کراچی (پی پی آئی)دنیا کے دس سب سے سستے شہروں کی فہرست میں اسلام آباد اور کراچی شامل ہیں؛ ہانگ کانگ اور سنگاپور مہنگے ترین شہر قرار پائے ہیں۔ پی پی آئی کے مطابق عالمی سروے میں ہانگ کانگ، سنگاپور اور زیورخ کو دنیا کے تین مہنگے ترین شہر بتایا گیا ہے۔سوئٹزرلینڈ کے مزید تین شہر جنیوا، باسل اور برن بالترتیب چوتھے، پانچویں اور ساتویں نمبر پر ہیں۔سروے میں شامل شہروں کی اشیا اور مصنوعات کی قیمتوں کا موازنہ کیا گیا۔ سروے کے مطابق نیویارک شہر عالمی سطح پر چھٹے نمبر پر ہے جو امریکہ کا سب سے مہنگا شہر ہے۔ دیگر مہنگے ترین شہروں میں بالترتیب تل ابیب، کوپن ہیگن اور ناساو شامل ہیں۔ سروے میں دس سستے ترین شہروں کی بھی فہرست دی گئی ہے جس کے مطابق پاکستانی شہر اسلام آباد پہلے اور کراچی دوسرے نمبر پر سستا ترین شہر ہے۔ دیگر سستے ترین شہروں میں بالترتیب ہوانا، بشکیک، دوشنبے، ونڈہوک، انقرہ، ڈربن، تیونس اور تاشقند شامل ہیں۔
دونوں ممالک معاملے کو خود ہی حل کرلیں: امریکہ
ووٹرز کی تصدیق، تحفظ کیلیے فوج کی تعیناتی
ابوغریب کے قیدیوں کو زرِ تلافی کی ادائیگی
’ہلاکتیں ناقابلِ قبول مگر حالات بگڑنے نہیں دے سکتے‘
تازہ ترین خبریں
- April 22, 2026
اشتہار
تازہ ترین
عالمگیر ترین کی موت بظاہر خودکشی، فارنزک رپورٹ
لاہور(پی پی آئی)استحکام پاکستان پارٹی کے سربراہ جہانگیرترین کے بھائی عالمگیر ترین کی موت کی وجوہات سے متعلق فارنزک رپورٹ سامنے آ گئی ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں عالمگیر ترین کی موت بظاہر خودکشی ہے اور ان کی موت کی کوئی دوسری وجہ سامنے نہیں آئی۔عالمگیر ترین کے فون کال ڈیٹا میں منگیتر سے گفتگو کاریکارڈ مل گیا۔ پی پی آئی کے مطابق63 سالہ عالمگیر ترین اپنے گھر میں مردہ پائے گئے تھے۔ ان کی منگنی ہوئی تھی اور وہ رواں برس دسمبر میں شادی کرنے والے تھے۔اس وقت پولیس ذرائع نے کہا تھا کہ عالمگیر ترین نے پستول سے اپنے سر میں گولی ماری تھی۔
پاکستان اور ترکیہ میں ففتھ جنریشن لڑاکا طیاروں کی تیاری پر گفتگو
انقرہ/ اسلام آباد (پی پی آئی)سربراہ پاک فضائیہ ظہیراحمد بابر سدھو نے اپنے دورہ ترکیہ کے دوران اعلی ترک شخصیات سے ملاقاتیں سے ملاقاتیں کی ہیں،اورترکیہ کے ساتھ ففتھ جنریشن لڑاکا طیاروں کی تیاری، عسکری اورہوا بازی کے شعبے میں تعاون کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ پی پی آئی کے مطابق ائیر چیف مارشل ظہیراحمد بابر سدھو ترک صدررجب طیب ادوان کی خصوصی دعوت پرترکیہ کے تاریخی دورے پرپہنچے۔ائیرچیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے ترک ائیرفورس اکیڈمی میں گریجویشن اور پرچم کشائی کی تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔تقریب کے دوران سربراہ پاک فضائیہ نے ترک فضائیہ کے کمانڈر جنرل ضیا کمال کادیوگلو سمیت مختلف اعلی سطحی شخصیات سے ملاقات کی۔۔سربراہ پاک فضائیہ نے قطر کے وزیرمملکت برائے دفاع و نائب وزیراعظم ڈاکٹر خالد بن محمد العطیہ، آذربائیجان کے وزیردفاع کرنل جنرل ذاکر حسنوف اور ہنگری کی ڈیفنس فورسز کے چیف آف جنرل اسٹاف سے بھی ملاقاتیں کیں۔
کمیشن نہ بڑھانے پر پیٹرول پمپ ڈیلرز نے پھر ہڑتال کی دھمکی دے دی
کراچی (پی پی آئی)پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے بعد کمیشن نہ بڑھانے پر پیٹرول پمپ ڈیلرز نے ایک بار پھر ہڑتال کی دھمکی دے دی ہے۔پاکستان پیٹرولیم ایسوسی ایشن کے مرکزی چیئرمین عبدالسمیع خان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ یکم ستمبر تک ڈیلر کا مارجن بڑھانے کی ڈیڈ لائن دی گئی تھی لیکن ابھی تک اس پر کوئی عملدرآمد نہیں کیا گیا۔پی پی آئی کے مطابق انہوں نے کہا کہ حکومت اور دیگر ذمہ داران نے بیٹھ کر ہمارے ساتھ تحریری معاہدہ کیا تھا لیکن معاہدے کے باوجود وزارت پیٹرولیم کی جانب سے ڈیلر مارجن میں اضافہ نہیں کیا گیا۔عبدالسمیع خان نے یہ بھی کہا کہ موجودہ ڈیلر مارجن کے ساتھ ہم پیٹرول پمپ نہیں چلا سکتے کیونکہ اخراجات کا تناسب بہت بڑھ چکا ہے۔پاکستان پیٹرولیم ایسوسی ایشن کے مرکزی چیئرمین نے مزید کہا کہ ڈیلر مارجن فوری طور پر بڑھانے کا فیصلہ نہیں کیا تو ہم ہڑتال کی طرف جائیں گے۔
تلاش کریں
خبریں
کراچی پورٹ ٹرسٹ نے کارگو ہینڈلنگ کا نیا ریکارڈ قائم کیا
پنجاب بھر میں بشمول لاہور گرجا گھروں میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی
ماری پور روڈ پر پولیس مقابلہ، 2 ڈاکو ہلاک

دونوں ممالک معاملے کو خود ہی حل کرلیں: امریکہ
پاکستان اور بھارت کے درمیان لائن آف کنٹرول پر فوجیوں کی ہلاکت کے باعث کشیدگی پر امریکی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ سخت رویہ کسی معاملے کا حل نہیں اور امریکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تناؤ کم کرنے کے لیے کردار ادا کررہا ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان وکٹوریہ نولینڈ نے بتایا کہ اعلیٰ سطح پر تعلقات بہتر بنانے کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا ’اچھا ہوگا کہ دونوں ممالک معاملے کو خود ہی حل کرلیں اور اگر ایسا نہ ہوسکا اور معاملہ اقوامِ متحدہ تک گیا تب بھی امریکہ اس میں معاونت کرے گا۔‘ دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے ترجمان مارٹن نیسرکی نے پریس بریفنگ میں کہا کہ پاکستان اور ہندوستان کے فوجی حکام ہاٹ لائن پر رابطے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو چاہیے کہ جاری کشیدگی میں کمی کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کریں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ’پاکستان نے چھ جنوری کے واقعے کی باضابطہ شکایت اقوامِ متحدہ کے مبصر مشن سے کی ہے۔ مشن جتنا جلدی ممکن ہوا اپنے مینڈیٹ کے مطابق اس واقعے کی تحقاقات شروع کرے گا۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ آٹھ جنوری کے واقعے کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے مبصر مشن سے نہ تو پاکستان اور نہ ہی بھارتی فوج نے رابطہ کیا ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان نے کہا ہے کہ وہ لائن آف کنٹرول پر حالیہ خلاف ورزیوں کی اقوام متحدہ کے پاکستان بھارت میں مبصر مشن کے ذریعے تحقیقات کروانے کو تیار ہے۔

ووٹرز کی تصدیق، تحفظ کیلیے فوج کی تعیناتی
کراچی میں انتخابی فہرستوں کے تصدیقی عمل کے دوران سکیورٹی کے لیے فوجی اور نیم فوجی اہلکاروں کی تعیناتی کا عمل بدھ سے شروع ہو رہا ہے۔ انتخابی کمیشن اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ان اہلکاروں کی تعیناتی الیکشن کمیشن کی درخواست پر کی جا رہی ہے اور ان کا کام عملے کو تحفظ فراہم کرنا ہو گا جبکہ انتخابی فہرستوں کی تصدیق صرف عملے کی ذمہ داری ہوگی ریڈیو پاکستان کے مطابق فوج ، ایف سی اور پولیس کے اہلکار شہر کے پانچوں اضلاع کراچی وسطی، غربی، شرقی، جنوبی اور ملیر میں تعینات ہوں گے اور انتخابی فہرستوں کی تصدیق کا عمل مکمل ہونے تک موجود رہیں گے۔ ہمارے نامہ نگار کے مطابق کراچی میں تقریباً چودہ ہزار افراد جمعرات دس جنوری سے شروع ہونے والے انتخابی فہرستوں کی تصدیق کے عمل میں شریک ہوں گے اور اس عملے کو سکیورٹی فراہم کرنے کے لیے سات ہزار فوجی اور نیم فوجی اہلکاروں کی تعیناتی کا امکان ہے۔ خیال رہے کہ ان اضلاع میں الیکشن کمیشن نے پہلے اٹھارہ ہزار عملے سے خدمات لینے کا فیصلہ کیا تھا تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مذاکرات کے بعد یہ تعداد کم کر کے تیرہ ہزار آٹھ سو کر دی گئی ہے۔ یاد رہے کہ پانچ دسمبر دو ہزار بارہ کو پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ نے کراچی کی انتخابی فہرستوں سے متعلق مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو شہر میں ووٹر فہرستوں کی تصدیق کے لیے فوج اور ایف سی سے مدد لینے کا حکم جاری کیا تھا۔ سپریم کورٹ کے جاری کردہ فیصلے میں انتخابی حکام کو کہا گیا تھا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ کسی بھی شہری کا ووٹ اس کی مرضی کے بغیر منتقل نہیں کیا گیا۔ اس حکم پر انتخابی فہرستوں کی تصدیق کا عمل شروع ہو رہا ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق ٹیمیں گھر گھر جا کر ووٹرز کی تصدیق اٹھارہ روز میں مکمل کر لیں گی اور شیڈول کے مطابق نادرا نئی ووٹرز لسٹوں کا اعلان چوبیس فروری کو کرے گی۔

ابوغریب کے قیدیوں کو زرِ تلافی کی ادائیگی
عراق کی ابو غریب جیل میں قیدیوں پر تشدد کے الزامات کا سامنا کرنے والی ایک نجی امریکی دفاعی کمپنی نے سابق قیدیوں کو زرِ تلافی کے طور پر پچاس لاکھ ڈالر ادا کیے ہیں۔ اس دفاعی کنٹریکٹر کی ذیلی کمپنی پر ابو غریب جیل میں قیدیوں پر تشدد کرنے کے الزامات ہیں۔ امریکی خبر رساں ادارے اے پی کو حاصل ہونے والی قانونی دستاویزات کے مطابق امریکی کمپنی اینجیلٹی ہولڈنگز نے ابو غریب جیل اور امریکہ کے زیر انتظام چلنے والے دیگر جیلوں کے اکہتر سابق قیدیوں کو ایل تھری نامی کمپنی کی جانب سے یہ معاوضہ ادا کیا۔ ایل تھری کمپنی نے عراق میں جنگ کے بعد امریکی فوج کے لیے مترجم کے طور پر کام کیا تھا۔ سال دو ہزار چار میں بغداد کی ابو غریب جیل میں قیدیوں پر تشدد کی تصاویر منظر عام آنے پر بین الاقوامی سطح پر سخت غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا۔ ایک اور نجی کمپنی سی اے سی آئی کو بھی متوقع طور پر اسی قسم کے الزامات پر عدالتی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس کمپنی نے امریکی فوج کو تفتیش کار مہیا کیے تھے۔ امریکی حکومت جنگ کے دنوں میں فوج کی کارروائی کی وجہ سے قانونی چارہ جوئی سے محفوظ ہے تاہم عدالتیں اب بھی اس بات کا جائزہ لے رہی ہیں کہ آیا نجی کمپنیوں کو بھی جنگ زدہ علاقوں میں اسی قسم کی استثنیٰ حاصل ہے۔ اینجیلٹی ہولڈنگز کی جانب سے زر تلافی ادا کرنا عراق جیل کے سابق قیدیوں کی جانب سے دفاعی ٹھیکیداروں کے خلاف دائر کردہ مقدمات میں پہلی کامیابی ہے۔ ایک سابق قیدی کے وکیل بہار اعظمی نے خبر رساں ایجنسی اے پی کو بتایا کہ تمام اکہتر قیدیوں کو معاوضہ ملے گا تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ معاوضے کی رقم تقسیم کیسے کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ تصفیے کے معاہدے کے تحت معاملات کو خفیہ رکھا جائے گا۔ بہار اعظمی کے مطابق نجی کنٹریکٹرز ابو غریب جیل میں بدسلوکی کے سنگین واقعات میں ملوث تھے اور اب ہمیں خوشی ہوئی ہے کہ تصفیے کے وجہ سے ان میں سے کچھ کنٹریکٹرز کا احتساب ہوا اور متاثرین کو کچھ انصاف ملا۔

’ہلاکتیں ناقابلِ قبول مگر حالات بگڑنے نہیں دے سکتے‘
بھارت کے وزیرِ خارجہ سلمان خورشید کا کہنا ہے لائن آف کنٹرول کے قریب پاکستانی فوج کی مبینہ کارروائی میں دو بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کا واقعہ ناقابلِ قبول ہے تاہم حالات کو مزید خراب ہونے دیا جا سکتا۔ اس سے قبل بھارتی حکام کی جانب سے کو اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ اس کارروائی کا ’متناسب‘ جواب دیا جائےگا جبکہ پاکستان کے عسکری حکام نے فائرنگ اور بھارتی فوجی کی ہلاکت کے الزامات مسترد کرتے ہوئے اسے بھارتی پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔ بھارتی حکومت نے بدھ کو نئی دلی میں پاکستان کے ہائی کمشنر کو طلب کر کے اپنے دو فوجیوں کے مارے جانے کے واقعے پر احتجاج کیا ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق اس ملاقات میں خارجہ سیکرٹری رنجن متھائي نے ہائی کمشنر سلمان بشیر سے کہا ہے کہ بھارت اس طرح کے واقعات قطعاً برداشت نہیں کرے گا اور پاکستان کو کنٹرول لائن کا احترام کرنا ہوگا۔ ہمارے نامہ نگار کے مطابق بدھ کو پریس کانفرنس میں وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ’اس واقعے کو مزید بڑھنے نہیں دیا جائے گا۔ ہماری جانب سے پاکستانی ہائی کمیشن کو گہری تشویش سے آگاہ کروا دیا گیا ہے۔ ہم ان کے رد عمل کا انتظار کریں گے لیکن یہ واقعہ ناقابل قبول ہے۔‘ انہوں نے اس سے قبل ایک مقامی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے بھی کہا تھا کہ یہ ایک انتہائی حساس معاملہ ہے اور ’ہمیں تمام حقائق کو ذہن میں رکھنا ہوگا۔یہ کارروائی قیام امن کو پٹری سے اتارنے کی کوشش معلوم ہوتی ہے۔۔۔اور ہمیں ایسا راستہ تلاش کرنا ہوگا کہ مذاکرات کا عمل تباہ نہ ہو جائے۔‘ بھارتی وزیرِ دفاع اے کے انٹونی نے اس سلسلے میں بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’پاکستانی فوج کی کارروائی انتہائی اشتعال انگیز ہے۔ انہوں نے بھارتی فوجیوں کی لاشوں سے جو سلوک کیا ہے وہ غیر انسانی ہے۔ہم حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور اس معاملے پر پاکستانی حکومت سے بات کریں گے۔‘

