اسلام آباد (پی پی آئی)سپریم کورٹ نے انٹرسروسز انٹیلی جنس ایجنسی (آئی ایس آئی) کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کیخلاف زمین پر مبینہ قبضے کے حوالے سے دائر کردہ درخواست نمٹا دی۔سپریم کورٹ میں لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کیخلاف زمین پر مبینہ قبضے کے الزام میں ہیومن رائٹس کیس کی سماعت ہوئی جس کے دوران معیز احمد نامی درخواستگزار عدالت عظمیٰ میں پیش ہوئے اور موقف اختیار کیا کہ 2017 میں فیض حمید کے حکم پر انکے گھر اور ا?فس پر ریڈ کیا گیا اور اس غیر قانونی کارروائی کا مقصد ہاوسنگ پراجیکٹ کا کنٹرول حاصل کرنا تھا۔درخواستگزار کی جانب سے استدعا کی گئی کہ عدالت عظمیٰ فیض حمید کے خلاف شواہد پیش کرنے کی اجازت دے۔دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے درخواستگزار سے مکالمہ کیا کہ ا?پ نے اپنی درخواست میں سنگین الزامات عائد کیے ہیں اور انہوں نے استفسار کیا کہ کیا کیس میں خود پیش ہوں گے یا وکیل کیذریعے پیروی کریں گے؟ جس پر درخواستگزار نے بتایا کہ ایک روز قبل ہی وکیل کیا کہ سماعت مختصر عرصے کے لیے ملتوی کر دیں۔چیف جسٹس نے التوا کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ التوا نہیں دیں گے ابھی ہی تیاری کر لیں۔سماعت کے دوران چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ درخواست گزار نے حکومت اور کچھ شخصیات پر الزامات لگائے ہیں، کیا یہ 184 تین کا مقدمہ بنتا ہے؟، جبکہ جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ ہیومن رائٹس سیل اور سپریم کورٹ میں فرق کو سمجھیں، ہیومن رائٹس سیل کا کوئی قانونی اختیار ہے نہ ہی حیثیت ہے، سیل ناانصافی کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ کوئی بھی چیف جسٹس ایسی کوئی کارروائی نہیں کرسکتا جو عدالتی نوعیت کی نہ ہو، بدقسمتی سے 2010 سے سپریم کورٹ کے نام پر ایچ ا?ر سیل خط لکھ رہا ہے۔جسٹس امین الدین خان نے استفسار کیا کہ سپریم کورٹ رولز کے مطابق موجودہ کیس کہاں فٹ آئی ہے؟۔چیف جسٹس نے کہا کہ آئین اور قانون کے مطابق کوئی چیف جسٹس یا جج چیمبر میں کارروائی نہیں کرسکتا، رولز میں چیمبر سماعت صرف رجسٹرار اعتراضات کیخلاف اپیلوں پر ممکن ہے۔بعدازاں، سپریم کورٹ کی جانب سے درخواست نمٹا دی گئی اور عدالت عظمیٰ نے کہا کہ درخواست گزار کے پاس کارروائی کیلئے متعلقہ فورمز موجود ہیں، عدالت کیس کے میرٹس کو چھیڑے بغیر یہ درخواستیں نمٹاتی ہے۔عدالت عظمیٰ نے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے دور میں انسانی حقوق کے کیسز کی ہونے والی ان چیمبر سماعت کو بھی غیرقانونی قرار دے دیا۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ ان چیمبر کوئی بھی کیس صرف سماعت کے لیے فکس کیا جاسکتا ہے،چیف جسٹس ان چیمبر کسی کیس کا کوئی حکمنامہ جاری نہیں کرسکتے۔عدالت عظمیٰ نے درخوست گزار کو دیگر فورمز سے رجوع کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ریٹائرڈ آرمی افسر کے خلاف وزارت دفاع میں جانے کا آپشن موجود ہے۔
کارپوریٹ کاربن رپورٹنگ کو نظرثانی کی ضرورت: کے پی ایم جی عالمی تحقیق
جے این اے ایوارڈز 2016ء اعزاز زمرہ جات پیش کرتا ہے
ورلڈ ٹینس چیمپز کرسمس اسٹارز 2015کی مدد کریں گے
بریک تھرو انرجی کوالیشن زیرو-کاربن انرجی ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری کرے گا
یونین پے انٹرنیشنل نے “40 منتخب عالمی سیاحتی مقامات” ترجیحی منصوبے کا آغاز کردیا
118 واں کینٹن میلہ: “یکساں فروخت اور کلیدی شعبوں میں خریداروں کی تعداد مستقبل کے عہد کو ظاہر کرتی ہوئی”
تازہ ترین خبریں
- April 22, 2026
اشتہار
تازہ ترین
نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ 2 روزہ دورے پر ازبکستان پہنچ گئے
تاشقند (پی پی آئی)نگراں وزیراعظم انوارالحق کاکڑ دو روزہ دورے پر ازبکستان کے درالحکومت تاشقند پہنچ گئے۔ترجمان کے مطابق تاشقند پہنچنے پر ازبکستان کے اعلیٰ حکام نے نگراں وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کا استقبال کیا،پی پی آئی کے مطابق وزیرِاعظم تاشقند میں اقتصادی تعاون تنظیم کے16 ویں اجلاس میں شرکت کریں گے۔ قبل ازیں ازیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیرِ اعظم تاشقند میں اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ وزیرِ اعظم تاشقند میں اجلاس میں شریک عالمی رہنماؤں سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے۔
بجلی تقسیم کارکمپنیز کا انتظام صوبوں کے بجائے نجی شعبے کو دینے کا فیصلہ
اسلام آباد (پی پی آئی) وفاقی حکومت نے بجلی کی تقسیم کارکمپنیز کو صوبوں کو منتقلی کی تجویز مؤخر کرتے ہوئے کمپنیز کا انتظام صوبوں کے بجائے نجی شعبے کو دینے کا فیصلہ کرلیا۔حکام کے مطابق بجلی تقسیم کارکمپنیز کے مستقبل سے متعلق پلان فریم ورک تیار کرلیا گیا، پی پی آئی کے مطابق منصوبے کے تحت بجلی تقسیم کار کمپنیز کا انتظام صوبوں کے بجائے نجی شعبے کے حوالے کیا جائے گا تاہم کمپنیوں کی ملکیت حکومت کے پاس رہے گی، منیجمنٹ نجی شعبے کو20 سے25 سال تک حوالے کرنے کی تجویز ہے۔ ڈسکوز کے پلان کی منظوری وفاق کابینہ سے لی جائے گی۔حکام وزارت توانائی کے مطابق بجلی تقسیم کارکمپنیزسالانہ 590 ارب کے نقصانات کررہی ہیں،1200 ارب روپے سے زائد ریکوریاں زیر التوا ہیں، نجی شعبے کو ریکوریز میں پرافٹ دیا جائے گا۔ 50 ارب تک ریکوری میں 10 فیصد،100ارب ریکوری میں 15 فیصد منافع دینیکی تجویزہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پاور سیکٹر کا گردشی قرض 2500 ارب روپے ہے، وفاقی کابینہ سے نئے پلان کی سمری منظوری کے بعد عملدرآمد پر کام شروع کردیا۔
ای او بی آئی پنشنرز کیلئے عبوری امداد کا اعلان کرکے منصفانہ پنشن مقرر کی جائے: پنشنرز فورم
کراچی (پی پی آئی) ای او بی آئی پنشنرز فورم نے وزارت خزانہ کے اس فیصلہ کا خیر مقدم کیا ہے جس کے تحت وفاقی سول ملازمین کی کم از کم تنخواہ 32روپے مقرر کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔وزارت خزانہ کے نوٹیفکیشن کے مطابق اب وفاقی سول ملازمین، کنٹریکٹ ملازمین کیلئے کم سے کم تنخواہ 32000 ہزار ہو گی، وفاقی سول ملازمین کی کم سے کم تنخواہ 32000 روپے بجٹ میں مقرر کی گئی تھی۔وزارت خزانہ کے مطابق کم سے کم تنخواہ 32 ہزار روپے کے نوٹیفکیشن کا اطلاق یکم جولائی 2023سے ہو گا۔پی پی آئی کے مطابق ای او بی آئی پنشنرز فورم نے اپیل کی کہ ای او بی آئی پنشنرز کیلئے بھی عبوری امداد کا اعلان کرکے مصارف زندگی کے مطابق منصفانہ پنشن مقرر کی جائے کیونکہ موجودہ 10ہزار روپے کی ماہانہ پنشن مہنگائی کے اس دور میں قطعا ناکافی اور ضعیف العمر افراد کیساتھ مذاق ہے
تلاش کریں
خبریں
عالمی منڈی میں تیل سستا، حکومت بھی عوام کو فوری ریلیف دے: پاسبان
ڈی پی او جھنگ کا دورہ گڑھ مہاراجہ دربار حضرت سلطان باھوؒ
کارپوریٹ کاربن رپورٹنگ کو نظرثانی کی ضرورت: کے پی ایم جی عالمی تحقیق
سالانہ مالیاتی و کارپوریٹ ذمہ داری رپورٹوں میں سے اہم معلومات غائب عالمی رہنما ہدایات غیر مستقل طریقوں سے نمٹنے میں مدد دے سکتے ہیں پیرس، 3 دسمبر 2015ء/پی آرنیوزوائر– کے پی ایم جی سروے آف کارپوریٹ رسپانسبلٹی رپورٹنگ کے 2015ءایڈیشن کے مطابق دنیا کے سب سے بڑے اداروں کی کارپوریٹ رپورٹنگ ربط میں کمی رکھتی ہے، جو اسٹیک ہولڈرز کے لیے کسی ادارے کی کارکردگی کو باآسانی اور درست انداز میں دوسرے سے تقابل کرنا تقریباً ناممکن بناتی ہے۔ کے پی ایم جی کے رکن اداروں میں ماہرین نے دنیا کے بڑے 250 اداروں کی سالانہ مالی و کارپوریٹ ذمہ داری رپورٹوں میں شائع شدہ کاربن معلومات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے پایا کہ ہر ان رپورٹوں میں 5 میں سے 4 اداروں نے کاربن پر گفتگو کی ہے، اور شائع شدہ معلومات کی اقسام اور معیار ڈرامائی طور پر مختلف ہے۔ مثال کے طور پر صرف نصف جی250 (53 فیصد) اپنے ادارے کی رپورٹوں میں کاربن کمی کو ہدف بناتے ہیں، اور ان میں سے دو تہائی اس وضاحت کے لیے کوئی دلیل پیش نہیں کرتے کہ یہ ہدف کیوں منتخب کیے گئے تھے۔ اخراج کی رپورٹ کردہ اقسام بھی کافی مختلف ہیں۔ رپورٹ کرنے والے اداروں کی اکثریت نے اپنے آپریشنز (84 فیصد) اور خریدی گئی توانائی (79 فیصد) سے اخراج کو رپورٹ کیا، صرف نصف (50 فیصد) نے اپنی رسدی زنجیر سے اخراج کی رپورٹ دی۔ دس میں سے ایک سے بھی کم (7 فیصد) اداروں اپنی مصنوعات و خدمات کے استعمال اور ٹھکانے لگانے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے اخراج کی معلومات شامل کی۔ تقریباً نصف (51 فیصد) اداروں نے اپنی کمپنی رپورٹوں میں کاربن پر گفتگو کی اور متبادل ذرائع پر تفصیلی معلومات کے حوالے دیے ہیں جیسا کہ سی ڈی پی ڈیٹا برائے سرمایہ کاران۔ باقی نصف نے ایسا نہیں کیا۔ وم بارٹیلس، نیدرلینڈز میں کے پی ایم جی کے ایک شراکت دار اور ماحول دوست رپورٹنگ اور یقین دہانی کے شعبے میں کے پی ایم جی کے عالمی سربراہ کے پی ایم جی کے سروے کے اہم لکھاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ: تمام اسٹیک ہولڈرز کو اداروں کی سالانہ مالیاتی یا کارپوریٹ ذمہ داری رپورٹوں میں کمپنی کی کاربن کارکردگی پر اچھے معیار کی قابل تقابل معلومات تک رسائی ہونی چاہیے۔ آج حقیقت یہ نہیں ہے۔ “کاربن پر بہتری اور عالمی رپورٹنگ رہنما ہدایات کی واضح ضرورت ہے جو اس مسئلے کے حل میں مدد دے سکتی ہے۔ اس معاملے سے نمٹنا صرف اداروں کے آسرے پر نہیں چھوڑا جا سکتا؛ صنعتی انجمنوں،ضابطے کے اداروں، معیار بند، سرمایہ کار اور دیگر سب کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔” کے پی ایم جی کی تحقیق مالیاتی استحکام بورڈ کی جانب سے جی20 کو پیش کردہ حالیہ تجویز کے بعد آئی ہے جس میں ایک ٹاسک فورس کے قیام کا مطالبہ کیا گیا ہے جو اداروں کو قرض دہندگان، بیمہ کاران، سرمایہ کاران اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کی مدد کے لیے مسلسل موسمیات سے متعلق انکشافات سے آگاہ رکھے تاکہ ضروری خطرات سے آگہی مل سکے۔1کلائمٹ اسٹینڈرڈز ڈسکلوژر بورڈ (سی ڈی
جے این اے ایوارڈز 2016ء اعزاز زمرہ جات پیش کرتا ہے
ہانگکانگ، 3 دسمبر 2015ء/پی آرنیوزوائر– اگلے سال اپنے قیام کا پانچواں جشن منانے والے زیورات اور قیمتی پتھر کی صنعت کے اہم پلیٹ فارم جے این اے ایوارڈزنے اپنے اعزاز کے زمروں میں تبدیلی کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعزاز جدت طراز اور بڑی کامیابی حاصل کرنے والی شخصیات اور اداروں کو تسلیم کرتا ہے۔ مکمل ملٹیمیڈیا اعلامیہ: http://en.prnasia.com/mnr/jnaawards_201511en.shtml تقریب کے منتظم، جے این اے (جیولری نیوز ایشیا)، نے چند زمروں میں تبدیلیاں کی ہیں تاکہ زیادہ خطوں کے لیے وسیع پیمانے پر شرکت کی حوصلہ افزائی کی جا سکے، اور دریں اثنا، چند زمروں کو مضبوط کرے جو معیار کے اسی مجموعے پر جانچےگئے ہیں۔ 2016ء میں جے این اے ایوارڈز11 زمروں کا حامل ہوگا، جس میں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ شامل ہوگا جس کو حاصل کرنے والے کا انتخاب منتظم کی جانب سے ہوگا۔ مذکورہ بالا فہرست میں مینوفیکچرر آف دی ایئر کے دو زمروں کو وسیع تر کیا گیا ہے تاکہ ساخت گری کے شعبے کے لیے وسیع تر اسٹیکہولڈر شمولیت کی حوصلہ افزائی ہو۔ آؤٹاسٹینڈنگانٹرپرائز آف دی ایئر کے زمروں کی وسعت بھی پھیلائی گئی ہے تاکہ آسیان اور چین کے خطوں سے باہر کے اداروں کو بھی اعزازات میں شمولیت کے لیے متاثر کیا جائے۔ جے این اے کے بانی، یو بی ایم ایشیا میں جیولری گروپ کے ڈائریکٹر آف بزنس ڈیولپمنٹاور جے این اے ایوارڈز ججوں کے پینل کے چیئرلیتیتیا چاؤ نے کہا کہ “منتظم کی حیثیت سے ہم تقریب کو بہتر بنانے اور زیادہ اہل درخواستوں کی توجہ مبذول کروانے کے لیے ہر سال خود کو چیلنج کر رہے ہیں۔ ہم نے صنعت کی آواز کو بھی سنا اور ان کا جواب دیا۔ چند زمرہ ججوں کے لیے ویسے ہی معیار کے حامل ہیں اور ان زمروں کو زیادہ مقابلے کا بنائے گی۔ “مزید برآں،ہمآؤٹاسٹینڈنگانٹرپرائز آف دی ایئر زمرے کو پھیلا چکے ہیں تاکہ کوریا اور چین کے اداروں کو شامل کر سکیں۔ لہٰذا، کوریا، ہانگکانگ اور تائیوان میں اداروں کو زمرے میں داخل ہونے اور اپنی بہترین کاروباری مشق پیش اور ظاہر کرنے کا موقع ہوگا۔ ہماری نظریں آنے والے سال میں اعلیٰ معیار کی شخصیات اور اداروں کی بڑھتی ہوئی شرکت کا خیرمقدم کرنے پر مرکوز ہیں۔” 2012ء میں اپنے آغاز سے اب تک جے این اے ایوارڈزنے اپنی کوششیں صنعتی اسٹیکہولڈرز کی کامیابیوں کی ترویج، صنعتی معیارات کو بڑھانے اور بہترین کاروباری مشقوں کو سہارا دینے سے وابستہ کی ہیں۔ جے این اے ایوارڈز 2016ء اپنے ہیڈ لائن پارٹنر کی حیثيت سے ریو ٹنٹو ڈائمنڈز اور چاؤ ٹائی فوک کو رکھتا ہے، جبکہ ڈایارف گروپ، اسرائیل ڈائمنڈ انسٹیٹیوٹ گروپ آف کمپنیز، شنگھائی ڈائمنڈ ایکسچینج، اور گوانگڈونگلینڈہولڈنگز لمیٹڈ فخریہ شراکت دار ہیں۔ ججوں کے معیار اور 2016ء کے اوائل میں آن لائن رجسٹریشن کے بارے میں مزید اعلانات کے لیے ساتھ رہیے۔ درخواستیں جمع کرنے کا عرصہ مارچ سے اپریل 2016ء ہوگا۔ ایوارڈ زمروں کی مکمل فہرست:http://www.jnaawards.com/AwardsEntry/tabid/4969/Default.aspx#.Vl6manYrKM8 جے این اے ایوارڈزمارکیٹنگ یو بی ایم ایشیا (ہانگکانگ) 852-2516-2184+ [email protected]
ورلڈ ٹینس چیمپز کرسمس اسٹارز 2015کی مدد کریں گے
گوران ایوانسوک اور جرمیلا 19دسمبر کو ہونے والے ٹوائے رن ایونٹ کی سربراہی کرے گے اور رضاکاروں کے ہمراہ پروگرام سے مستفید ہونے والو کو کرسمس کے تحائف فراہم کریں گے سنگا پور 01 دسمبر 2015ء/پی آرنیوزوائر– او یو ای لمیٹیڈ اور مندارین آرچرڈ سنکاپورکی جانب سے مشترکہ طور پرچھ سال سے کرسمس اسٹار کمیونٹی پروگرام منعقد کیا جا رہا ہےتین حصوں پر مشتمل یہ پروگرام 2010میں شروع کیا گیا تھا جس کا مقصد کرسمس کی خوشیوں میں بچوں کی خصوصی اور بیماریوں کی ضروریات کو پورا کرنا ہے جب سے کرسمس اسٹارز سالانہ روایت بنی ہے تب سے اسے مالی حصہ داروں، رضا کاروںاورامداد دہنگان کی بے لوث حمایت حاصل ہوئی ہیں۔ (L to R) Thio Gim Hock, CEO and Group MD of OUE Limited, with Tan Kim Seng, COO of Meritus Hotels & Resorts, at the ceremonial kick-off of Stars of Christmas 2015۔ http://photos.prnasia.com/prnvar/20151130/8521508153 معاونت کرنے والوں میں سنگاپور کے کرسلر جیپ آٹوموٹیو لمیٹڈ، کومکو موٹرسائیکلز پی ٹی ای لمیٹڈ اور کمیونٹی چیسٹ شامل ہیں جو نیشنل کونسل آف سوشل سروسز کے لیے فنڈ اکھٹا کرنے اور انتظامی معاملات طے کرتے ہیں۔ اس سال بھی سنگاپور کی مارینا مینڈرم کی شرکت متوقع ہے ۔ کرسمس اسٹارز 2015 کا افتتاح مندارین آرچرڈ سنگاپور کے دالان میں او یو ای کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر اور گروپ مینیجنگ ڈآئریکٹر جناب تھیو جم ہاک کی سربراہی میں کرسمس اسٹارز کے رسمی انداز سے ہوگا۔کرسمس اسٹارز مندارین آرچرڈ سنگاپور اور مرینا مینڈرین سنگاپور کو کرسمس ٹری سے سجائیں گے جس میں ہر شراکت دار کا نام، عمر اور صنف کو واضح کیا جائے گا جبکہ عطیہ کنندگان کے لیے جب وہ تحفے خریدیں گے ان کی بہترین معلومات کے لیے ۔ 10 دسمبر کو کرسمس اسٹارز 2015 کے فوائد حاصل کرنے والوں کے والدین ، بہن بھائی اور سرپرستوں کو خصوصی مہمان کا اعزاز دیا جائے گا جس کی میزبانی او یو ای کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر ڈاکٹر اسٹیفن ریاڈی کریں گے۔ بچے او یو ای کے ملازمین اور ان سے ملحق کمپنیوں کے ملازمین سے کرسمس کی دعوت اور جشن کے لیے مندارین آرچرڈ سنگاپور میں ایک سہپرکو ملیں گے ، جس میں سانتا اور اس کے ساتھی تحفے پیش کریں گے ۔ کرسمس اسٹارز 2015 کا اختتام عالمی ٹینس کھلاڑی گوران ایوانسوک اور جرمیلا گوجدوسووا کی شرکت کے ساتھ ہوگا جس دوران ٹوائے رن اکٹیویٹ کا انعقادکیا جائے گاجو تمام عوامی ارکان کے لئے 19دسمبر کی صبح9:00بجےکھول دیا جائے گا ۔ جس میں رضاکارمنڈرین گیلری کے سامنے آرچرڈ روڈ پر اپنی جیپ اور موٹرسائکل چلائیں گے۔پروگرام کے اختتام پر تمام بچوں کے لئے آرچرڈ روڈ سے عطیہ کیا گیا کرسمس تحائف رضاکاروں کے ذریعہ ان کے گھر وںاور اسپتالوں میں بجوایا جائے گا۔ اس سال اسٹارز کرسمس کمیونٹی پروگرام کے تحت 800سے زائد افراد تحائف سے مستفید ہو سکیں گے ۔ پریس رابطہ : جورڈن اساک کارپوریٹ کمیونیکیشنز او یو ای لیمٹڈ فون : 65-6809-6052+ ای میل : [email protected] جینس ازوپرڈو برانڈنگ اینڈ کمیونیکیشنز میریٹس ہوٹل اینڈ ریزورٹس فون : 65-6831-6385+ ای میل : [email protected] فوٹو :http://photos.prnasia.com/prnh/20151130/8521508153
بریک تھرو انرجی کوالیشن زیرو-کاربن انرجی ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری کرے گا
بل گیٹس کی زیر قیادت نجی شعبہ کی کوشش عوامی شعبے کے مشن انوویشن منصوبے کے ساتھ تعاون کرے گی پیرس، 29 نومبر 2015/پی آرنیوزوائر– آج پیرس میں جاری ہونے والا بریک تھرو انرجی کوالیشن نجی سرمایہ کاروں کا ایک عالمی گروپ ہے جو خطرات مول لے گا، ابتدائی مرحلے میں موجود ایسی توانائی کمپنیوں کے لیے، جو جدت کو تجربہ گاہ سے باہر نکال کر مارکیٹ تک لانے کی سہولت دیں گی۔ گروپ ایسے اداروں میں سرمایہ کاری کرے گا جو قابل بھروسہ زیرو کاربن انرجی بنانے کا بہترین امکان رکھتے ہوں، جو سب کے لیے مناسب قیمت پر دستیاب ہو۔ بریک تھرو انرجی کوالیشن 10 ممالک کے 25 سے زیادہ سرمایہ کاروں پر مشتمل ہے۔ مشن انوویشن کے ساتھ تعاون میں جاری ہو رہی ہے جو 15 سے زیادہ حکومتوں کی ایک بین الاقوامی کوشش ہے جو ابتدائی مرحلے کی توانائی تحقیق اور ڈیولپمنٹ سے وابستگی کو دوگنا کرنے کےی لیے ہے تاکہ ایسی ٹیکنالوجیز دریافت اور ایجاد کی جائیں جو ان سرمایہ کاروں کو آگے بڑھائے جانے اور مارکیٹ میں پیش کرنے کے قابل حل تیار کرنے میں مدد دے سکیں، اور مستقبل میں مختلف ذریعوں سے توانائی حاصل کرنے کو ممکن بنا سکے۔ مزید جاننے کے لیے دیکھیں http://www.breakthroughenergycoalition.com۔
یونین پے انٹرنیشنل نے “40 منتخب عالمی سیاحتی مقامات” ترجیحی منصوبے کا آغاز کردیا
شنگھائی، چین، 26 نومبر 2005ء/سن ہوا-ایشیانیٹ — یونین پے انٹرنیشنل نے 25 نومبر کو اعلان کیا ہے کہ وہ اب “40 منتخب عالمی سیاحتی مقامات” ترجیحی پروگرام کا آغاز کرتا ہے۔ اب سے 29 فروری 2016ء تک عالمی یونین پے کارڈ کے حامل افراد (62 سے شروع ہونے والے کارڈ نمبر) دنیا بھر میں 300 سے زیادہ تاجروں کے پاس 15 فیصد تک رعایت کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ یہ پروگرام شاپنگ مقامات اور ریستورانوں جیسے روایتی تاجروں پر ہی نہیں، بلکہ ہوائی ٹکٹوں اور ہوٹل کے کمروں کی بکنگ، عوامی ٹرانسپورٹ اور تفریحات میں بھی خصوصی رعایت دیتا ہے، یوں سفر کے دوران کارڈ یافتگان کے ادائیگی تجربے کو جامع طور پر بہتر بنا سکتا ہے۔ یونین پے انٹرنیشنل کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق چائنا ٹورازم اکیڈمی توقع رکھتی ہے کہ 2015ء میں چین کے بیرون ملک جانے والے سیاحوں کے اخراجات 1.1 ٹریلین یوآن تک پہنچ جائیں گے اور مستقبل میں مستقل اضافہ جاری رہے گا۔ بیرون ملک سیاحوں کے اخراجات زیادہ معقول اور متنوع ہیں۔ چینی سیاحوں کے بیرون ملک اخراجات میں سب سے زیادہ اب بھی خریداری ہے، جن کے بعد رہائش اور نقل و حرکت پر اخراجات آتے ہیں۔ تفریح، کھانوں اور مقامات کے ٹکٹوں پر آنے والے اخراجات کے تناسب میں سال بہ سال اضافہ ہوا ہے۔ روز مرہ ضروریات چینی سیاحوں کی جانب سے سب سے زیادہ خریدی جانے والی مصنوعات کے طور پر مرحلہ وار پرتعیش مصنوعات کی جگہ لے رہی ہیں، جبکہ مقامی فراغت و تفریح کے پروگراموں پر اخراجات بھی بڑھ ہی رہے ہیں۔ رپورٹ عالمی سیاحوں کے سفر میں نئے رحجانات بھی متعارف کرواتی ہے: بڑے پیمانے پر، زیادہ تواتر اور تنوع کے حامل مقامات۔ مزيد برآں جن مارکیٹوں میں یونین پے کارڈز بڑے پیمانے پر جاری ہوئے ہیں، جیسا کہ ہانگ کانگ، جنوبی کوریا اور جاپان میں> مقامی افراد بھی خصوصی پیشکشوں اور رعایتوں کا لطف اٹھانے کے لیے بارہا یونین پے کارڈز استعمال کرتے ہیں۔ پروگرام دو امتیازی خصوصیات رکھتا ہے۔ پہلے یہ بیشتر سیاحتی مقامات کا احاطہ کرتا ہے۔ روایتی مقامات کے علاوہ سیاحوں کی نئے پسندیدہ مقامات جیسا کہ انگ کور، بوراکے جزیرہ، بنٹان جزیرہ، سری لنکا اور سیشلس بھی پروگرام میں شامل ہیں، یوں کارڈ یافتگان کی متنوع سیاحتی ضروریات کو پورا کر رہا ہے۔۔ دوسرا، شامل تاجر بھی زیادہ متنوع ہیں۔ دکانوں، ہوٹلوں اور ریستورانوں کے علاوہ گرم حمام، شراب خانے، غوطہ خوری، گالف کے میدان، چائے خانے، عجائب گھر اور تھیم پارکس بھی اس میں شامل ہیں۔ اس وقت یونین پے غیر ملکی قبولیت نیٹ ورک 150 سے زیادہ ممالک اور خطوں پر پھیل چکا ہے، جو سیاحوں کی جانب سے زیادہ تر دیکھے جانے والے مقامات کا احاطہ کر رہا ہے۔ مزید برآں کارڈ استعمال کی وسعت میں مسلسل اضافے کے ساتھ یونین پے انٹرنیشنل کارڈ استعمال پیشکش اور سہولیات کے اپنے عالمی نظام کو آراستہ کرنے سے بھی وابستہ ہے۔ ہر سال یونین پے انٹرنیشنل ترجیحی پروگراموں کا ایک سلسلہ جاری کرتا ہے جو ہوائی اڈوں کی ڈیوٹی فری شاپس، اہم کاروباری علاقوں اور سیاحتی مقامات کا احاطہ کر
118 واں کینٹن میلہ: “یکساں فروخت اور کلیدی شعبوں میں خریداروں کی تعداد مستقبل کے عہد کو ظاہر کرتی ہوئی”
گوانگ چو، چین، 20 نومبر 2015ء/پی آرنیوزوائر– 4 نومبر کو مکمل ہونے والے چین کی معروف ترین تجارتی تقریب 118 ویں کینٹن میلے نے مجموعی طور پر خریداروں کی حاضری میں معمولی کمی ظاہر کی اور ساتھ ساتھ کلیدی شعبوں میں نمو میں بھی۔ میلے میں دنیا بھر کے 213 ممالک اور خطوں سے 177,544 غیر ملکی مہمانوں نے شرکت کی، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں4.6 فیصد کمی ہے۔ البتہ کرنسی میں اتار چڑھاؤ پر بڑے پیمانے پر تشویش پر قابو پاتے ہوئے متعدد کلیدی مصنوعات کی فروخت واضح طور پر بڑھی، جبکہ کئی خریدار ممالک نے بھی خریداروں کی تعداد میں واضح اضافہ دکھایا۔ منتظمین کے مطابق میلے کے پہلے تین دنوں میں کئی اہم چینی صنعتی شعبوں میں توقع سے بڑھ کر فروخت ہوئی، جن میں گھریلو مصنوعات، کمپیوٹرز اور کمیونی کیشنزآلات سب نے معاہدوں پر دستخط کے لحاظ سے سال بہ سال میں بہتری ظاہر کی۔ دیگر ہائی-ٹیک شعبوں جیسا کا میکینیکل اور نئی توانائی مصنوعات نے بھی معاہدوں کےحجم میں اضافہ ظاہر کیا۔ چینی گھریلو مصنوعات کی صنعت، اسمارٹ مصنوعات اور آٹومیشن کی حالیہ جدت اور جدید ڈیزائن کے ساتھ، خریداروں کی توجہ مبذول کرانے میں سب سے آگے رہیں۔ پہلے سیشن میں گھریلو مصنوعات میں سال بہ سال میں تقریباً 10 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا، جس میں ہائیر، میڈیا، ہائی سینس اور گیلنز جیسے اداروں میں سے سب نے 100 ملین امریکی ڈالرز سے زیادہ کی فروخت کی۔ یہ اعداد و شمار چینی مصنوعات کی بڑھتی ہوئی بنیادی مسابقت کی درست تصویر کشتی کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہائی سینس نے اپنے جدید اسمارٹ ٹیلی وژنز کے لیے 170 سے زیادہ پیٹنٹ حاصل کرلیے ہیں۔ ہائی سینس کینٹن میلے میں نمائش کرنے والے کئی چینی اداروں کی طرح ہے جن کی توجہ بہتر جدت طرازی، برانڈنگ، معیار، سروس اور ماحولیاتی آگہی کے ذریعے اب بین الاقوامی میدان میں نئی مسابقتی برتری حاصل کرنے پر ہے۔ کینٹل میلہ کا بین الاقوامی پویلین بھی ایک بڑی کامیابی ثابت ہوا، جس نے 3 نومبر تک 90,000 مہمانوں کی توجہ حاصل کی۔ 40 ممالک کی جانب سے 600 سے زیادہ اداروں کے ساتھ بین الاقوامی پویلین نے گزشتہ تقاریب کے مقابلے میں نمائش کنندگان کی تعداد اور تنوع کو کافی زیادہ پایا۔ حاضرین میں کئی معروف بین الاقوامی برانڈز شامل تھے، جبکہ معروف چینی اداروں جیسا کہ سوننگ اور وین گارڈ نے بھی اپنی مصنوعات پیش کیں۔ میلے میں چین کے “بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو” کے حوالے سے بھی حوصلہ افزا اشارے ملے۔ جنوبی ایشیائی بلاک، سعودی عرب اور ویت نام سے بھی خریداروں کی تعداد میں اضافہ ہوا، جبکہ تھائی لینڈ (تقریباً 400 فیصد)، سری لنکا (103 فیصد)، سربیا (97 فیصد)، ہنگری (44 فیصد) اور اردن (38 فیصد) سب نے اپنے خریداری کے حجم کو کافی بڑھایا۔ مزید معلومات کے لیے ملاحظہ کیجیے: http://www.cantonfair.org.cn/en/index.asp

