اسلام آباد(پی پی آئی) سابق خاتون اول چیئر مین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست منظور- تفصیلا ت کے مطابق بشریٰ بی بی اپنے وکلا لطیف کھوسہ اور انتظا پنجو تھہ کے ہمراہ نیب عدالت میں پیش ہوئیں، بشریٰ بی بی کی جانب سے ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست جمع کرائی گئی تھی، احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کے رخصت پر ہونے کے باعث ڈیوٹی جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین نے درخواست پر سماعت کی، ڈیوٹی جج نے سابق خاتون اول کی 5لاکھ کے ضمانتی مچلکوں کے عوض 12 ستمبر تک ضمانت منظور کرلی، عدالت نے پولیس کو بشریٰ بی بی کو 12 ستمبر تک گرفتار کرنے سے روک دیا۔
تعلقات کی بہتری پر سوالیہ نشان: بھارتی وزیر خارجہ
دونوں ممالک معاملے کو خود ہی حل کرلیں: امریکہ
ووٹرز کی تصدیق، تحفظ کیلیے فوج کی تعیناتی
ابوغریب کے قیدیوں کو زرِ تلافی کی ادائیگی
’ہلاکتیں ناقابلِ قبول مگر حالات بگڑنے نہیں دے سکتے‘
تازہ ترین خبریں
اشتہار
تازہ ترین
بلوچستان میں امیگریشن ویزا سروس کا باقاعدہ آغاز کردیا گیا
کو ئٹہ(پی پی آئی) بلوچستان کے ضلع کیچ کے ایران سے متحصل سرحد علاقے ” ریدیگ مند” کراسنگ پوائنٹ پر امیگریشن ویزا سروس کا باقاعدہ آغاز کردیا گیا۔ اس موقع پر دونوں ہمسایہ ممالک کے حکام اور مقامی لوگوں نے دیرینہ مطالبہ پورا ہونے پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سرحد کے دونوں طرف سے عوام کو سہولت پہنچانے کیلئے باقاعدہ پاسپورٹ امیگریشن اور ویزہ سروس کا باضابطہ طور پر آغاز ایک اہم سنگ میل ہے۔ حکام سرحد کے دونوں جانب مسافروں اور زائرین کو بہترین سفری سہولیات فراہم ہوگی بلکہ ان اقدامات سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو فروغ ملے گا۔ مزید پڑھیں: دلہن کی عمر 25 سال یا اس سے کم ہونے پر بڑے انعام کا اعلان بلوچستان میں واقع پاک ایران سرحدی مقام ریدیگ مند پر یہ تیسرا امیگریشن اور ویزا انٹری پوائنٹ ہے جبکہ اس سے پہلے تفتان اور دوبست پنجاہ کے سرحد پر مقام پر امیگریشن اور ویزا انٹری پوائنٹ کا قیام کردیا گیا تھا۔
سائفر کیس میں اسد عمر کی عبوری ضمانت میں 14 ستمبر تک توسیع
اسلام آباد(پی پی آئی) سائفر کیس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور سابق وزیر خزانہ اسد عمر کی عبوری ضمانت میں 14 ستمبر تک توسیع کر دی گئی۔ سائفر کیس پر آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت اسلام آباد میں سماعت ہوئی، کیس کی سماعت جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے کی۔ سابق وزیر خزانہ اسد عمر اپنے وکیل بابر اعوان کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے جبکہ ایف آئی اے کی جانب سے سپیشل پراسیکیوٹر ذوالفقار نقوی عدالت میں پیش ہوئے۔فریقین کو سننے کے بعد عدالت نے اسد عمر کو شامل تفتیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے ان کی عبوری ضمانت میں 14 ستمبر تک توسیع کر دی۔عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ سابق وزیراعظم سائفر کے حوالے سے اپنا جواب ایف آئی اے کو دے چکے ہیں، سائفر ایک کلاسیفائیڈ دستاویز ہوتی ہے جو دفتر خارجہ سے باہر نہیں آسکتی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ جس کے پاس بھی ہوگی وہ سائفر کی کاپی یا ٹرانسلیشن ہوگی، اصل سائفر تو دفتر خارجہ سے باہر نکلتا ہی نہیں۔
رواں ماہ کے آخر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے کا خدشہ
کراچی (پی پی آئی)روپے کی قدر میں کمی اور بین الاقوامی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے پیش نظر رواں ماہ کے آخر اور ستمبر کے آغاز میں ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوسکتا ہے۔پی پی آئی کے مطابق بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں 24 اگست سے اوپر کی جانب بڑھ رہی ہیں،بینچ مارک برینٹ خام تیل 16 اگست کو 82 ڈالر کے مقابلے میں 84 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہورہا تھا۔عرب لائٹ کا خام تیل جو پاکستان استعمال کرتا ہے، وہ 88 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔پی پی آئی کے مطابق پاکستان اپنی زیادہ تر ایندھن کی ضروریات مشرق وسطی سے ریفائنڈ پیٹرولیم مصنوعات درآمد کرکے پورا کرتا ہے، اس لاگت کا حساب امریکی ڈالر میں کیا جاتا ہے۔امریکی ڈالرکی بڑھتی ہوئی قیمت نے پہلے ہی پاکستان کے لیے درآمد ہونے والی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے جس کا اثر صارفین پر پڑے گا۔
تلاش کریں
خبریں
سگ گزیدگی کے بڑھتے واقعات سنگین خطرہ ہیں:پاسبان
(June 17, 2026)
وزیراعظم سے مسلم لیگ (ن) کی خواتین ارکانِ پارلیمنٹ کی ملاقات
(June 17, 2026)
کھورواہ میں جھگڑے کے دوران خاتون ہلاک ،، 2 مرکزی ملزمان گرفتار
(June 17, 2026)

تعلقات کی بہتری پر سوالیہ نشان: بھارتی وزیر خارجہ
(January 10, 2013)
بھارت کے وزیر خارجہ سلمان خورشید نے بی بی سی اردو کو ایک انٹرویو میں بتایا ’پاکستانی فوجیوں نے ناجائز طور پر لائن آف کنٹرول پار کر کے بھارتی چوکی پر حملہ کیا جس میں دو بھارتی ’سپاہی شہید‘ ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا ’ہم نے پاکستان کے ہائی کمشنر کو بلا کو بہت سخت الفاظ میں اپنی بات کو ان کے سامنے رکھا کہ وہ اپنی حکومت کو یہ بات پہنچا دیں کہ اس قسم کی بربریت کی یقیناً نہ کوئی توقع کر سکتا ہے اور نہ ہی برداشت کر سکتا ہے‘۔ بھارتی وزیر خارجہ کے مطابق گزشتہ کچھ عرصے کے دوران دونوں ممالک نے حالات بہتر کرنے کی جو کوشش کی ہے اس پر ایک سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ اس سوال پر کہ بھارتی ذرائع ابلاغ میں تاثر دیا جا رہا ہے کہ بھارتی فوجیوں کی مسخ شدہ لاشیں برآمد ہوئی ہیں اور کے سر قلم کیے گئے ہیں تاہم پاکستانی فوج اور میڈیا اس بات سے انکار کرتا ہے، سلمان خورشید کا کہنا تھا ’ ظاہر ہے وہ آسانی سے دنیا کے سامنے اس بات کو قبول نہیں کریں گے لیکن ہمارے پاس ثبوت رہیں گے اور جب ضرورت پڑے گی تو یہ ثبوت دکھا دیے جائیں گے۔‘ ایک اور سوال کہ کیا دونوں بھارتی سپاہیوں کے سر قلم کیے گئے ہیں یا ایک کا سر قلم کیا گیا ہے کے جواب میں انہوں نے کہا ان کے پاس جو خبر ہے اس کے مطابق دونوں سپاہیوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا گیا ہے تاہم انہیں صرف ایک سپاہی کا سر قلم کرنے کی خبر ملی ہے۔’ہمیں اس کی پوری تفصیل بہت جلد مل جائے گی۔‘

دونوں ممالک معاملے کو خود ہی حل کرلیں: امریکہ
(January 10, 2013)
پاکستان اور بھارت کے درمیان لائن آف کنٹرول پر فوجیوں کی ہلاکت کے باعث کشیدگی پر امریکی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ سخت رویہ کسی معاملے کا حل نہیں اور امریکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تناؤ کم کرنے کے لیے کردار ادا کررہا ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان وکٹوریہ نولینڈ نے بتایا کہ اعلیٰ سطح پر تعلقات بہتر بنانے کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا ’اچھا ہوگا کہ دونوں ممالک معاملے کو خود ہی حل کرلیں اور اگر ایسا نہ ہوسکا اور معاملہ اقوامِ متحدہ تک گیا تب بھی امریکہ اس میں معاونت کرے گا۔‘ دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے ترجمان مارٹن نیسرکی نے پریس بریفنگ میں کہا کہ پاکستان اور ہندوستان کے فوجی حکام ہاٹ لائن پر رابطے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو چاہیے کہ جاری کشیدگی میں کمی کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کریں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ’پاکستان نے چھ جنوری کے واقعے کی باضابطہ شکایت اقوامِ متحدہ کے مبصر مشن سے کی ہے۔ مشن جتنا جلدی ممکن ہوا اپنے مینڈیٹ کے مطابق اس واقعے کی تحقاقات شروع کرے گا۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ آٹھ جنوری کے واقعے کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے مبصر مشن سے نہ تو پاکستان اور نہ ہی بھارتی فوج نے رابطہ کیا ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان نے کہا ہے کہ وہ لائن آف کنٹرول پر حالیہ خلاف ورزیوں کی اقوام متحدہ کے پاکستان بھارت میں مبصر مشن کے ذریعے تحقیقات کروانے کو تیار ہے۔

ووٹرز کی تصدیق، تحفظ کیلیے فوج کی تعیناتی
(January 9, 2013)
کراچی میں انتخابی فہرستوں کے تصدیقی عمل کے دوران سکیورٹی کے لیے فوجی اور نیم فوجی اہلکاروں کی تعیناتی کا عمل بدھ سے شروع ہو رہا ہے۔ انتخابی کمیشن اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ان اہلکاروں کی تعیناتی الیکشن کمیشن کی درخواست پر کی جا رہی ہے اور ان کا کام عملے کو تحفظ فراہم کرنا ہو گا جبکہ انتخابی فہرستوں کی تصدیق صرف عملے کی ذمہ داری ہوگی ریڈیو پاکستان کے مطابق فوج ، ایف سی اور پولیس کے اہلکار شہر کے پانچوں اضلاع کراچی وسطی، غربی، شرقی، جنوبی اور ملیر میں تعینات ہوں گے اور انتخابی فہرستوں کی تصدیق کا عمل مکمل ہونے تک موجود رہیں گے۔ ہمارے نامہ نگار کے مطابق کراچی میں تقریباً چودہ ہزار افراد جمعرات دس جنوری سے شروع ہونے والے انتخابی فہرستوں کی تصدیق کے عمل میں شریک ہوں گے اور اس عملے کو سکیورٹی فراہم کرنے کے لیے سات ہزار فوجی اور نیم فوجی اہلکاروں کی تعیناتی کا امکان ہے۔ خیال رہے کہ ان اضلاع میں الیکشن کمیشن نے پہلے اٹھارہ ہزار عملے سے خدمات لینے کا فیصلہ کیا تھا تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مذاکرات کے بعد یہ تعداد کم کر کے تیرہ ہزار آٹھ سو کر دی گئی ہے۔ یاد رہے کہ پانچ دسمبر دو ہزار بارہ کو پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ نے کراچی کی انتخابی فہرستوں سے متعلق مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو شہر میں ووٹر فہرستوں کی تصدیق کے لیے فوج اور ایف سی سے مدد لینے کا حکم جاری کیا تھا۔ سپریم کورٹ کے جاری کردہ فیصلے میں انتخابی حکام کو کہا گیا تھا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ کسی بھی شہری کا ووٹ اس کی مرضی کے بغیر منتقل نہیں کیا گیا۔ اس حکم پر انتخابی فہرستوں کی تصدیق کا عمل شروع ہو رہا ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق ٹیمیں گھر گھر جا کر ووٹرز کی تصدیق اٹھارہ روز میں مکمل کر لیں گی اور شیڈول کے مطابق نادرا نئی ووٹرز لسٹوں کا اعلان چوبیس فروری کو کرے گی۔

ابوغریب کے قیدیوں کو زرِ تلافی کی ادائیگی
(January 9, 2013)
عراق کی ابو غریب جیل میں قیدیوں پر تشدد کے الزامات کا سامنا کرنے والی ایک نجی امریکی دفاعی کمپنی نے سابق قیدیوں کو زرِ تلافی کے طور پر پچاس لاکھ ڈالر ادا کیے ہیں۔ اس دفاعی کنٹریکٹر کی ذیلی کمپنی پر ابو غریب جیل میں قیدیوں پر تشدد کرنے کے الزامات ہیں۔ امریکی خبر رساں ادارے اے پی کو حاصل ہونے والی قانونی دستاویزات کے مطابق امریکی کمپنی اینجیلٹی ہولڈنگز نے ابو غریب جیل اور امریکہ کے زیر انتظام چلنے والے دیگر جیلوں کے اکہتر سابق قیدیوں کو ایل تھری نامی کمپنی کی جانب سے یہ معاوضہ ادا کیا۔ ایل تھری کمپنی نے عراق میں جنگ کے بعد امریکی فوج کے لیے مترجم کے طور پر کام کیا تھا۔ سال دو ہزار چار میں بغداد کی ابو غریب جیل میں قیدیوں پر تشدد کی تصاویر منظر عام آنے پر بین الاقوامی سطح پر سخت غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا۔ ایک اور نجی کمپنی سی اے سی آئی کو بھی متوقع طور پر اسی قسم کے الزامات پر عدالتی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس کمپنی نے امریکی فوج کو تفتیش کار مہیا کیے تھے۔ امریکی حکومت جنگ کے دنوں میں فوج کی کارروائی کی وجہ سے قانونی چارہ جوئی سے محفوظ ہے تاہم عدالتیں اب بھی اس بات کا جائزہ لے رہی ہیں کہ آیا نجی کمپنیوں کو بھی جنگ زدہ علاقوں میں اسی قسم کی استثنیٰ حاصل ہے۔ اینجیلٹی ہولڈنگز کی جانب سے زر تلافی ادا کرنا عراق جیل کے سابق قیدیوں کی جانب سے دفاعی ٹھیکیداروں کے خلاف دائر کردہ مقدمات میں پہلی کامیابی ہے۔ ایک سابق قیدی کے وکیل بہار اعظمی نے خبر رساں ایجنسی اے پی کو بتایا کہ تمام اکہتر قیدیوں کو معاوضہ ملے گا تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ معاوضے کی رقم تقسیم کیسے کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ تصفیے کے معاہدے کے تحت معاملات کو خفیہ رکھا جائے گا۔ بہار اعظمی کے مطابق نجی کنٹریکٹرز ابو غریب جیل میں بدسلوکی کے سنگین واقعات میں ملوث تھے اور اب ہمیں خوشی ہوئی ہے کہ تصفیے کے وجہ سے ان میں سے کچھ کنٹریکٹرز کا احتساب ہوا اور متاثرین کو کچھ انصاف ملا۔

’ہلاکتیں ناقابلِ قبول مگر حالات بگڑنے نہیں دے سکتے‘
(January 9, 2013)
بھارت کے وزیرِ خارجہ سلمان خورشید کا کہنا ہے لائن آف کنٹرول کے قریب پاکستانی فوج کی مبینہ کارروائی میں دو بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کا واقعہ ناقابلِ قبول ہے تاہم حالات کو مزید خراب ہونے دیا جا سکتا۔ اس سے قبل بھارتی حکام کی جانب سے کو اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ اس کارروائی کا ’متناسب‘ جواب دیا جائےگا جبکہ پاکستان کے عسکری حکام نے فائرنگ اور بھارتی فوجی کی ہلاکت کے الزامات مسترد کرتے ہوئے اسے بھارتی پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔ بھارتی حکومت نے بدھ کو نئی دلی میں پاکستان کے ہائی کمشنر کو طلب کر کے اپنے دو فوجیوں کے مارے جانے کے واقعے پر احتجاج کیا ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق اس ملاقات میں خارجہ سیکرٹری رنجن متھائي نے ہائی کمشنر سلمان بشیر سے کہا ہے کہ بھارت اس طرح کے واقعات قطعاً برداشت نہیں کرے گا اور پاکستان کو کنٹرول لائن کا احترام کرنا ہوگا۔ ہمارے نامہ نگار کے مطابق بدھ کو پریس کانفرنس میں وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ’اس واقعے کو مزید بڑھنے نہیں دیا جائے گا۔ ہماری جانب سے پاکستانی ہائی کمیشن کو گہری تشویش سے آگاہ کروا دیا گیا ہے۔ ہم ان کے رد عمل کا انتظار کریں گے لیکن یہ واقعہ ناقابل قبول ہے۔‘ انہوں نے اس سے قبل ایک مقامی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے بھی کہا تھا کہ یہ ایک انتہائی حساس معاملہ ہے اور ’ہمیں تمام حقائق کو ذہن میں رکھنا ہوگا۔یہ کارروائی قیام امن کو پٹری سے اتارنے کی کوشش معلوم ہوتی ہے۔۔۔اور ہمیں ایسا راستہ تلاش کرنا ہوگا کہ مذاکرات کا عمل تباہ نہ ہو جائے۔‘ بھارتی وزیرِ دفاع اے کے انٹونی نے اس سلسلے میں بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’پاکستانی فوج کی کارروائی انتہائی اشتعال انگیز ہے۔ انہوں نے بھارتی فوجیوں کی لاشوں سے جو سلوک کیا ہے وہ غیر انسانی ہے۔ہم حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور اس معاملے پر پاکستانی حکومت سے بات کریں گے۔‘

