کراچی (پی پی آئی)سردیاں شروع ہونے سے قبل ہی کراچی کے بیشتر علاقوں میں قدرتی گیس غائب ہونا شروع ہوگئی ہے۔ رات کے وقت اس بنیادی ضرورت کی مکمل بندش اور دن کے اوقات میں انتہائی کم پریشر کیساتھ فراہم ہونے والی گیس سے صارفین کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔پی پی آئی کے مطابق صارفین کا کہنا ہے کہ ابھی تو ہیٹرز اور گیزر کا استعمال ہی شروع نہیں ہوا اور حکومت نے گیس کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ کے باوجود یہ سہولت ہی ناپید کر دی۔ اولڈ سٹی ایریا میں گزشتہ کئی ماہ سے صرف دن کے وقت گیس فراہم کی جاتی تھی اب وہ بھی نہ ہونے کے برابر ہے، اسی طرح شاید ہی کوئی علاقہ ایسا ہوگا جہاں اس وقت گیس باقاعدگی سے فراہم کی جا رہی ہو۔ صارفین کے مطابق آسمان سے باتیں کرتے گیس سلنڈر خریدنا ہر کسی کے بس میں ہے اور نہ ہی روزانہ ہوٹلوں سے روٹی خریدی جا سکتی ہے۔
شان سی اپنے دم بخود کر دینے والے سفری وسائل کو دوبارہ متعارف کرواتے ہوئے
کارپوریٹ کاربن رپورٹنگ کو نظرثانی کی ضرورت: کے پی ایم جی عالمی تحقیق
جے این اے ایوارڈز 2016ء اعزاز زمرہ جات پیش کرتا ہے
ورلڈ ٹینس چیمپز کرسمس اسٹارز 2015کی مدد کریں گے
بریک تھرو انرجی کوالیشن زیرو-کاربن انرجی ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری کرے گا
یونین پے انٹرنیشنل نے “40 منتخب عالمی سیاحتی مقامات” ترجیحی منصوبے کا آغاز کردیا
تازہ ترین خبریں
- April 23, 2026
اشتہار
تازہ ترین
انجمن طلبہ اسلام کے سابق رفیق سہیل قادری کی والدہ انتقال کر گئیں
کراچی (پی پی آئی) انجمن طلبہ اسلام بولٹن مارکیٹ کراچی کے سابق رفیق سہیل قادری کی والدہ کا انتقال ہو گیا ہے ان کی نماز جنازہ جیلانی مسجد فوارہ چوک گارڈن کراچی میں ادا کی گئی۔پی پی آئی کے مطابق انجمن طلبہ اسلام کے سابقین،مصطفائی تحریک اور دیگر تنظیموں کے رہنماؤں عابد قادری ضیائی ودیگر نے اظہار افسوس کرتے ہوئے دعائے مغفرت کی ہے
گیس کی بڑھتی قیمتوں سے پیداواری لاگت پہنچ سے باہر،مصنوعات کی تیاری ناممکن
کراچی (پی پی آئی)کورنگی ایسو سی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) کے صدر اور پاکستان بزنس گروپ کے بانی فراز الرحمان نے گیس کی بڑھتی قیمتوں پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ گیس کی قیمتوں میں حالیہ تاریخی اضافے سے انڈسٹری کی بقاکا مسئلہ پیدا ہوجائے گا، پیداواری لاگت جو پہلے ہی پہنچ سے باہر ہے اس پر مصنوعات کی تیاری ناممکن ہوجائے گی۔پی پی آئی کے مطابق انہوں نے گیس کی قیمتوں میں اضافہ کے اقدام کو چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں کے لیے تباہ کن اور ناقابل عمل قرار دیا ہے جو صنعتی پیداوار میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ صدر کاٹی نے کہا کہ اس اقدام سے نہ صرف لارج اسکیل مینوفیکچررز، ایس ایم ایز بلکہ کاٹیج انڈسٹری بھی بری طرح متاثر ہوگی جس سے انڈسٹری کا پہیہ بند ہوجائے گا۔ نتیجہ میں بے روزگاری کا طوفان آئے گا۔ پاکستان کی معیشت اس موقع پر انڈسٹری کی بندش اور بے روزگاری کو برداشت کرنے کی متحمل نہیں۔صنعتوں کو ایس ایس جی سی کی طرف سے گیس کی فراہمی تقریباً350 ایم ایم سی ایف ڈی ہے جو کہ کل دستیاب گیس کا تقریباً 10 سے 12 فیصد ہے۔۔ انہوں نے وزیر اعظم اور وزیر توانائی سے اپیل کی کہ انڈسٹری کیلئے گیس کی قیمتوں میں کمی کرے ورنہ صنعتکار انڈسٹری بند کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔
بھاری نقصان کے بعد حکومت کا اسٹیل ملز پر واجبات کا ازسرنو جائزہ لینے کا فیصلہ
اسلام آباد(پی پی آئی) وفاقی حکومت نے 8 سال کی بندش کے دوران 18 ارب ڈالرز کے نقصان کے بعد پاکستان اسٹیل ملز کو نجکاری کی فہرست سے نکال کر اس کی منیجمنٹ کنسلٹنگ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف منیجمنٹ کو سونپ دی تاکہ وہ اس کی قانونی، مالیاتی اور انسانی وسائل سے متعلق ذمہ داریوں، واجبات کے ساتھ اس کے بنیادی اور غیر بنیادی اثاثوں کا ازسر نو جائزہ لے سکے۔پی پی آئی کے مطابق وزارت صنعت و پیداوار کے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ اس (انتظامی کنسلٹنگ) کا مقصد ہاؤسنگ سوسائٹیز، کنٹریکٹ پر مبنی معاہدے، قانونی معاملات، انسانی وسائل، اثاثوں اور انوینٹری سمیت پی ایس ایمز کے دیگر آپریشنز کا جائزہ لینا اور رپورٹ کرنا ہے۔ پاکستان اسٹیل ملز کو کم سے کم 7 اہم شعبوں کا احاطہ کرنا ہوگا جس میں اثاثے، واجبات، قانونی اور مالی مسائل شامل ہیں۔مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے اس کے مرکزی پلانٹ کو ہیٹ موڈ پر رکھنے کے علاوہ پاکستان اسٹیل ملز جون 2015 میں بند کر دی تھی، ایک اندازے کے مطابق جون 2015 میں اسٹیل مل کی بندش کے بعد سے پاکستان کو اسٹیل کی مصنوعات کی درآمدات کی وجہ سے 18 ارب ڈالرز کا نقصان ہوا، جو پہلے اسٹیل ملز میں تیار کی جاتی تھی۔ رپورٹ کے مطابق پی آئی ایم کو ’کم وقت میں بہت بڑا کام‘ سونپا گیا ہے۔مثال کے طور پر پاکستان اسٹیل ملز کی املاک بشمول اسٹیل ٹاؤن اور گلشن حدید سمیت گھروں کی کْل تعداد، ان کے سائز کی درجہ بندی، ان میں رہائشیوں کی بجلی، پانی، گیس سمیت دیگر یوٹیلیٹی کا استعمال اور ان کے واجبات اور اخراجات کا وسیع طور پر جائزہ لینا شامل ہے۔اس کے علاوہ اسٹیل ملز کے اثاثوں، آلات کی تفصیل، انفرااسٹرکچر کی معلومات سمیت تمام اثاثوں کے ساتھ موجودہ سطح اور سامان کی اقسام، اسٹاک میں موجود سپلائز اور مصنوعات کی تعداد اور اقسام سمیت انوینٹری منیجمنٹ کا بھی جائزہ لینا ہوگا۔سب سے بڑھ کر فنانشل اسٹیٹمنٹ کا تجزیہ ادارے کی مالی صحت اور کارکردگی کے بارے میں آگاہی ہے، دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سال مئی میں حتمی شکل دی گئی تازہ ترین مالیاتی اسٹیٹمنٹ سے پتا چلتا ہے کہ پاکستان اسٹیل ملز نے 30 جون 2022 کو ختم ہونے والے مالی سال 22-2021 میں بعد از ٹیکس تقریباً 7.45 ارب روپے کا خالص منافع کمایا، اس حقیقت کے باوجود کے اس کا 206 ارب کا مجموعی نقصان اس کے 195.5 ارب روپے کے اثاثوں سے زائد ہے۔پاکستان اسٹیل ملز کے کل اثاثوں کی مالیت 838.66 ارب روپے ہے، جس میں 751 ارب روپے مالیت کی جائیداد شامل ہے جبکہ 17 ہزار ایکڑ سے زائد اراضی، ہزاروں گھر، کئی ہسپتال، تعلیمی سہولیات وغیرہ، پلانٹ اور مشینری اور 71 ارب روپے کی جائیدادوں میں کی گئی سرمایہ کاری کے علاوہ دیگر اسٹاک وغیرہ شامل ہے۔
تلاش کریں
خبریں
شان سی اپنے دم بخود کر دینے والے سفری وسائل کو دوبارہ متعارف کرواتے ہوئے
(December 4, 2015)
سیان، چین، 4 دسمبر 2015ء/پی آرنیوزوائر– زمین سے 7000 فٹ کی بلندی پر کھڑی چٹان سے چپکے دو مہم جو – امریکا کے کیئرسٹن رچ اور آسٹریلیا کے ٹائسن میئر نے شان سی، چین میں 7 روزہ ثقافتی کھوج میں اپنی حدوں کو آزمایا۔ گو کہ سیان اب چین کا سیاسی دارالحکومت نہیں رہا لیکن شاہراہ ریشم کے نقطہ آغاز کی حیثیت سے سیان کا شاندار ماضی اور 1,100سالوں تک شہنشاہوں کے مسکن کی حیثیت نے اس مقام کو گراں قدر ورثے دیے ہیں۔ 21 ستمبر 2015ء میں سفر کے ان دو شوقین افراد کو شان سی صوبائی سیاحتی انتظامیہ نے مدعو کیا، جس نے غیر روایتی انداز میں شان سی کے حسن کو تسخیر کرنے کے مقصد کے ساتھ “شان سی سیلفی کلچر ہنٹ” شروع کیا ہے۔ جنوب سے شمال تک دو سفری ماہرین دنیا کےمشہور ترین تاریخی عجوبے – ٹیراکوٹا جنگجوؤں- پر ہی نہیں، بلکہ ایسے پوشیدہ جواہر پر بھی نظر ڈالیں گے جو کم معروف اور سیاحوں کی جانب سے کم دیکھے جاتے ہیں۔ اس دورے کی اہم جھلکیوں میں سے ایک ماؤنٹ ہوا نے اپنی چونکا دینے والی بلندی اور حیران کن منظر سے سوشل میڈیا کو جکڑ لیا جسے ہم صرف فلمی مناظر میں پا سکتے ہیں۔ سیلفی تھیم کے ساتھ سیان شہر کی فصیل اور ہوکو آبشار سمیت دیکھے گئے11 مقاماتکے ثقافتی و تاریخی جوہر کو بصری اعتبار سے متاثر کن روزنامچہ میں بخوبی کشید کیا گیا۔ نیٹ باسی دو افراد کے لیے مفت دوطرفہ سفر یا ایک مفت خاص سیلفی اسٹک جیتنے کے لیے پسندیدہ سیلفی کو ووٹ دے سکتے ہیں۔ آن لائن مہم نے 50 سے زیادہ ممالک کے 13,000 سے زیادہ شرکا ریکارڈ کیے، جس میں برطانیہ، جرمنی، کینیڈا اور جاپان شامل رہے۔ 15 اکتوبر کو 2,300درخواستیں موصول ہوئی تھیں۔ دو شان سی “ثقافتی شکاری” کیئرسٹن رچ اور ٹائسن میئر کے درمیان پولنگ حتمی مرحلے میں سخت ہوگئی تھی۔ O2O مہم “شان سی کلچر ہنٹ” نے کامیابی کے ساتھ دنیا کو شان سی کے شاندار اور متاثر کن سفری مسائل یاد دلائے۔ سال بھر میں اس کے جداگانہ موسم اور غیر ملکی سیاحوں کے لیے جامع سفری نیٹ ورک نے ثقافتی فرار کے لیے بہترین میدان بناتا ہے۔ مقام کے بارے میں مزید تفصیلات کے لیے ملاحظہ کیجیےhttps://www.facebook.com/visitshaanxi/ شان سی صوبائی سیاحتی انتظامیہ کے بارے میں شان سی صوبائی سیاحتی انتظامیہ ایک حکومتی ادارہ ہے جو شان سی، چین میں سیاحت کی صنعت کے انتظام کا ذمہ دار ہے۔ مزید معلومات کے لیے ملاحظہ کیجیےhttp://english.shaanxi.gov.cn/۔
کارپوریٹ کاربن رپورٹنگ کو نظرثانی کی ضرورت: کے پی ایم جی عالمی تحقیق
(December 4, 2015)
سالانہ مالیاتی و کارپوریٹ ذمہ داری رپورٹوں میں سے اہم معلومات غائب عالمی رہنما ہدایات غیر مستقل طریقوں سے نمٹنے میں مدد دے سکتے ہیں پیرس، 3 دسمبر 2015ء/پی آرنیوزوائر– کے پی ایم جی سروے آف کارپوریٹ رسپانسبلٹی رپورٹنگ کے 2015ءایڈیشن کے مطابق دنیا کے سب سے بڑے اداروں کی کارپوریٹ رپورٹنگ ربط میں کمی رکھتی ہے، جو اسٹیک ہولڈرز کے لیے کسی ادارے کی کارکردگی کو باآسانی اور درست انداز میں دوسرے سے تقابل کرنا تقریباً ناممکن بناتی ہے۔ کے پی ایم جی کے رکن اداروں میں ماہرین نے دنیا کے بڑے 250 اداروں کی سالانہ مالی و کارپوریٹ ذمہ داری رپورٹوں میں شائع شدہ کاربن معلومات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے پایا کہ ہر ان رپورٹوں میں 5 میں سے 4 اداروں نے کاربن پر گفتگو کی ہے، اور شائع شدہ معلومات کی اقسام اور معیار ڈرامائی طور پر مختلف ہے۔ مثال کے طور پر صرف نصف جی250 (53 فیصد) اپنے ادارے کی رپورٹوں میں کاربن کمی کو ہدف بناتے ہیں، اور ان میں سے دو تہائی اس وضاحت کے لیے کوئی دلیل پیش نہیں کرتے کہ یہ ہدف کیوں منتخب کیے گئے تھے۔ اخراج کی رپورٹ کردہ اقسام بھی کافی مختلف ہیں۔ رپورٹ کرنے والے اداروں کی اکثریت نے اپنے آپریشنز (84 فیصد) اور خریدی گئی توانائی (79 فیصد) سے اخراج کو رپورٹ کیا، صرف نصف (50 فیصد) نے اپنی رسدی زنجیر سے اخراج کی رپورٹ دی۔ دس میں سے ایک سے بھی کم (7 فیصد) اداروں اپنی مصنوعات و خدمات کے استعمال اور ٹھکانے لگانے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے اخراج کی معلومات شامل کی۔ تقریباً نصف (51 فیصد) اداروں نے اپنی کمپنی رپورٹوں میں کاربن پر گفتگو کی اور متبادل ذرائع پر تفصیلی معلومات کے حوالے دیے ہیں جیسا کہ سی ڈی پی ڈیٹا برائے سرمایہ کاران۔ باقی نصف نے ایسا نہیں کیا۔ وم بارٹیلس، نیدرلینڈز میں کے پی ایم جی کے ایک شراکت دار اور ماحول دوست رپورٹنگ اور یقین دہانی کے شعبے میں کے پی ایم جی کے عالمی سربراہ کے پی ایم جی کے سروے کے اہم لکھاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ: تمام اسٹیک ہولڈرز کو اداروں کی سالانہ مالیاتی یا کارپوریٹ ذمہ داری رپورٹوں میں کمپنی کی کاربن کارکردگی پر اچھے معیار کی قابل تقابل معلومات تک رسائی ہونی چاہیے۔ آج حقیقت یہ نہیں ہے۔ “کاربن پر بہتری اور عالمی رپورٹنگ رہنما ہدایات کی واضح ضرورت ہے جو اس مسئلے کے حل میں مدد دے سکتی ہے۔ اس معاملے سے نمٹنا صرف اداروں کے آسرے پر نہیں چھوڑا جا سکتا؛ صنعتی انجمنوں،ضابطے کے اداروں، معیار بند، سرمایہ کار اور دیگر سب کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔” کے پی ایم جی کی تحقیق مالیاتی استحکام بورڈ کی جانب سے جی20 کو پیش کردہ حالیہ تجویز کے بعد آئی ہے جس میں ایک ٹاسک فورس کے قیام کا مطالبہ کیا گیا ہے جو اداروں کو قرض دہندگان، بیمہ کاران، سرمایہ کاران اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کی مدد کے لیے مسلسل موسمیات سے متعلق انکشافات سے آگاہ رکھے تاکہ ضروری خطرات سے آگہی مل سکے۔1کلائمٹ اسٹینڈرڈز ڈسکلوژر بورڈ (سی ڈی
جے این اے ایوارڈز 2016ء اعزاز زمرہ جات پیش کرتا ہے
(December 3, 2015)
ہانگکانگ، 3 دسمبر 2015ء/پی آرنیوزوائر– اگلے سال اپنے قیام کا پانچواں جشن منانے والے زیورات اور قیمتی پتھر کی صنعت کے اہم پلیٹ فارم جے این اے ایوارڈزنے اپنے اعزاز کے زمروں میں تبدیلی کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعزاز جدت طراز اور بڑی کامیابی حاصل کرنے والی شخصیات اور اداروں کو تسلیم کرتا ہے۔ مکمل ملٹیمیڈیا اعلامیہ: http://en.prnasia.com/mnr/jnaawards_201511en.shtml تقریب کے منتظم، جے این اے (جیولری نیوز ایشیا)، نے چند زمروں میں تبدیلیاں کی ہیں تاکہ زیادہ خطوں کے لیے وسیع پیمانے پر شرکت کی حوصلہ افزائی کی جا سکے، اور دریں اثنا، چند زمروں کو مضبوط کرے جو معیار کے اسی مجموعے پر جانچےگئے ہیں۔ 2016ء میں جے این اے ایوارڈز11 زمروں کا حامل ہوگا، جس میں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ شامل ہوگا جس کو حاصل کرنے والے کا انتخاب منتظم کی جانب سے ہوگا۔ مذکورہ بالا فہرست میں مینوفیکچرر آف دی ایئر کے دو زمروں کو وسیع تر کیا گیا ہے تاکہ ساخت گری کے شعبے کے لیے وسیع تر اسٹیکہولڈر شمولیت کی حوصلہ افزائی ہو۔ آؤٹاسٹینڈنگانٹرپرائز آف دی ایئر کے زمروں کی وسعت بھی پھیلائی گئی ہے تاکہ آسیان اور چین کے خطوں سے باہر کے اداروں کو بھی اعزازات میں شمولیت کے لیے متاثر کیا جائے۔ جے این اے کے بانی، یو بی ایم ایشیا میں جیولری گروپ کے ڈائریکٹر آف بزنس ڈیولپمنٹاور جے این اے ایوارڈز ججوں کے پینل کے چیئرلیتیتیا چاؤ نے کہا کہ “منتظم کی حیثیت سے ہم تقریب کو بہتر بنانے اور زیادہ اہل درخواستوں کی توجہ مبذول کروانے کے لیے ہر سال خود کو چیلنج کر رہے ہیں۔ ہم نے صنعت کی آواز کو بھی سنا اور ان کا جواب دیا۔ چند زمرہ ججوں کے لیے ویسے ہی معیار کے حامل ہیں اور ان زمروں کو زیادہ مقابلے کا بنائے گی۔ “مزید برآں،ہمآؤٹاسٹینڈنگانٹرپرائز آف دی ایئر زمرے کو پھیلا چکے ہیں تاکہ کوریا اور چین کے اداروں کو شامل کر سکیں۔ لہٰذا، کوریا، ہانگکانگ اور تائیوان میں اداروں کو زمرے میں داخل ہونے اور اپنی بہترین کاروباری مشق پیش اور ظاہر کرنے کا موقع ہوگا۔ ہماری نظریں آنے والے سال میں اعلیٰ معیار کی شخصیات اور اداروں کی بڑھتی ہوئی شرکت کا خیرمقدم کرنے پر مرکوز ہیں۔” 2012ء میں اپنے آغاز سے اب تک جے این اے ایوارڈزنے اپنی کوششیں صنعتی اسٹیکہولڈرز کی کامیابیوں کی ترویج، صنعتی معیارات کو بڑھانے اور بہترین کاروباری مشقوں کو سہارا دینے سے وابستہ کی ہیں۔ جے این اے ایوارڈز 2016ء اپنے ہیڈ لائن پارٹنر کی حیثيت سے ریو ٹنٹو ڈائمنڈز اور چاؤ ٹائی فوک کو رکھتا ہے، جبکہ ڈایارف گروپ، اسرائیل ڈائمنڈ انسٹیٹیوٹ گروپ آف کمپنیز، شنگھائی ڈائمنڈ ایکسچینج، اور گوانگڈونگلینڈہولڈنگز لمیٹڈ فخریہ شراکت دار ہیں۔ ججوں کے معیار اور 2016ء کے اوائل میں آن لائن رجسٹریشن کے بارے میں مزید اعلانات کے لیے ساتھ رہیے۔ درخواستیں جمع کرنے کا عرصہ مارچ سے اپریل 2016ء ہوگا۔ ایوارڈ زمروں کی مکمل فہرست:http://www.jnaawards.com/AwardsEntry/tabid/4969/Default.aspx#.Vl6manYrKM8 جے این اے ایوارڈزمارکیٹنگ یو بی ایم ایشیا (ہانگکانگ) 852-2516-2184+ [email protected]
ورلڈ ٹینس چیمپز کرسمس اسٹارز 2015کی مدد کریں گے
(December 1, 2015)
گوران ایوانسوک اور جرمیلا 19دسمبر کو ہونے والے ٹوائے رن ایونٹ کی سربراہی کرے گے اور رضاکاروں کے ہمراہ پروگرام سے مستفید ہونے والو کو کرسمس کے تحائف فراہم کریں گے سنگا پور 01 دسمبر 2015ء/پی آرنیوزوائر– او یو ای لمیٹیڈ اور مندارین آرچرڈ سنکاپورکی جانب سے مشترکہ طور پرچھ سال سے کرسمس اسٹار کمیونٹی پروگرام منعقد کیا جا رہا ہےتین حصوں پر مشتمل یہ پروگرام 2010میں شروع کیا گیا تھا جس کا مقصد کرسمس کی خوشیوں میں بچوں کی خصوصی اور بیماریوں کی ضروریات کو پورا کرنا ہے جب سے کرسمس اسٹارز سالانہ روایت بنی ہے تب سے اسے مالی حصہ داروں، رضا کاروںاورامداد دہنگان کی بے لوث حمایت حاصل ہوئی ہیں۔ (L to R) Thio Gim Hock, CEO and Group MD of OUE Limited, with Tan Kim Seng, COO of Meritus Hotels & Resorts, at the ceremonial kick-off of Stars of Christmas 2015۔ http://photos.prnasia.com/prnvar/20151130/8521508153 معاونت کرنے والوں میں سنگاپور کے کرسلر جیپ آٹوموٹیو لمیٹڈ، کومکو موٹرسائیکلز پی ٹی ای لمیٹڈ اور کمیونٹی چیسٹ شامل ہیں جو نیشنل کونسل آف سوشل سروسز کے لیے فنڈ اکھٹا کرنے اور انتظامی معاملات طے کرتے ہیں۔ اس سال بھی سنگاپور کی مارینا مینڈرم کی شرکت متوقع ہے ۔ کرسمس اسٹارز 2015 کا افتتاح مندارین آرچرڈ سنگاپور کے دالان میں او یو ای کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر اور گروپ مینیجنگ ڈآئریکٹر جناب تھیو جم ہاک کی سربراہی میں کرسمس اسٹارز کے رسمی انداز سے ہوگا۔کرسمس اسٹارز مندارین آرچرڈ سنگاپور اور مرینا مینڈرین سنگاپور کو کرسمس ٹری سے سجائیں گے جس میں ہر شراکت دار کا نام، عمر اور صنف کو واضح کیا جائے گا جبکہ عطیہ کنندگان کے لیے جب وہ تحفے خریدیں گے ان کی بہترین معلومات کے لیے ۔ 10 دسمبر کو کرسمس اسٹارز 2015 کے فوائد حاصل کرنے والوں کے والدین ، بہن بھائی اور سرپرستوں کو خصوصی مہمان کا اعزاز دیا جائے گا جس کی میزبانی او یو ای کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر ڈاکٹر اسٹیفن ریاڈی کریں گے۔ بچے او یو ای کے ملازمین اور ان سے ملحق کمپنیوں کے ملازمین سے کرسمس کی دعوت اور جشن کے لیے مندارین آرچرڈ سنگاپور میں ایک سہپرکو ملیں گے ، جس میں سانتا اور اس کے ساتھی تحفے پیش کریں گے ۔ کرسمس اسٹارز 2015 کا اختتام عالمی ٹینس کھلاڑی گوران ایوانسوک اور جرمیلا گوجدوسووا کی شرکت کے ساتھ ہوگا جس دوران ٹوائے رن اکٹیویٹ کا انعقادکیا جائے گاجو تمام عوامی ارکان کے لئے 19دسمبر کی صبح9:00بجےکھول دیا جائے گا ۔ جس میں رضاکارمنڈرین گیلری کے سامنے آرچرڈ روڈ پر اپنی جیپ اور موٹرسائکل چلائیں گے۔پروگرام کے اختتام پر تمام بچوں کے لئے آرچرڈ روڈ سے عطیہ کیا گیا کرسمس تحائف رضاکاروں کے ذریعہ ان کے گھر وںاور اسپتالوں میں بجوایا جائے گا۔ اس سال اسٹارز کرسمس کمیونٹی پروگرام کے تحت 800سے زائد افراد تحائف سے مستفید ہو سکیں گے ۔ پریس رابطہ : جورڈن اساک کارپوریٹ کمیونیکیشنز او یو ای لیمٹڈ فون : 65-6809-6052+ ای میل : [email protected] جینس ازوپرڈو برانڈنگ اینڈ کمیونیکیشنز میریٹس ہوٹل اینڈ ریزورٹس فون : 65-6831-6385+ ای میل : [email protected] فوٹو :http://photos.prnasia.com/prnh/20151130/8521508153
بریک تھرو انرجی کوالیشن زیرو-کاربن انرجی ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری کرے گا
(December 1, 2015)
بل گیٹس کی زیر قیادت نجی شعبہ کی کوشش عوامی شعبے کے مشن انوویشن منصوبے کے ساتھ تعاون کرے گی پیرس، 29 نومبر 2015/پی آرنیوزوائر– آج پیرس میں جاری ہونے والا بریک تھرو انرجی کوالیشن نجی سرمایہ کاروں کا ایک عالمی گروپ ہے جو خطرات مول لے گا، ابتدائی مرحلے میں موجود ایسی توانائی کمپنیوں کے لیے، جو جدت کو تجربہ گاہ سے باہر نکال کر مارکیٹ تک لانے کی سہولت دیں گی۔ گروپ ایسے اداروں میں سرمایہ کاری کرے گا جو قابل بھروسہ زیرو کاربن انرجی بنانے کا بہترین امکان رکھتے ہوں، جو سب کے لیے مناسب قیمت پر دستیاب ہو۔ بریک تھرو انرجی کوالیشن 10 ممالک کے 25 سے زیادہ سرمایہ کاروں پر مشتمل ہے۔ مشن انوویشن کے ساتھ تعاون میں جاری ہو رہی ہے جو 15 سے زیادہ حکومتوں کی ایک بین الاقوامی کوشش ہے جو ابتدائی مرحلے کی توانائی تحقیق اور ڈیولپمنٹ سے وابستگی کو دوگنا کرنے کےی لیے ہے تاکہ ایسی ٹیکنالوجیز دریافت اور ایجاد کی جائیں جو ان سرمایہ کاروں کو آگے بڑھائے جانے اور مارکیٹ میں پیش کرنے کے قابل حل تیار کرنے میں مدد دے سکیں، اور مستقبل میں مختلف ذریعوں سے توانائی حاصل کرنے کو ممکن بنا سکے۔ مزید جاننے کے لیے دیکھیں http://www.breakthroughenergycoalition.com۔
یونین پے انٹرنیشنل نے “40 منتخب عالمی سیاحتی مقامات” ترجیحی منصوبے کا آغاز کردیا
(November 27, 2015)
شنگھائی، چین، 26 نومبر 2005ء/سن ہوا-ایشیانیٹ — یونین پے انٹرنیشنل نے 25 نومبر کو اعلان کیا ہے کہ وہ اب “40 منتخب عالمی سیاحتی مقامات” ترجیحی پروگرام کا آغاز کرتا ہے۔ اب سے 29 فروری 2016ء تک عالمی یونین پے کارڈ کے حامل افراد (62 سے شروع ہونے والے کارڈ نمبر) دنیا بھر میں 300 سے زیادہ تاجروں کے پاس 15 فیصد تک رعایت کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ یہ پروگرام شاپنگ مقامات اور ریستورانوں جیسے روایتی تاجروں پر ہی نہیں، بلکہ ہوائی ٹکٹوں اور ہوٹل کے کمروں کی بکنگ، عوامی ٹرانسپورٹ اور تفریحات میں بھی خصوصی رعایت دیتا ہے، یوں سفر کے دوران کارڈ یافتگان کے ادائیگی تجربے کو جامع طور پر بہتر بنا سکتا ہے۔ یونین پے انٹرنیشنل کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق چائنا ٹورازم اکیڈمی توقع رکھتی ہے کہ 2015ء میں چین کے بیرون ملک جانے والے سیاحوں کے اخراجات 1.1 ٹریلین یوآن تک پہنچ جائیں گے اور مستقبل میں مستقل اضافہ جاری رہے گا۔ بیرون ملک سیاحوں کے اخراجات زیادہ معقول اور متنوع ہیں۔ چینی سیاحوں کے بیرون ملک اخراجات میں سب سے زیادہ اب بھی خریداری ہے، جن کے بعد رہائش اور نقل و حرکت پر اخراجات آتے ہیں۔ تفریح، کھانوں اور مقامات کے ٹکٹوں پر آنے والے اخراجات کے تناسب میں سال بہ سال اضافہ ہوا ہے۔ روز مرہ ضروریات چینی سیاحوں کی جانب سے سب سے زیادہ خریدی جانے والی مصنوعات کے طور پر مرحلہ وار پرتعیش مصنوعات کی جگہ لے رہی ہیں، جبکہ مقامی فراغت و تفریح کے پروگراموں پر اخراجات بھی بڑھ ہی رہے ہیں۔ رپورٹ عالمی سیاحوں کے سفر میں نئے رحجانات بھی متعارف کرواتی ہے: بڑے پیمانے پر، زیادہ تواتر اور تنوع کے حامل مقامات۔ مزيد برآں جن مارکیٹوں میں یونین پے کارڈز بڑے پیمانے پر جاری ہوئے ہیں، جیسا کہ ہانگ کانگ، جنوبی کوریا اور جاپان میں> مقامی افراد بھی خصوصی پیشکشوں اور رعایتوں کا لطف اٹھانے کے لیے بارہا یونین پے کارڈز استعمال کرتے ہیں۔ پروگرام دو امتیازی خصوصیات رکھتا ہے۔ پہلے یہ بیشتر سیاحتی مقامات کا احاطہ کرتا ہے۔ روایتی مقامات کے علاوہ سیاحوں کی نئے پسندیدہ مقامات جیسا کہ انگ کور، بوراکے جزیرہ، بنٹان جزیرہ، سری لنکا اور سیشلس بھی پروگرام میں شامل ہیں، یوں کارڈ یافتگان کی متنوع سیاحتی ضروریات کو پورا کر رہا ہے۔۔ دوسرا، شامل تاجر بھی زیادہ متنوع ہیں۔ دکانوں، ہوٹلوں اور ریستورانوں کے علاوہ گرم حمام، شراب خانے، غوطہ خوری، گالف کے میدان، چائے خانے، عجائب گھر اور تھیم پارکس بھی اس میں شامل ہیں۔ اس وقت یونین پے غیر ملکی قبولیت نیٹ ورک 150 سے زیادہ ممالک اور خطوں پر پھیل چکا ہے، جو سیاحوں کی جانب سے زیادہ تر دیکھے جانے والے مقامات کا احاطہ کر رہا ہے۔ مزید برآں کارڈ استعمال کی وسعت میں مسلسل اضافے کے ساتھ یونین پے انٹرنیشنل کارڈ استعمال پیشکش اور سہولیات کے اپنے عالمی نظام کو آراستہ کرنے سے بھی وابستہ ہے۔ ہر سال یونین پے انٹرنیشنل ترجیحی پروگراموں کا ایک سلسلہ جاری کرتا ہے جو ہوائی اڈوں کی ڈیوٹی فری شاپس، اہم کاروباری علاقوں اور سیاحتی مقامات کا احاطہ کر