راولپنڈی (پی پی آئی)انسداد دہشتگردی عدالت نے 9مئی کے واقعات میں عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کی ضمانت منظور کرلی، جج نے استفسار کیا کہ شیخ صاحب آپ کمزور نظر آرہے ہیں، صحت ٹھیک ہے؟۔ شیخ رشید نے کہاکہ 40دن کے چلے کے دوران 31کلو وزن کم ہوا۔ انسداد دہشتگردی عدالت میں سابق وزیرداخلہ شیخ رشید کی 9مئی کے واقعات میں درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی، کیس کی سماعت انسداد دہشتگردی عدالت کے جج ملک اعجاز آصف نے کی۔شیخ رشید اپنے وکیل سردار عبدالرازق خان کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے،وکیل سردار عبدالرزاق خان نے کہاکہ شیخ رشید کا 9مئی کے واقعات سے کوئی تعلق نہیں،شیخ رشید کے متعلق 9مئی کے واقعات کے کوئی شواہد موجود نہیں۔عدالت نے کہاکہ شیخ رشید کی عمر کا لحاظ رکھنا چاہئے،پی پی آئی کے مطابق عدالت نے 9مئی کے واقعات میں شیخ رشید کی ضمانت بھی منظور کرلی،عدالت نے تھانہ وارث خان کے مقدمے میں شیخ رشید کی ضمانت منظور کی،عدالت نے شیخ رشید کو 50ہزار روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیدیا،عدالت نے سابق ایم این اے شیخ راشد شفیق کی عبوری ضمانت 8نومبر تک منظور کی۔
فیشن وَن نے می سیٹ کے ذریعے پہلا یو ایچ ڈی فیشن چینل، چینل ون 4کے، دنیا بھر میں جاری کردیا
چین سے باہر جانے والے سیاحوں کی تعداد پہلی بار 100 ملین سے تجاوز کرگئی
ماؤں اور بچوں کی قابلِ انسداد اموات کے خاتمے کے لیے کال ٹو ایکشن سمٹ 2015ء میں اعلانِ دہلی
اے پی آر انرجی میانمار منصوبے کے لیے پاور میگزین کی جانب سے سرفہرست پلانٹس کا اعزاز
عالمی فروخت و مارکیٹنگ ادارے زیڈ ایس نے سنگاپور دفتر کھول لیا
جے اے سولر آسٹریلیا کے موری سولر فارم کو 70 میگاواٹ کے ماڈیولز فراہم کرے گا
تازہ ترین خبریں
- April 22, 2026
اشتہار
تازہ ترین
ہم الیکشن کیلئے ہر وقت تیار ہیں، اب انتخابات کی تاریخ پر کوئی ابہام نہیں: سعد رفیق
اسلام آباد (پی پی آئی)مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ ہم انتخابات کیلئے ہر وقت تیار ہیں، اب انتخابات کی تاریخ پر کوئی ابہام نہیں ہے۔پی پی آئی کے مطابق خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ نوازشریف کی ڈیل کا تاثردرست نہیں ہے،کوئی ڈیل نہیں ہوئی،کیا نوازشریف کے مقدر میں لکھا ہے کہ انہوں نے جلا وطنی کا ٹنی ہے نوازشریف اور ان کے خاندان اور جماعت نے سب سے زیادہ سزائیں کاٹی ہیں،ہم نے 2002 میں نوازشریف کے بغیر بھی الیکشن لڑا تھا۔سعد رفیق کا کہناتھا کہ 2018 میں ہمارے ہاتھ بندھے ہوئے تھے،سب کا انتخابی نشان بیلٹ پیپر پر ہونا چاہیے، جیل میں موجود سیاستدان کا فیصلہ عدالت نے کرنا ہے،سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر کوئی درخواست آئی تو پارٹی قیادت فیصلہ کرے گی۔
مخدوم شہاب اور علیٰ موسیٰ گیلانی سمیت 3ملزمان کی بریت کی درخواستیں مسترد
اسلام آباد(پی پی آئی)اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایفی ڈرین کوٹہ کیس میں سابق وزیر مخدوم شہاب الدین، علی موسیٰ گیلانی سمیت 3ملزمان کی بریت کی درخواستیں مسترد کردیں، عدالت نے تینوں ملزمان پر ایک ایک لاکھ جرمانہ عائد کرتے ہوئے 30روز میں جمع کرانے کا حکم دیدیا۔پی پی آئی کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایفی ڈرین کوٹہ الاٹمنٹ اور مبینہ اسمگلنگ کیس مخدوم شہاب الدین، علی موسیٰ گیلانی، عنصر فاروق کی جانب سے بریت کی درخواستیں دائر کی گئی تھیں،عدالت نے پیپلزپارٹی کے سابق وزیر مخدوم شہاب سمیت 3ملزمان کی بریت کی درخواستیں مسترد کردیں،اسلام آباد ہائیکورٹ نے تینوں ملزمان پر ایک ایک لاکھ جرمانہ عائد کردیا،عدالت نے ملزمان کو 30روز میں جرمانہ جمع کرانے کا حکم دیدیا،جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔
مخدوم شہاب اور علیٰ موسیٰ گیلانی سمیت 3ملزمان کی بریت کی درخواستیں مسترد
اسلام آباد(پی پی آئی)اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایفی ڈرین کوٹہ کیس میں سابق وزیر مخدوم شہاب الدین، علی موسیٰ گیلانی سمیت 3ملزمان کی بریت کی درخواستیں مسترد کردیں، عدالت نے تینوں ملزمان پر ایک ایک لاکھ جرمانہ عائد کرتے ہوئے 30روز میں جمع کرانے کا حکم دیدیا۔پی پی آئی کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایفی ڈرین کوٹہ الاٹمنٹ اور مبینہ اسمگلنگ کیس مخدوم شہاب الدین، علی موسیٰ گیلانی، عنصر فاروق کی جانب سے بریت کی درخواستیں دائر کی گئی تھیں،عدالت نے پیپلزپارٹی کے سابق وزیر مخدوم شہاب سمیت 3ملزمان کی بریت کی درخواستیں مسترد کردیں،اسلام آباد ہائیکورٹ نے تینوں ملزمان پر ایک ایک لاکھ جرمانہ عائد کردیا،عدالت نے ملزمان کو 30روز میں جرمانہ جمع کرانے کا حکم دیدیا،جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔
تلاش کریں
خبریں
عالمی منڈی میں تیل سستا، حکومت بھی عوام کو فوری ریلیف دے: پاسبان
ڈی پی او جھنگ کا دورہ گڑھ مہاراجہ دربار حضرت سلطان باھوؒ
فیشن وَن نے می سیٹ کے ذریعے پہلا یو ایچ ڈی فیشن چینل، چینل ون 4کے، دنیا بھر میں جاری کردیا
ایشیا بحر الکاہل، مشرق وسطیٰ، آسٹریلیا اور مشرقی افریقہ میں نشریات فیشن اور تفریح کی دنیا کو انقلابی بناتی ہوئی نیو یارک، یکم ستمبر 2015ء/پی آرنیوزوائر– می سیٹ سیٹیلائٹ سسٹمز (“می سیٹ”) اور نیو یارک میں قائم معروف فیشن، تفریح اور طرزِ زندگی کے ٹیلی وژن نیٹ ورک فیشن وَن ٹیلی وژن ایل ایل سی نے می سیٹ-3 اے سیٹیلائٹ پر دنیا کے پہلے انگریزی زبان کے الٹرا ایچ ڈی چینل، فیشن وَن 4کے، کے آغاز کے ساتھ نشریات کی دنیا میں اگلا بڑا قدم اٹھا لیا ہے۔ The first English language Ultra HD channel in the world, Fashion One 4K, launched on the MEASAT-3a satellite on Sep 1, 2015. http://photos.prnasia.com/prnvar/20150901/8521505693 فیشن وَن 4کے یکم ستمبر 2015ء کو جاری کیا گیا تھا۔ 91.5 درجے مشرق وڈیو ہاٹ سلاٹ پر می سیٹ-3 اے سیٹیلائٹ کے ذریعے نشریات کی تقسیم کے لیے مفت دستیاب چینل ایشیا بحر الکاہل، مشرق وسطیٰ، آسٹریلیا اور مشرقی افریقہ میں 130 ملین سے زیادہ ناظرین تک پہنچے گا۔ فیشن وَن 2014ء سے اپنے پیش کاری فارمیٹ کو ایچ ڈی سے الٹرا ایچ ڈی میں تبدیل کررہا ہے اور اب 100 فیصد مواد حقوق کے ساتھ الٹرا ایچ ڈی کا جامع ذخیرہ رکھتا ہے۔ فیشن وَن 4کے اس وقت جدید ترین فیشن اور تفریحی مواد رکھتا ہے جیسا کہ متحرک طرز زندگی کی سیریز ماڈل یوگا ، کھانے پکانے کی عالمی مہمات کا فیشن آن اے پلیٹ، اور ماحول دوست فیشن ڈاکیو-سیریز ایکو فیشن کے نئے سیزنز۔ دیگر پروگراموں میں دی اَلٹی میٹ اسٹائل گائیڈ اور فیشن اراؤنڈ دی گلوب جیسے خاص بھی شامل ہیں، جو چینل پر سب کے لیے کوئی نہ کوئی دلچسپی دیتے ہیں۔ ایچ ڈی نشریات کی سے چار گنا زیادہ شفافیت کے ساتھ اور تصویر اور آواز کا بہترین معیار جو ٹیلی وژن پر پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا، دنیائے فیشن کو اس سے بہتر انداز سے دیکھا نہیں جا سکتا۔ ناظرین الٹرا ایچ ڈی کے عمدہ ترین ریزولیوشن اور باریک تفصیلات، ہموار خطوط اور تیز رنگوں کا تجربہ اٹھائیں گے، جو کبھی ٹیلی وژن پر نشریات نہیں ہوئے۔ فیشن وَن ٹیلی وژن ایل ایل سی کے چیف آپریٹنگ آفیسر گلیب لِوشٹس “ہم فیشن اور تفریح کی دنیا سے وابستہ دنیا کے پہلے عالمی الٹرا ایچ ڈی چینل فیشن وَن 4 کے اجراء پر بہت خوش ہیں۔ ہم نے گزشتہ دو سالوں میں الٹرا ایچ ڈی مواد پیش کرنے پر بھاری سرمایہ کاری کی ہے، اور مجھے خوشی ہے کہ بالآخر ہم چینل کو اپنے ناظرین کے سامنے پیش کرنے کے قابل ہوگئے ہیں۔ ہم اپنے طویل المیعاد شراکت دار می سیٹ کے ساتھ مل کر صنعت کی قیادت اور بہترین معیار کا مواد حاضرین کو فراہم کرنے سے وابستہ ہیں۔” چیف ایگزیکٹو آفیسر، می سیٹ، پال براشن-کینین نے کہا کہ “فیشن وَن ایک عالمی طرزِ زندگی اور تفریح کا ٹی وی نیٹ ورک ہے، جو بڑی اور تیزی سے بڑھتی ہوئی صارفی بنیاد کی تائید حاصل کررہا ہے۔ می سیٹ فیشن وَن 4کے کے اجراء کے لیے ایک مرتبہ پھر وَن کے ساتھ شراکت داری پر خوش ہے۔ یہ تعاون می سیٹ
چین سے باہر جانے والے سیاحوں کی تعداد پہلی بار 100 ملین سے تجاوز کرگئی
شنگھائی، چین، یکم ستمبر 2015ء/ سن ہوا-ایشیانیٹ — چائنا ٹوراِزم اکیڈمی نے حال ہی میں 2015ء سالانہ ترقیاتی رپورٹ برائے چینی سیاح جاری کی ہے، جو بتاتی ہے کہ تاریخ میں پہلی بار بیرون ملک جانے والے سیاحوں کی تعداد 100 ملین سے زیادہ ہوگئی ہے۔ یہ اندازہ ہے کہ 2015ء کے دوران یہ رحجان مزید بڑھتا رہے گا۔ رپورٹ یہ بھی بتاتی ہے کہ یونین پے بیرون ملک جانے والے چینی سیاحوں کے لیے ترجیحی ادائیگی برانڈ بن چکا ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق چین سے جانے والے سیاح 2014ء میں کل 107 ملین تھے، جو سال بہ سال میں 19.5 فیصد اضافہ ہے۔ توقع ہے کہ سال 2015ء میں 16 فیصد یا اس سے زیادہ کا سال بہ سال اضافہ دیکھنے کو ملے گا۔ رپورٹ بتاتی ہے کہ یونین پے چین سے باہر جانے والے سیاحوں کے لیے ترجیحی ادائیگی سروس بن چکا ہے، جو 150 سے زیادہ ممالک اور خطوں میں پھیلے 26 ملین تاجروں اور 1.9 ملین اے ٹی ایمز کے جال کے ذریعے اپنی خدمات پیش کررہا ہے۔ دريں اثناء، غیر ملکی تاجروں کی ایک بڑھتی ہوئی تعداد، بالخصوص چینی، صارفین کی توجہ مبذول کروانے کے اہم طریقے کے طور پر یونین پے کارڈز کی مقبولیت کو تسلیم کرتی ہے۔ اس لیے یونین پے قبولیت سمندر پار سفری تجربے کے ساتھ چینی سیاحوں کی تسلی کی سطح جانچنے کے لیے اہم معیار بن چکی ہے۔ تحقیق کے نتائج نے ظاہر کیا کہ غیر ملکی سیاحت کے کل اخراجات 2014ء میں 164.8 ارب امریکی ڈالرز تک پہنچ گئے ہیں۔ رپورٹ بتاتی ہے کہ ادائیگی نیٹ ورکس جیسا کہ یونین پے کی ترقی نے بیرون ملک سفر کے ہر مرحلے میں ادائیگی کو آسان بنایا ہے، جو غیر ملکی سیاحت میں تحریک کو بڑھاتی ہے۔ 24 سرفہرست مقامات پر چینی بیرون ملک سیاح کے اطمینان کی سطح پر ہونے والے ایک سروے میں صارفی اطمینان کے لحاظ سے نیوزی لینڈ، سنگاپور، امریکہ، کینیڈا اور آسٹریلیا سب سے اونچے درجے پر رہے، جو چینی سیاحوں کے لیے دستی کتب، چینی ریستوراں، چینی زبان میں ٹیلی وژن پروگرامات کے ساتھ ساتھ یونین پے قبولیت کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کو مدنظر رکھتے ہیں۔ رپورٹ یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ بیرون ملک مقامات پر یونین پے کارڈز کے ذریعے ادائیگی چینی سیاحوں میں بہت مقبول ہے اور ان کے لیے بہت آسان بن چکی ہے۔ اس وقت دستخط کی بنیاد پر کارڈز قبول کرنے والے کوریا میں تقریباً تمام تاجر یونین پے کریڈٹ کارڈز قبول کرتے ہیں، جبکہ 1.37 ملین مزید تاجر پن بیسڈ یونین پے کارڈز قبول کررہے ہیں۔ سنگاپور میں یونین پے کارڈز تمام اے ٹی ایمز اور 70 فیصد سے زیادہ تاجروں، امریکہ میں 90 فیصد اے ٹی ایمز اور 80 فیصد تاجروں اور آسٹریلیا میں 80 فیصد سے زیادہ اے ٹی ایمز اور تقریباً 50 فیصد تاجروں کے پاس قبول کیے جاتے ہیں، جو ان سیاحوں کی جانب سے دیکھے گئے بیشتر مقامات کا احاطہ کررہے ہیں۔ مزید معلومات کے لیے: http://www.unionpayintl.com/ ذریعہ: یونین پے انٹرنیشنل
ماؤں اور بچوں کی قابلِ انسداد اموات کے خاتمے کے لیے کال ٹو ایکشن سمٹ 2015ء میں اعلانِ دہلی
نئی دہلی، 28 اگست 2015ء/ پی آرنیوزوائر– دو روزہ عالمی ‘کال ٹو ایکشن سمٹ 2015ء’ آج ‘قابل انسداد زچہ و بچہ اموات کے خاتمے’ کے لیے 22 ممالک کے وزرائے صحت اور قومی وفود کے سربراہان کے تسلیم کردہ اعلانِ دہلی کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچی۔ اعلان اجلاس کے دوران گزشتہ روز ہونے والے اعلیٰ وزارتی اجتماع کے نتیجے کے طور پر تشکیل پایا۔ Call to Action Summit 2015 (لوگو:http://photos.prnewswire.com/prnh/20150828/762204) کال ٹو ایکشن سمٹ 2015ء 27 سے 28 اگست 2015ء تک نئی دہلی میں منعقد ہوئی جس کی مشترکہ میزبانی وزارت صحت و خاندانی بہبود، حکومت بھارت اور وزارت صحت ایتھوپیا نے بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن، ٹاٹا ٹرسٹس، یونی سیف، یو ایس ایڈ اور ڈبلیو ایچ او کے تعاون سے کی۔ عزت مآب وفاقی وزیر برائے صحت و خاندانی بہبود شری جے پی نڈا نے اجلاس کے اختتامی سیشن سے سربراہ کی حیثیت سے اپنے خطاب میں تمام شریک ممالک کے رہنماؤں سے “شواہد کی بنیاد پر فیصلہ سازی کی روایت سے جڑنے، صحت کے قومی نظاموں میں احتساب کو مضبوط کرنے اور سب سے زیادہ جس کی ضرورت ہے اس کے لیے وسائل کو ترتیب دینے کی اہمیت” پر زور دیا۔ خطاب کے دوران انہوں نے یہ یقین بھی دلایا کہ “بھارت عالمی شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون کے ذریعے زچہ و بچہ کی صحت میں عالمی پیشرفت کا مظاہرہ کرنے کے لیے کوششوں کی قیادت کرے گا اور تاکہ یقینی بنایا جا سکے کہ بعد از 2015ء ترقیاتی ایجنڈا زچہ و بچہ کی قابل انسداد اموات کے اسباب کے خاتمے میں آگے بڑھا جائے۔” شریک میزبان انجمنوں اور شراکت داروں کے سربراہان جن میں جناب رچرڈ ورما، امریکی سفیر برائے بھارت؛ محترمہ گیتا راؤ گپتا، ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر، یونی سیف؛ جناب گریندرے بی ہیری، بھارت کے لیے کنٹری ڈائریکٹر، بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن؛ جناب آر کے کرشن کمار، ٹرسٹی، ٹاٹا ٹرسٹس اور ڈاکٹر پونم کیتھرپال سنگھ، ریجنل ڈائریکٹر، ڈبلیو ایچ او (سیرو) نے اعلانِ دہلی کو تسلیم کرنے کے دوران وزارتی وفود میں شمولیت اختیار کی اور زچہ و بچہ کی قابل انسداد اموات کے خاتمے کے لیے عہد اور مدد سے وابستگی ظاہر کی۔ اجلاس 24 اقوام کے وزرائے صحت، بھارت کی ریاستوں کے وزرائے صحت، تعلیمی ماہرین، شعبہ صحت سے وابستہ پیشہ ور طبیب اور کارپوریٹ، سول سوسائٹی اور ذرائع ابلاغ سے وابستہ مختلف شعبوں کے عالمی رہنما کے لیے پلیٹ فارم تھا تاکہ نظام، شراکت داریوں، جدت طرازیوں، اجتماع اور زچہ و بچہ کی قابل انسداد اموات کے خاتمے کے لیے شواہد کی اہمیت پر غور کریں۔ ایڈیشنل سیکرٹری اور مشن ڈائریکٹر (نیشنل ہیلتھ مشن) شری سی کے مشرا نے اعلانِ دہلی میں ملکوں کی جانب سے کیے گئے عہد کا خاکہ پیش کیا۔ “عالمی حکمت عملی برائے صحتِ خواتین، بچے و نوعمر’ کے عنوان سے ہونے والے سیشن کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ “ماں اور بچے کی صحت کو زیادہ وسائل کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کے اثرات کو بڑھانے کے لیے احتساب کو یقینی بنانا اہم ہے۔” سیشن میں ماں اور بجے کی صحت کے
اے پی آر انرجی میانمار منصوبے کے لیے پاور میگزین کی جانب سے سرفہرست پلانٹس کا اعزاز
جیکسن ول، فلوریڈا، یکم ستمبر 2015ء/ پی آرنیوزوائر– فاسٹ-ٹریک توانائی حل فراہم کرنے والا معروف عالمی ادارہ اے پی آر انرجی پی ایل سی (ایل ایس ای: APR) یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی محسوس کرتا ہے کہ میانمار میں اس کے 102 میگاواٹ کے منصوبے کو پاور میگزین کی جانب سے گیس سے چلنے والے زمرے میں سرفہرست پلانٹس ایوارڈ 2015ء کا حامل قرار دیا گیا ہے۔ تصویر – http://photos.prnewswire.com/prnh/20150901/262631 اے پی آر انرجی کا 102 میگاواٹ کیاؤکسی پاور پلانٹ ملک کے دوسرے سب سے بڑے شہر منڈالے کے جنوب میں واقع ہے جہاں 42 ملین افراد بجلی تک رسائی کے بغیر رہتے ہیں۔ یہ جامع پلانٹ صرف 90 دنوں میں نصب کیا گیا تھا اور ملک میں سب سے بڑے تھرمل پلانٹس میں سے ایک ہے، جو چھ ملین سے زیادہ افراد کے لیے کافی بجلی پیدا کررہا ہے۔ میانمار کے مقامی گیس ذخائر سے ایندھن پانے والا یہ پلانٹ جدید ترین کیٹ (ر) کم اخراج کے حامل موبائل گیس پاور ماڈیولز رکھتا ہے اور میانمار میں صاف ترین بجلی پیداوار حلوں میں سے ایک پیش کرتا ہے۔ اے پی آر انرجی کے ایشیا بحر الکاہل خطے کے مینیجنگ ڈائریکٹر کلائیو ٹرٹن نے کہا کہ “ہم پاور میگزین کی جانب سے سرفہرست پلانٹس ایوارڈ جیتنے کے لیے نامزد ہونے پر بہت فخر محسوس کرتے ہیں۔ میانمار زبردست صلاحیتوں کی حامل ایک تیزی سے ابھرتی ہوئی معیشت ہے۔ کیاؤکسی میں ہمارا پلانٹ ملک کو قابل بھروسہ بجلی تک رسائی فراہم کرتا ہے، جو ایک اہم توانائی خلا کو پورا کرنے میں مدد دے رہا ہے جہاں تین چوتھائی آبادی قابل بھروسہ بجلی تک رسائی نہیں رکھتی۔” ٹرٹن نے مزید کہا “پلانٹ کی کامیابی ہمارے ملازمین اور ٹھیکیداروں کی زبردست کوششوں کی عکاسی کرتی ہے – جن میں سے بیشتر مقامی رہائشی ہیں – جنہوں نے معاہدے پر دستخط کے بعد صرف 90 دن میں اسے نصب کیا اور چلایا، اور حکومت میانمار کی زبردست وابستگی اور تعاون کو بھی ظاہر کرتی ہے۔ یہ فاسٹ-ٹریک توانائی حلوں کے فوری فوائد بھی ظاہر کرتی ہے جیسا کہ ہمارا جو ترقی پذیر اقوام کو اپنی معیشت کو آگے بڑھانے اور اپنے لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔” پلانٹ کے لیے ٹھیکہ، جس پر فروری 2014ء میں دستخط ہوئے تھے، پابندیوں کے خاتمے کے بعد کسی امریکی ادارے اور حکومت میانمار کے درمیان بجلی کی پیداوار کے لیے پہلا معاہدہ تھا۔ اے پی آر انرجی کو ایک مشکل دورانیہ کے اندر پیش کرنے اور بجلی کی پیداواری ٹیکنالوجی میں موثریت کی صلاحیتوں کی وجہ سے ٹھیکے سے نوازا گیا تھا۔ اپریل 2014ء میں 82 میگاواٹ کی ابتدائی شروعات کے بعد اے پی آر انرجی نے 2015ء کی پہلی سہ ماہی میں اضافی 20 میگاواٹ کی تنصیب شروع کی تاکہ بہار میں سالانہ خشک موسم کے دوران ہائیڈروپاور کی کمی کو متوازن کرنے میں مدد ملے۔ منصوبے کے بارے میں ایک مختصر وڈیو دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ اے پی آر انرجی کے بارے میں اے پی آر انرجی دنیا کا معروف ترین فاسٹ-ٹریک موبائل ٹربائن پاور فراہم
عالمی فروخت و مارکیٹنگ ادارے زیڈ ایس نے سنگاپور دفتر کھول لیا
– نیا دفتر ترقی پاتے ہوئے ایشیا-بحرالکاہل خطے میں موجودہ صارفی خدمت پر کی بنیاد پرتعمیر ہوگا ایونسٹن، الینوائے، 31 اگست 2015ء/پی آرنیوزوائر– ایشیا-بحر الکاہل خطے میں اپنی موجودگی کو بڑھانے کے لیے قدم کے طور پر عالمی فروخت و مارکیٹنگ ادارے زیڈ ایس نے حال ہی میں سنگاپور میں اپنا دفتر کھولا۔ نیا دفتر ایشیا میں زیڈ ایس کا پانچواں مقام اور دنیا بھر میں 22 واں ہے۔ دنیا بھر میں اداروں اور مختلف صنعتوں کو وسیع اقسام کے فروخت و مارکیٹنگ مسائل سے نمٹنے میں مدد دینے سے وابستہ ادارے نے سنگاپور میں سرمایہ کاری کو بڑھایا ہے کیونکہ ادویات ساز، حیاتی ٹیکنالوجی اور طبی ڈیوائس صنعت خطے میں زبردست ترقی پا رہی ہے۔ کئی بڑے ادویات ساز اور طبی ڈیوائس بنانے والے ادارے یا تو سنگاپور میں پہلے سے علاقائی صدر دفاتر رکھتے ہیں یا ملک میں موجودگی رکھنے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔ زیڈ ایس مینیجنگ ڈائریکٹر کرس رائٹ نے کہا کہ “سنگاپور کثير القومی صحت عامہ کے اداروں کا سرچشمہ بن چکا ہے، اور ہم ان اداروں – اور ان کے ملحقہ اداروں- میں سے کئی کو مدد فراہم کرچکے ہیں تاکہ وہ اب سے چند سال بعد تک فروخت اور مارکیٹنگ کے انوکھے چیلنجز سے نمٹیں۔ زیڈ ایس نے ادویات سازی کی صنعت میں 30 سال قبل آغاز لیا تھا اور سالہا سال میں دیگر کئی صنعتوں تک توسیع پاچکا ہے۔ نئے مقام پر سرمایہ کاری تزویراتی کامیابی کی بنیاد پر ہے اور ہمیں سنگاپور اور ایشیا-بحر الکاہل خطے میں اداروں کی مدد کے لیے ان کے قریب تر اور بہتر مقام پر آنے کی سہولت دیتی ہے۔ یہ دنیا بھر میں صارفین کے ساتھ ہمارے عہد کو بھی نمایاں کرتی ہے۔” زیڈ ایس پرنسپل مازن زہلان سنگاپور دفتر کی قیادت کریں گے۔ زہلان پہلے ادارے کے پرنسٹن، نیو جرسی، دفتر میں کام کر چکے ہیں اور ایشیا، یورپ اور امریکا میں مختلف صنعت کے صارفین کے ساتھ کام کرنے کا 20 سال سے زیادہ کا تجربہ رکھتے ہیں۔ وہ سیلز، مارکیٹنگ اور پروڈکٹ ڈیولپمنٹ حکمت عملی اور طریقوں میں خاص مہارت کے حامل ہیں۔ اس میں انتظامی ڈیزائن، بعد از انضمام تکمیل، مصنوعات کے عالمی اجراء کی حکمت عملی، کمرشل نمونہ اور صارفی تجربہ ڈیزائن، اور سیلز و مارکیٹنگ موثریت شامل ہیں۔ زہلان ایشیا-بحر الکاہل میں خصوصی مصنوعات کے اجراء پر بھی جامع انداز میں کام کرچکے ہیں اور صارفین کو خطے میں اپنے کام کو بڑھانے میں مدد دے چکے ہیں۔ زہلان نے کہا کہ “ادویات سازی اور طبی ڈیوائسز کے ادارےوں کو کمرشل حکمت عملیاں بنانے، وسائل کو مقرر کرنے اور خطے کی کئی بڑھتی مارکیٹوں میں مواقع کا فائدہ اٹھانے کے لیے مضبوط ٹیم برقرار رکھنے میں چیلنجز کا سامنا ہے۔ سنگاپور میں زیڈ ایس اپنے تین دہائیوں کے تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے موثر گو-ٹو-مارکیٹ حکمت عملیاں تخلیق کرکے اداروں کی مدد کرے گا، ان کی صلاحیتوں کو بڑھائے اور ان کی ٹیموں میں اضافے کے طور پر کام کرے گا۔ سنگاپور دفتر زیڈ ایس خدمات کی مکمل وسعت پیش کرے گا اور خطے میں اداروں کے لیے
جے اے سولر آسٹریلیا کے موری سولر فارم کو 70 میگاواٹ کے ماڈیولز فراہم کرے گا
شنگھائی، 31 اگست 2015ء/ پی آرنیوزوائر– اعلیٰ کارکردگی کی شمسی مصنوعات بنانے والے دنیا کے بڑے اداروں میں سے ایک جے اے سولر ہولڈنگز کمپنی لمیٹڈ (نیس ڈیک: JASO) نے آج اعلان کیا ہے کہ آسٹریلیا کا 70 میگاواٹ کا موری سولر فارم (ایم ایس ایف) جون سے جے اے سولر کے فراہم کردہ شمسی ماڈیولز کی تنصیب شروع کرچکا ہے۔ ایم ایس ایف کے خصوصی فراہم کنندہ کی حیثیت سے جے اے سولر 70 میگاواٹ ماڈیولز کی تمام طلب کو پورا کرنے کے لیے جے اے پی 6-315 اور جے اے پی6-310 ماڈیولز فراہم کرتا رے گا۔ رواں سال کے اوائل میں ایم ایس ایف کو آئی جے گلوبل کی حیثیت سے 2014ء میں ایشیا بحر الکاہل خطے میں بہترین شمسی سودے کی حیثیت سے تسلیم کیا گیا تھا۔ اعزاز توانائی اور بنیادی ڈھانچے کی سرمایہ کاری میں امتیاز، کامیابی اور جدت طرازی کو تسلیم کرتا ہے۔ http://photos.prnasia.com/prnvar/20150522/0861504483LOGO ایم ایس ایف شماسی نیو ساؤتھ ویلز میں موری سے 10 کلومیٹر جنوب میں واقع ہے۔ منصوبہ فوٹوواٹیو ری نیوایبلز وینچرز (“ایف آر وی” کی ملکیت ہے۔ منصوبے کی سرمایہ کاری کل 164 ملین ڈالر ہے، جس میں آسٹریلیا ری نیوایبل انرجی ایجنسی کی 102 ملین ڈالر کی گرانٹ اور کلین انرجی فنانس کارپوریشن کی جانب سے 47 ملین ڈالر کی قرضہ جاتی سرمایہ کاری بھی شامل ہے، جو اگست 2014ء میں محفوظ کی گئی، اور تعمیر کا آغاز نومبر 2014ء میں ہوا۔ ایف آر وی کے آسٹریلیا کنٹری مینیجر اینڈریا فونٹانا نے کہا کہ، “موری شمسی فارم اس وقت آسٹریلیا میں زیر تعمیر سب سے بڑا شمسی فارم ہے۔ ایک مرتبہ مکمل ہونے کے بعد ایم ایس ایف نیو ساؤتھ ویلز کے تقریباً 15,000 گھروں کے لیے کافی بجلی پیدا کرے گا اور ہر سال لگ بھگ 95,000 ٹن کاربن آلودگی کی تخفیف کرے گا۔ مزید برآں، یہ اپنی تعمیر کے دوران 100 سے زیادہ ملازمتیں بھی تخلیق کرے گا۔ صدر اور سی او او جے اے سولر سی جیان نے کہا کہ “آسٹریلیا کی مارکیٹ میں طلب تاریخی طور پر گھریلو استعمال کے لیے چھت پر شمسی پینل لگانے کے گرد رہی ہے۔ آسٹریلیا میں پی وی ماڈیولز کے بڑے فراہم کنندہ کی حیثیت سے جے اے سولر اس مارکیٹ میں چھتوں پر نصب کرنے کے لیے انتہائی موثر مونو-کرسٹلائن اور پولی-کرسٹلائن سلیکون ماڈیولز فراہم کرنے پر توجہ رکھے ہوئے ہے۔ ہم اب نہ صرف آسٹریلیا میں موری شمسی فارم جیسے بڑے پیمانے کے منصوبوں کو دیکھ کر بلکہ منصوبے میں اہم شراکت داری کی حیثیت سے بھی شمولیت پر بہت خوش ہیں۔ ہمارا ماننا ہے کہ ایم ایس ایف کا اجراء مستقبل میں آسٹریلیا میں بڑے پیمانے کے مزید شمسی منصوبوں میں تعاون کے ممکنہ مواقع کے لیے بنیاد کا کام کرے گا۔” لوگو – http://photos.prnasia.com/prnh/20150522/0861504483LOGO

