پر ہوگی۔ تصویر – http://photos.prnewswire.com/prnh/20150205/173900 تصویر – http://photos.prnewswire.com/prnh/20150205/173972 لوگو – http://photos.prnewswire.com/prnh/20090416/IBMLOGO تحقیقی تنصیب محکمہ تجارت و صنعت کے ذریعے 10 سالہ سرمایہ کاری منصوبے کے حصے کے طور پر اور محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی کے ساتھ مل کر کام کرنے کی صورت میں یونیورسٹی آف وٹواٹرزرینڈ (وٹس) میں قائم ہوگی۔ “آئی بی ایم نے تحقیقی لیبارٹریوں کے مقام کا تعین کرتے ہوئے دو عوامل پر غور کیا: عالمی معیار کی مہارتوں اور صلاحیتوں تک رسائی اور سخت کاروباری و معاشرتی مشکلات پر کام کرنے کی صلاحیت، جن مشکلات سے جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے بخوبی نمٹا جا سکتا ہے۔” ڈاکٹر جان ای کیلی سوئم، سینئر نائب صدر آئی بی ایم سلوشنز پورٹ فولیو اینڈ ریسرچ نے کہا۔ “جنوبی افریقہ بہترین پس منظر فراہم کرتا ہے کیونکہ ہم خطے میں اپنی تحقیقی کوششوں کو پھیلانے کی جانب نظریں گاڑے ہوئے ہیں۔ افریقہ میں مقیم ہمارے محققین آئی بی ایم کے سائنسدانوں کی عالمی برادری کا حصہ ہیں جو ہمارے ادارے کا مستقبل تعمیر کررہے اور یقینی بنا رہے ہیں کہ ہم سائنسی تحقیق میں نمایاں مقام پر رہیں۔” وزیر سائنس و ٹیکنالوجی نلیڈی پینڈور نے کہا کہ “جنوبی افریقہ ٹیکنالوجی اور سائنسی اعتبار سے دنیا کے جدید ترین ممالک میں شامل ہے۔ لیکن جدت کو  استحکام بخشنے اور معیشت کو مزید تنوع دینے کے لیے تحقیقی اور ترقی پسندانہ سرگرمیوں کو بڑھانا ضروری ہے۔ ہم آئی بی ایم ریسرچ کو جنوبی افریقہ میں خوش آمدید کہتے ہیں اور اس کی طویل المیعاد کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے بہتر سائنسی باصلاحیت افراد پیش کرتے ہیں۔” جدت کو مضبوط کرنا آئی بی ایم کے جنوبی افریقی محققین مقامی جامعات، تحقیقی اداروں، جدت کے مراکز، اسٹارٹ اپس اور حکومتی ایجنسیوں کے ساتھ جامع تعاون کریں گے، اور یوں جنوبی افریقہ کے ابھرتے ہوئے جدت طرازی کے ماحول کو مضبوط کریں گے اور اگلی نسل کی ٹیکنالوجی مہارتوں کو بنانے میں مدد دیں گے۔ ادارہ تحقیقی منصوبوں اور مہارت کو ترقی دینے کے لیے تعاون کے لیے پہلے ہی وٹس یونیورسٹی، محکمہ سائنس و  ٹیکنالوجی (ڈی ایس ٹی) اور کونسل برائے سائنسی و صنعتی تحقیق (سی ایس آئی آر) کے ساتھ معاہدے کرچکا ہے۔ پروفیسر آدم حبیب، وائس چانسلر اور پرنسپل، وٹس یونیورسٹی نے کہا کہ “جدت طرازی کے کامیاب ماحول کی تشکیل جنوبی افریقی معیشت کی مزید ترقی اور ملک کی بین الاقوامی مسابقت کے لیے ضروری ہے۔ آئی بی ایم ریسرچ کا

مزید پڑھیں

میلہ بہاراں کے لیے یونین پے انٹرنیشنل کی عالمی خصوصی پیشکشیں جاری

شنگھائی، چین 5 فروری 2015ء/سن ہوا –ایشیانیٹ / ایشیانیٹ پاکستان — یونین پے انٹرنیشنل نے 4  فروری کو اعلان کیا کہ اس نے خصوصی پیشکشیں جاری کردی ہیں جو ایک ماہ جاری رہیں گی اور 30 ممالک اور خطوں میں میلہ بہاراں کی تعطیلات کا احاطہ کرتی ہیں تاکہ بیرون ملک روایتی چینی میلے پر خرچ کرنے والے کارڈ یافتگان کے لیے جامع خدمات پیش کریں۔ اب جبکہ چین دنیا کا سب سے بڑا سیاحوں کا حامل ملک بن چکا ہے، یونین پے کارڈ (کارڈ نمبر جو 62 سے شروع ہوتے ہیں) نے بھی بیرون ملک جانے والے چینی سیاحوں کے لیے ادائیگی کی اولین ترجیح بننے کا راستہ بنا لیا ہے۔ یونین پے انٹرنیشنل کے سی ای او کے جیانبو نے کہا کہ “چینی کارڈ یافتگان کو جامع خدمات فراہم کرنا ایسا کام ہے جس سے ہم وابستہ ہیں۔” “دیگر تعطیلات کے مقابلے میں میلہ بہاراں چینی عوام کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ ہم بیرون ملک سفر کرنے والے اپنے کارڈ یافتگان کے لیے نئے قمری سال کے جشن کا احساس پیدا کرنے کے خواہشمند ہیں خصوصی پیشکشیں اور خدمات دے کر تاکہ وہ یونین پے کارڈز کا بہتر تجربہ پائیں۔” پیشکشیں 30 ممالک اور خطوں میں 1,500 منتخب سوداگروں کا احاطہ کرتی ہیں، جن میں 10 انتہائی معروف شاپنگ گروپس جیسا کہ ڈی ایف ایس، گیلریس لفیاتے اور شیک آؤٹ لیٹ شاپنگ شامل ہیں۔ پیش کردہ سہولیات میں مندرجہ بالا سوداگروں کے پاس یونین پے کارڈز استعمال کرنے پر 20 فیصد تک کی رعایت شامل ہے اور کارڈ یافتگان کرنسی کی تبدیلی پر 1 سے 2 فیصد کے عام استثنا کا بھی لطف اٹھا سکتے ہیں۔ 2014ء میں یونین پے انٹرنیشنل 60 بین الاقوامی ہوائی اڈے کی ڈیوٹی فری شاپس، 40 مرکزی کاروباری اضلاع اور 30 سیاحتی مقامات پر خصوصی پیشکشیں دے گا تاکہ اپنے کارڈ یافتگان کی سہولیات کے نظام کو بہتر بنائے۔ یونین پے قبولیت کا نیٹ ورک چین سے باہر 150 ممالک اور خطوں تک پھیل چکا ہے اور چینی سیاحوں کی جانب سے سب سے زیادہ دیکھے گئے تقریبا تمام مقامات کا احاطہ کرتا ہے۔ یونین پے کارڈز شاپنگ مالز، برانڈ اسٹورز، ہوٹلوں اور روزمرہ مقامات بشمول سپر مارکیٹوں، ریستورانوں، تفریحی مقامات اور ٹیکسیوں میں قبول کیے جاتے ہیں۔ ہانگ کانگ، مکاؤ اور جنوبی کوریا میں کئی عام دکانیں، ریستوران اور عوامی نقل و حمل کی سہولیات یونین پے کوئیک پاس سروس کو بھی سپورٹ کرتی ہیں۔ یونین پے کارڈ یافتگان کو وافر خدمات  بشمول ٹیکس ری فنڈ اور غیر ملکی ہنگامی نقد امداد بھی فراہم کی جاتی ہے۔ خصوصی پیشکشوں کے بارے میں مزید معلومات اور تفصیلات کے لیے www.unionpayintl.com ملاحظہ کریں، 24 گھنٹے سروس ہاٹ لائن (95516) پر کال کریں، سینا ویبو یا وی چیٹ پر “UnionPay International ” کو فالو کریں یا ایپل کے ایپل اسٹور یا گوگل کے پلے اسٹور میں “UnionPay International ” تلاش کرکے یا منسلک کیوآر کوڈز اسکین کرکے باضابطہ موبائل ایپلی کیشن ڈاؤنلوڈ کریں ذریعہ: یونین پے انٹرنیشنل تصویری منسلکات کے روابط: http://asianetnews.net/view-attachment?attach-id=250112

مزید پڑھیں

ہبلوٹ نے ایک ہی ہٹ میں ہول کردیا!

– جسٹن روز ہبلوٹ کے برانڈ سفیر نامزد سان ڈیاگو، 4 فروری 2015ء/پی آرنیوزوائر/ ایشیانیٹ پاکستان — پرتعیش گھڑیوں کا سوئس برانڈ ہبلوٹ اپنے نئے برانڈ سفیر کی حیثیت سے گالف کے سپر اسٹار جسٹن روز کا اعلان کرتے ہوئے فخر محسوس کرتا ہے۔ روز، جو اس وقت دنیا بھر میں سترہ اعزازات کے حامل ہیں، جن میں 2013ء کا یو ایس اوپن بھی شامل ہے، بین الاقوامی سطح پر معروف برانڈ سفیروں کی فہرست میں شامل ہوئے ہیں جن میں کوبے برائنٹ، ڈیوین ویڈ، پیلے، یوسین بولٹ اور دیگر شامل ہیں اور برانڈ کے ساتھ شراکت  داری کرنے والے پہلے پیشہ ور گالفر ہیں۔ تصویر – http://photos.prnewswire.com/prnh/20150204/173401 برانڈ کے سب سے نئے سفیر کی عزت افزائی کے لیے ہبلوٹ آف امریکہ کے مینیجنگ ڈائریکٹر ژاں-فرانکو سبیرو نے صارفین اور ذرائع ابلاغ کے ساتھ سان ڈیاگو، کیلیفورنیا  کے ٹوری پائنز گالف کورس میں ایک خیراتی تقریب کی میزبانی کی، جو 5 سے 8 فروری تک پی جے اے ٹور کے فارمرز انشورنس اوپن کی میزبانی بھی کرے گا۔ اعلان کے بعد جسٹن روز اور سان ڈیاگو پاڈریس کے اسٹار اور میٹ کیمپ کے درمیان گالف کا تفریحی مقابلہ کھیلا گیا جو خود بھی ہبلوٹ کے دوست ہیں اور ٹیم میں شمولیت کے بعد پہلی بار ذرائع ابلاغ کے سامنے آئے تھے۔ روز اور کیمپ نے میدان میں ایک ٹیم تشکیل دی، روزنے سان ڈیاگو پاڈریس کے نئے کھلاڑیوں کو گالف پوائنٹرز دیے تاکہ کیٹ اینڈ جسٹن روز فاؤنڈیشن کے لیے شعور اجاگر ہو اور رقوم اکٹھی کی جاسکیں۔ خیراتی انجمن بھوکوں کو خوراک دینے اور مستحق نوجوانوں کے متجسس اذہان سے وابستہ ہے جس کے منصوبے خوراک، تعلیم اور تجربات سے منسلک ہیں۔ ہبلوٹ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارموں پر #HublotGolf4Justin مہم  کے ذریعے اس سیزن میں جسٹن کو داد و تحسین دے گا۔ ریکارڈو گواڈلوپ، سی ای او ہبلوٹ، نے کہا کہ: “عالمی سطح پر معروف پیشہ ور گالفر کو اپنے برانڈ سفیروں کی قابل عزت فہرست میں شامل کرنا ایک اعزاز ہے، جن میں سے ہر فرد ہبلوٹ اور ان کے صارفین دونوں کے لیے باعث تحریک ہے۔ جسٹن کی اپنے کیریئر میں ثابت قدمی اور مکمل وابستگی کے ذریعے حاصل کردہ شاندار کامیابیوں نے انہیں ہبلوٹ کے لیے بہترین انتخاب بنایا ہے، اور ہماری نظریں اس دلچسپ شراکت داری پر مرکوز ہیں۔” جسٹن روز نے کہا کہ “میں نئے سفیر کی حیثیت سے ہبلوٹ میں شمولیت پر خوش ہوں، ایک ایسا برانڈ جس سے میری عرصے سے وابستگی ہے۔ ایسے کھیل میں ہبلوٹ کا خیرمقدم کرنا جو مجھے بہت عزیز ہے واقعی ایک بڑا اعزاز ہے۔ ہبلوٹ کی گھڑیوں کی میکانیات کی طرح ہی میں اپنی سوئنگ میں صحیح حرکت پیدا کرنے کے لیے انتھک کام کرتا ہوں، میری نظریں عالمی منظرنامے پر امتیازی مقام حاصل کرنے کے اپنے سفر میں ہبلوٹ کی نمائندگی کرنے پر ہیں۔” روز نے 1998ء میں برٹش اوپن میں اپنے گالف کیریئر کو مستحکم کیا، اور گزشتہ سترہ سالوں میں شاندار کامیابیاں حاصل کیں، جس میں 2013ء میں عالمی سطح پر تیسرا مقام حاصل کرنا بھی شامل ہے۔ 6 مرتبہ کے پی

مزید پڑھیں

جے اے سولر کی 2014ء میں جنوبی بحر الکاہل کی مارکیٹ میں کامیابی

شنگھائی، 4 فروری 2015ء/پی آرنیوزوائر/ ایشیانیٹ پاکستان — شمسی توانائی کی اعلیٰ کارکردگی مصنوعات بنانے والے دنیا کے معروف اداروں میں سے ایک جے اے سولر ہولڈنگز کمپنی لمیٹڈ (نیس ڈیک: JASO) (“جے اے سولر” یا “جے اے”) نے آج اعلان کیا ہے کہ اس نے 2014ء میں جنوبی بحر الکاہل کی مارکیٹ میں بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ جے اے سولر نیوزی لینڈ، فجی اور پاپوا نیو گنی جیسے ممالک میں متعدد قومی شمسی منصوبوں کے لیے فراہم کنندہ تھا، اور زبردست صارفی ردعمل اور اپنے ماڈیولز کی مستحکم کارکردگی پر ستائش حاصل کی۔ ان میں سے بیشتر شمسی منصوبے اپنے متعلقہ خطوں میں اولین ہیں، جو خطے کی شمسی صنعت کی ترقی کے لیے معیار مرتب کررہے ہیں۔ 350 کلوواٹ کا آکلینڈ شاپنگ سینٹر منصوبہ نیوزی لینڈ میں واحد سب سے بڑی شمسی تنصیب ہے۔ منصوبہ نیوزی لینڈ حکومت کی جانب سے شفاف توانائی کی ترقی میں ایک اہم قدم  کا نقیب ہے۔ 1 میگاواٹ کک جزائر راراتونگا ایئرپورٹ منصوبہ جزائر کک میں پہلا شمسی پاور اسٹیشن ہے، جو ہوائی اڈے کو ڈیزل کھپت میں سالانہ 400,000 لیٹر کی کمی میں مدد دے رہا ہے۔ 1.96 میگاواٹ جزائر ٹووالو منصوبہ حکومت نیوزی لینڈ کی جانب سے قائم کردہ صاف قابل تجدید توانائی کا پہلا مقامی آف-گرڈ نظام ہے۔ 128 کلوواٹ پاپوا نیو گنی سینٹر ٹاور منصوبہ خطے میں پہلا مال کی چھت پر لگایا گیا منصوبہ ہے۔ 550 کلوواٹ کا فجی ریڈیسن ہوٹل منصوبہ ہوٹلوں کے ریڈیسن سلسلے کی پہلی تنصیب ہے۔ ریڈیسن کے ساتھ یہ نئی شراکت داری بحر الکاہل میں ہوٹلوں کے سلسلے میں کئی ممکنہ تنصیبوں میں سے ایک ہوگی۔ جے اے سولر کے چیف ٹیکنالوجی افسر جناب ینگ لیو نے کہا کہ “مقامی موسمیاتی حالات جیسا کہ ہوا اور انتہائی درجہ حرارت کو زیادہ پی آئی ڈی مزاحمت، زیادہ میکانیکی بوجھ اور ماڈیولز کے لیے بہتر کم روشنی کارکردگی کی ضرورت ہے۔ ہمارے ماڈیولز، جو اپنی انتہائی بھروسہ مندی، تبدیلی کی اعلیٰ صلاحیت اور زیادہ بجلی دینے کے لیے مشہور ہیں، جنوبی بحر الکاہل کے ماحول میں بھی بہتر انداز میں مطابقت اختیار کرسکتے ہیں اور فی واٹ بجلی پیداوار کے اخراجات کو بہت کم کرسکتے ہیں۔ یہ انتہائی فخر اور ہمارے مصنوعاتی معیار کے لیے یقین کی بات ہے کہ خطے میں ان مثالی منصوبوں کے لیے فراہم کنندہ کی حیثیت سے ہمارا انتخاب کیا گیا۔” جناب جیان سی، صدر جے اے سولر نے کہا کہ “خطے میں اپنی نوعیت کے پہلے منصوبوں کی حیثيت سے یہ مثالی منصوبے صاف اور قابل تجدید توانائی کی پیداوار، ماحول کے تحفظ، بجلی کی فراہمی کے ڈھانچے کو بہتر بنانے اور خطے کی معیشت میں ماحول دوست ترقی کو بڑھانے میں زبردست اہمیت کے حامل ہیں۔ جنوبی بحر الکاہل کے خطے میں یہ کامیابی عالمی سطح پر نئی مارکیٹوں تک پھیلنے کی ہماری کوششوں میں نیا سنگ میل ہے اور ہمارے بڑھتے ہوئے عالمی اثرورسوخ کی عکاسی کرتی ہے۔”

مزید پڑھیں

اے پی آر انرجی انڈونیشیا کے ٹھیکوں کی تجدید اور توسیع

جیکسن ول، فلوریڈا، 3 فروری 2015ء/ پی آرنیوزوائر/ ایشیانیٹ پاکستان — بڑے پیمانے پر بجلی کے فوری حل فراہم کرنے میں معروف عالمی ادارے اے پی آر انرجی نے آج اعلان کیا ہے کہ اس نے تقسیم شدہ بجلی اور گرڈ استحکام کے منصوبوں کے لیے دنیا کی بڑی مارکیٹوں میں سے ایک انڈونیشیا میں اپنے بجلی پیداوار کے منصوبوں میں سے دو کی 115 میگاواٹ توسیع پر دستخط کیے ہیں۔ مزيد برآں، اے پی آر انرجی کو ایک ٹھیکہ جاتی توسیع اور ایک تیسرے مقام پر 5 میگاواٹ کشادگی سے نوازا گیا، جو اس کی ملک کے لیے کل پیداوار کو 135 میگاواٹ تک پہنچا رہی ہے۔ لوگو – http://photos.prnewswire.com/prnh/20120207/FL48583LOGO اے پی آر انرجی کے 75 میگاواٹ میدان ٹھیکہ 2015ء کے آخر تک پھیلایا جائے گا، جبکہ اس کا 40 میگاواٹ کا پاڈانگ ٹھیکہ 2015ء کی دوسری سہ ماہی میں توسیع پائے گا۔ اے پی آر انرجی کو دیے گئے ٹھیکے اور نیاس میں توسیع کا کام 2016ء کی پہلی سہ ماہی تک جاری رہے گا۔ 2013ء سے مصروف عمل اے پی آر انرجی کے منصوبے نیاس اور سماٹرا کے جزائر میں پانچ مقامات پر قائم ہیں اور ایندھن موثریت ڈیزل تبادلہ انجن ٹیکنالوجی کی جدت رکھتے ہیں۔ موثر ہونے سے اب تک یہ منصوبے اپنے علاقوں میں بجلی کی فراہمی میں تعطل کو بڑے پیمانے پر کم کرنے میں مدد دے چکے ہیں اور اسکولوں، گھروں اور کاروباروں کو درکار قابل بھروسہ بجلی اور گرڈ استحکام فراہم کرکے پیداواری صلاحیت کو بہتر بنا رہے ہیں۔ اس تجدید پر تبصرہ کرتے ہوئے اے پی آر انرجی کے مینیجنگ ڈائریکٹر برائے ایشیا بحر الکاہل کلائیو ٹرٹن نے کہا کہ ” ہم اپنی اہم ترین مارکیٹوں میں میں سے ایک انڈونیشیا میں اپنے ٹھیکوں کی تجدید پر بہت خوش ہیں۔ یہ تیسرا موقع ہے کہ ہم نے ٹھیکوں کو توسیع دی ہے اور ملک میں اپنی موجودگی کو بڑھایا ہے، جو ہمارے حل کی بھروسہ مندی، صارف کے اطمینان کی انتہائی سطح اور خطے میں بجلی کی تیزی سے بڑھتی ہوئی طلب کا ثبوت ہے۔” برآئن رچ، اے پی آر انرجی نے کہا کہ “یہ تجدید ٹھیکوں کی توسیع اور پھیلاؤ میں اے پی آر انرجی  کی مسلسل کامیابی کی ایک اور مثال ہیں، جیسا کہ گزشتہ سال میں ٹھیکوں کی تجدید کی 85 فیصد سے شرح سے ظاہر ہے۔ تجدید اے پی آر کے کاروباری نمونے کا اہم حصہ ہے، جو آمدنی میں استحکام اور مضبوط نقد بہاؤ کو سہارا دیتی ہے۔ ہماری کامیابی اپنے کام میں فضیلت سے زبردست وابستگی اور اپنی پیش کردہ خدمات میں اپنے صارفین پر اعتماد کی عکاس ہے۔”  اے پی آر انرجی کے بارے میں اے پی آر انرجی بجلی کے بڑے پیمانے پر اور فوری حل فراہم کرنے والا معروف عالمی ادارہ ہے جو صارفین کو قابل بھروسہ بجلی تک فوری رسائی فراہم کرتا ہے جہاں بھی اور جیسے بھی ان کو ضرورت ہو۔ اے پی آر جدید، ایندھن موثر ٹیکنالوجی کے ساتھ صنعت کی معروف ترین تجربے کو ملاتا ہے تاکہ ٹرن کی پاور پلانٹس فراہم کیے جائیں جو فوری طور پر

مزید پڑھیں

کیوٹریکس نے آرٹسٹ منشور اور آرٹسٹ ٹرسٹ کے قیام کا اعلان کردیا۔گیت نگاروں اور گلوکاروں کے لیے ادائیگی کے طریقے کو بنیادی طور پر تبدیل کرڈالا

نیو یارک، 29 جنوری 2015ء/پی آرنیوزوائر/ ایشیانیٹ باکستان — مفت اور قانونی ڈیجیٹل میوزک سروس کیوٹریکس (QTRAX) نے آج گیت نگاروں اور گلوکاروں (“گلوکاروں”) کو زیادہ منافع بخش اور مثالی انداز میں زر تلافی ادا کرنے کے وسیع منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ تفصیلات کیوٹریکس کی جانب سے پیش کردہ ایک جامع اور تفصیلی رپورٹ میں دستیاب ہیں، جسے بگ فور اکاؤنٹنگ اداروں نے بنایا ہے۔ لوگو – http://photos.prnewswire.com/prnh/20150129/172177LOGO تصویر – http://photos.prnewswire.com/prnh/20150129/172176 آرٹسٹ منشور (دیکھیں www.qtrax.comپر) موثر طور پر گلوکاروں کا حقوق نامہ ہے جس میں منصوبوں کا ایک جامع مجموعہ شامل ہے جو گلوکاروں کو کہیں زیادہ توانائی فراہم کرتا ہے اور انہیں شفاف اور قابل عزت طریقے سے زر تلافی ادا کرتا ہے۔ کلیدی منصوبہ گلوکاروں کو 30 فیصد منصفانہ حصے سے نوازنا ہے۔ یہ حصہ آرٹسٹ ٹرسٹ کہلانے والے ایک قانونی ادارے میں محفوظ ہے تاکہ زیر منتخب حقوق کی انجمن میں آزادانہ طور پر موجود رہ سکے۔ گلوکار کیوٹریکس کے منافع میں حصہ پائیں گے اور آئی پی او یا تجارتی فروخت جیسے کسی بھی تحلیل کے موقع سے فائدہ اٹھائیں گے، واضح طور پر بالکل اسی طرح جیسے حصص یافتگان دولت پاتے ہیں۔ 30 فیصد منصفانہ حصہ 10 سال کے عرصے میں چلائے جانے کی بنیاد پر لیا جائے گا۔ “منصفانہ حصہ یا ایکوئٹی ہی ان ڈیجیٹل میوزک سروسز کے لیے سونے کی اصل کان ہے، جس میں ہم بھی شامل ہیں۔ گلوکاروںکو شرمناک انداز میں انتہائی معمولی تقسیم پر ادائیگی ہوتی ہے جبکہ چند ڈیجیٹل میوزک سروسز کی قدر کئی ارب تک پہنچ گئی ہے۔ گلوکاروں کے تخلیقی کام کے بغیر کوئی میوزک سروسز نہیں ہوں گی۔ ایک بھی نہیں۔ یہ ایک واضح حقیقت ہے لیکن موجودہ اقتصادی ڈھانچے میں اس حقیقت کو احترام سے نہیں دیکھا گیا۔ یہ الزام لگانے کی بات نہیں ہے۔ شاید اس کی درست قیمت لگائی بھی نہیں جاسکتی۔ لیکن کانگریسکے غوروفکر کی کوئی سطح بھی ان نرخوں کو بڑےپیمانے پر تبدیل نہیں کرے گی۔ بنیاد ہی اتنی کم ہے کہ بڑے پیمانے پر اضافہ بھی کافی نہیں ہوگا۔ ریکارڈ کمپنیاں میوزک سروسزسے ایکوئٹی کی درخواست کے لیے کافی عقلمند تھیں۔ گیت نگار اور گلوکار ایسا کرنے کے لیے مناسب انداز میں متحد نہیں تھے۔ اب وقت ہے کہ وہ ان سروسز کے مالک بنیں بجائے اس کے کہ محض مواد فراہم کرنے والے ایسے گلوکار جن کا استحصال ہو رہا ہو۔ ہم تمام ڈیجیٹل سروسز، موجودہ اور مستقبل کی دونوں، کو مدعو کرتے ہیں کہ وہ آرٹسٹ ٹرسٹ کے لیے ایکوئٹی میں ویسا ہی حصہ ڈالیں تاکہ وہ گلوکاروں کے فائدے کے لیے موسیقی کے صنعت کے رہنماؤں پر مشتمل ایک موقر بورڈ کے تحت کام کرے۔ ایکوئٹی کی آمدنی کی بعد از آئی پی او تقسیمگلوکاروں اور گیت نگاروں کو بڑی آمدنی فراہم کرے گی۔” ایلن کلیپفز بانی اور سی ای او کیوٹریکس نے کہا ۔ کیوٹریکس کے صدر اور سی ای ایم او لانس فورڈ نے کہا کہ “اگلے 2 سے3 سالوں میں ایک لیکوئیڈٹی ایونٹ بننے کے دوران کیوٹریکس آرٹسٹ ٹرسٹ میں نوجوان صارفین کے منسلک ہونے کی صورت میں موسیقی کی طاقت پر یقین

مزید پڑھیں