کراچی(پی پی آئی) سابق گورنر سندھ اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما محمد زبیر نے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ نواز شریف وطن واپسی کیلئے چیف جسٹس پاکستان کی تبدیلی کا انتظار کر رہے تھے۔پی پی آئی کے مطابق محمد زبیر کا کہنا تھا کہ نئے چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ سے کوئی ریلیف نہیں چاہتے، ہم چاہتے ہیں کہ آئین و قانون کے مطابق فیصلے ہوں، نئے چیف جسٹس کا ایک زبردست ریکارڈ ہے اور ہم انصاف ہی چاہتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی واپسی کی تاریخ میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی، وہ تاریخ سے پہلے آ سکتے ہیں لیکن بعد کا سوال ہی نہیں، ان کے استقبال کیلیے ایسی تاریخ کا اعلان کیا گیا ہے۔
ابوغریب کے قیدیوں کو زرِ تلافی کی ادائیگی
’ہلاکتیں ناقابلِ قبول مگر حالات بگڑنے نہیں دے سکتے‘
تازہ ترین خبریں
ساؤتھ ایئر کے ملک گیر وسیع علاقائی فضائی نیٹ ورک کا آغاز
(July 22, 2026)
وانا میں سیکیورٹی فورسز کے ذریعہ بڑی دہشت گردی کی سازش ناکام
(July 18, 2026)
اشتہار
تازہ ترین
نواز شریف نے اپنی صاحبزادی مریم نواز کو فوری طور پر لندن طلب کر لیا
لندن(پی پی آئی)سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے اپنی صاحبزادی مریم نواز کو فوری طور پر لندن طلب کر لیا ہے۔پی پی آئی کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ چیف آرگنائزر (ن) لیگ مریم نواز کی آئندہ ہفتے لندن پہنچیں گی اور ایک ہفتہ قیام کا امکان ہے جہاں وہ نواز شریف سے ملاقات اور ان کی وطن واپسی کے معاملات کو حتمی شکل دیں گی۔ذرائع کے مطابق مریم نواز سابق وزیر اعظم کو استقبالیہ پلان کے حوالے سے بریف کریں گی۔ اور ملک کے موجودہ سیاسی و آئینی معاملات پر بھی مشاورت کی جائے گی۔خیال رہے کہ مسلم لیگ (ن) اور خود نواز شریف نے اپنی وطن واپسی کیلیے 21 اکتوبر کا اعلان کر رکھا ہے۔
سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویزالہٰی ایک بار پھر گرفتار؎
اسلام آباد(پی پی آئی) سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویزالہٰی کو ایک بار پھر گرفتار کرلیا گیا، وہ اڈیالہ جیل راولپنڈی سے رہا ہوئے ہی تھے کہ اینٹی کرپشن حکام نے صدر پی ٹی آئی اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویزالٰہی کو پھرحراست میں لے لیا، حکام نے بتایا کہ پرویزالہٰی اڈیالہ جیل راولپنڈی سے رہا ہوئے تھے۔حکام کا کہنا تھا کہ پرویزالہٰی کو راہداری ریمانڈ کیلئے مقامی عدالت لیجایا جارہا ہے اور شام تک اینٹی کرپشن ہیڈکوارٹر منتقل کیا جائے گا۔وکیل پرویز الہٰی عبدالرازق نے بتایا کہ پرویز الہٰی کو راہداری ریمانڈ کیلئے اڈیالہ سیجوڈیشل کمپلیکس لایاجارہا ہے، لاہور پولیس پرویز الہٰی کو راہداری ریمانڈ لیکر لاہور لیجانا چاہتی ہے۔عبدالرازق کا کہنا تھا کہ پرویز الہٰی کی جوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس میں ضمانت منظور ہے اور لاہور پولیس کسی اور مقدمے میں گرفتار کرکے لاہور لیجانا چاہتی ہے۔گذشتہ روز انسداددہشت گردی عدالت نے جوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کی منظور کرتے ہوئے رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔بعد ازاں سابق وزیر اعلیٰ پنجاب صدر پی ٹی آئی پرویز الٰہی کی ضمانت کے باوجود رہائی کا معاملہ لٹک گیا تھا، ان کے وکیل سردار عبدالرازق خان کا کہنا تھا کہ پرویز الٰہی کے ضمانتی مچلکے پیر کو جمع کروائیں گے، جس کے بعد رہائی کی روبکار عدالت جاری کرے گی۔
ڈیزل مہنگا ہونے سے نئی پریشانی، ٹرینوں کے کرائے مزید بڑھنے کا خدشہ
کراچی (پی پی آئی)ڈیزل کی قیمت میں حالیہ اضافے سے ریلوے پر اربوں روپے کا بوجھ پڑ گیا ہے جس کے بعد کرایوں ایک مرتبہ پھر سے اضافے کا امکان ہے۔پی پی آئی کے مطابق واضح رہے کہ گزشتہ ماہ اور رواں ماہ کے شروع میں بھی ریلویز کی جانب سے ٹرینوں کے کرائے بڑھائے گئے تھے۔حکام کے مطابق پاکستان ریلوے کے سسٹم پر روزانہ تقریبا ساڑھے تین لاکھ لیٹر ڈیزل استعمال ہوتا ہے، ڈیزل کی فی لیٹر17.34 روپے کا اضافے سے ریلوے پر روزانہ کی بنیاد پر 61 لاکھ روپے کا اضافی بوجھ بڑھے گا، اس لحاظ سے ایک ماہ کے دوران ساڑھے 18 کروڑ روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔واضح رہے کہ 16 اگست اور یکم ستمبر کو بھی ریلویز کی جانب سے ٹرینوں کے کرائے بڑھائے گئے تھے، 16 اگست کو 10 اور یکم ستمبر کو مسافر ٹرینوں اور مال بردار گاڑیوں کے کرایوں میں 5 فیصد اضافہ کیا گیا تھا۔
تلاش کریں
خبریں

ابوغریب کے قیدیوں کو زرِ تلافی کی ادائیگی
(January 9, 2013)
عراق کی ابو غریب جیل میں قیدیوں پر تشدد کے الزامات کا سامنا کرنے والی ایک نجی امریکی دفاعی کمپنی نے سابق قیدیوں کو زرِ تلافی کے طور پر پچاس لاکھ ڈالر ادا کیے ہیں۔ اس دفاعی کنٹریکٹر کی ذیلی کمپنی پر ابو غریب جیل میں قیدیوں پر تشدد کرنے کے الزامات ہیں۔ امریکی خبر رساں ادارے اے پی کو حاصل ہونے والی قانونی دستاویزات کے مطابق امریکی کمپنی اینجیلٹی ہولڈنگز نے ابو غریب جیل اور امریکہ کے زیر انتظام چلنے والے دیگر جیلوں کے اکہتر سابق قیدیوں کو ایل تھری نامی کمپنی کی جانب سے یہ معاوضہ ادا کیا۔ ایل تھری کمپنی نے عراق میں جنگ کے بعد امریکی فوج کے لیے مترجم کے طور پر کام کیا تھا۔ سال دو ہزار چار میں بغداد کی ابو غریب جیل میں قیدیوں پر تشدد کی تصاویر منظر عام آنے پر بین الاقوامی سطح پر سخت غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا۔ ایک اور نجی کمپنی سی اے سی آئی کو بھی متوقع طور پر اسی قسم کے الزامات پر عدالتی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس کمپنی نے امریکی فوج کو تفتیش کار مہیا کیے تھے۔ امریکی حکومت جنگ کے دنوں میں فوج کی کارروائی کی وجہ سے قانونی چارہ جوئی سے محفوظ ہے تاہم عدالتیں اب بھی اس بات کا جائزہ لے رہی ہیں کہ آیا نجی کمپنیوں کو بھی جنگ زدہ علاقوں میں اسی قسم کی استثنیٰ حاصل ہے۔ اینجیلٹی ہولڈنگز کی جانب سے زر تلافی ادا کرنا عراق جیل کے سابق قیدیوں کی جانب سے دفاعی ٹھیکیداروں کے خلاف دائر کردہ مقدمات میں پہلی کامیابی ہے۔ ایک سابق قیدی کے وکیل بہار اعظمی نے خبر رساں ایجنسی اے پی کو بتایا کہ تمام اکہتر قیدیوں کو معاوضہ ملے گا تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ معاوضے کی رقم تقسیم کیسے کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ تصفیے کے معاہدے کے تحت معاملات کو خفیہ رکھا جائے گا۔ بہار اعظمی کے مطابق نجی کنٹریکٹرز ابو غریب جیل میں بدسلوکی کے سنگین واقعات میں ملوث تھے اور اب ہمیں خوشی ہوئی ہے کہ تصفیے کے وجہ سے ان میں سے کچھ کنٹریکٹرز کا احتساب ہوا اور متاثرین کو کچھ انصاف ملا۔

’ہلاکتیں ناقابلِ قبول مگر حالات بگڑنے نہیں دے سکتے‘
(January 9, 2013)
بھارت کے وزیرِ خارجہ سلمان خورشید کا کہنا ہے لائن آف کنٹرول کے قریب پاکستانی فوج کی مبینہ کارروائی میں دو بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کا واقعہ ناقابلِ قبول ہے تاہم حالات کو مزید خراب ہونے دیا جا سکتا۔ اس سے قبل بھارتی حکام کی جانب سے کو اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ اس کارروائی کا ’متناسب‘ جواب دیا جائےگا جبکہ پاکستان کے عسکری حکام نے فائرنگ اور بھارتی فوجی کی ہلاکت کے الزامات مسترد کرتے ہوئے اسے بھارتی پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔ بھارتی حکومت نے بدھ کو نئی دلی میں پاکستان کے ہائی کمشنر کو طلب کر کے اپنے دو فوجیوں کے مارے جانے کے واقعے پر احتجاج کیا ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق اس ملاقات میں خارجہ سیکرٹری رنجن متھائي نے ہائی کمشنر سلمان بشیر سے کہا ہے کہ بھارت اس طرح کے واقعات قطعاً برداشت نہیں کرے گا اور پاکستان کو کنٹرول لائن کا احترام کرنا ہوگا۔ ہمارے نامہ نگار کے مطابق بدھ کو پریس کانفرنس میں وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ’اس واقعے کو مزید بڑھنے نہیں دیا جائے گا۔ ہماری جانب سے پاکستانی ہائی کمیشن کو گہری تشویش سے آگاہ کروا دیا گیا ہے۔ ہم ان کے رد عمل کا انتظار کریں گے لیکن یہ واقعہ ناقابل قبول ہے۔‘ انہوں نے اس سے قبل ایک مقامی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے بھی کہا تھا کہ یہ ایک انتہائی حساس معاملہ ہے اور ’ہمیں تمام حقائق کو ذہن میں رکھنا ہوگا۔یہ کارروائی قیام امن کو پٹری سے اتارنے کی کوشش معلوم ہوتی ہے۔۔۔اور ہمیں ایسا راستہ تلاش کرنا ہوگا کہ مذاکرات کا عمل تباہ نہ ہو جائے۔‘ بھارتی وزیرِ دفاع اے کے انٹونی نے اس سلسلے میں بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’پاکستانی فوج کی کارروائی انتہائی اشتعال انگیز ہے۔ انہوں نے بھارتی فوجیوں کی لاشوں سے جو سلوک کیا ہے وہ غیر انسانی ہے۔ہم حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور اس معاملے پر پاکستانی حکومت سے بات کریں گے۔‘

