ماؤں اور بچوں کی قابلِ انسداد اموات کے خاتمے کے لیے کال ٹو ایکشن سمٹ 2015ء میں اعلانِ دہلی

اے پی آر انرجی میانمار منصوبے کے لیے پاور میگزین کی جانب سے سرفہرست پلانٹس کا اعزاز

عالمی فروخت و مارکیٹنگ ادارے زیڈ ایس نے سنگاپور دفتر کھول لیا

جے اے سولر آسٹریلیا کے موری سولر فارم کو 70 میگاواٹ کے ماڈیولز فراہم کرے گا

ایشیائی ماہرینِ تعلیم بین الاقوامی اجلاس میں ترکِ تعلیم کا جائزہ لیں گے

118 واںکینٹن میلہ “چین-افریقہ تجارت کو بڑھانے کے لیے بہترین پلیٹ فارم”

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

تلاش کریں

ماؤں اور بچوں کی قابلِ انسداد اموات کے خاتمے کے لیے کال ٹو ایکشن سمٹ 2015ء میں اعلانِ دہلی

نئی دہلی، 28 اگست 2015ء/ پی آرنیوزوائر– دو روزہ عالمی ‘کال ٹو ایکشن سمٹ 2015ء’ آج ‘قابل انسداد زچہ و بچہ اموات کے خاتمے’ کے لیے 22 ممالک کے وزرائے صحت اور قومی وفود کے سربراہان کے تسلیم کردہ اعلانِ دہلی کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچی۔ اعلان اجلاس کے دوران گزشتہ روز ہونے والے اعلیٰ وزارتی اجتماع کے نتیجے کے طور پر تشکیل پایا۔ Call to Action Summit 2015 (لوگو:http://photos.prnewswire.com/prnh/20150828/762204) کال ٹو ایکشن سمٹ 2015ء 27 سے 28 اگست 2015ء تک نئی دہلی میں منعقد ہوئی جس کی مشترکہ میزبانی وزارت صحت و خاندانی بہبود، حکومت بھارت اور وزارت صحت ایتھوپیا نے بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن، ٹاٹا ٹرسٹس، یونی سیف، یو ایس ایڈ اور ڈبلیو ایچ او کے تعاون سے کی۔ عزت مآب وفاقی وزیر برائے صحت و خاندانی بہبود شری جے پی نڈا نے اجلاس کے اختتامی سیشن سے سربراہ کی حیثیت سے اپنے خطاب میں تمام شریک ممالک کے رہنماؤں سے “شواہد کی بنیاد پر فیصلہ سازی کی روایت سے جڑنے، صحت کے قومی نظاموں میں احتساب کو مضبوط کرنے اور سب سے زیادہ جس کی ضرورت ہے اس کے لیے وسائل کو ترتیب دینے کی اہمیت” پر زور دیا۔ خطاب کے دوران انہوں نے یہ یقین بھی دلایا کہ “بھارت عالمی شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون کے ذریعے زچہ و بچہ کی صحت میں عالمی پیشرفت کا مظاہرہ کرنے کے لیے کوششوں کی قیادت کرے گا اور تاکہ یقینی بنایا جا سکے کہ بعد از 2015ء ترقیاتی ایجنڈا زچہ و بچہ کی قابل انسداد اموات کے اسباب کے خاتمے میں آگے بڑھا جائے۔” شریک میزبان انجمنوں اور شراکت داروں کے سربراہان جن میں جناب رچرڈ ورما، امریکی سفیر برائے بھارت؛ محترمہ گیتا راؤ گپتا، ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر، یونی سیف؛ جناب گریندرے بی ہیری، بھارت کے لیے کنٹری ڈائریکٹر، بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن؛ جناب آر کے کرشن کمار، ٹرسٹی، ٹاٹا ٹرسٹس اور ڈاکٹر پونم کیتھرپال سنگھ، ریجنل ڈائریکٹر، ڈبلیو ایچ او (سیرو) نے اعلانِ دہلی کو تسلیم کرنے کے دوران وزارتی وفود میں شمولیت اختیار کی اور زچہ و بچہ کی قابل انسداد اموات کے خاتمے کے لیے عہد اور مدد سے وابستگی ظاہر کی۔ اجلاس 24 اقوام کے وزرائے صحت، بھارت کی ریاستوں کے وزرائے صحت، تعلیمی ماہرین، شعبہ صحت سے وابستہ پیشہ ور طبیب اور کارپوریٹ، سول سوسائٹی اور ذرائع ابلاغ سے وابستہ مختلف شعبوں کے عالمی رہنما کے لیے پلیٹ فارم تھا تاکہ نظام، شراکت داریوں، جدت طرازیوں، اجتماع اور زچہ و بچہ کی قابل انسداد اموات کے خاتمے کے لیے شواہد کی اہمیت پر غور کریں۔ ایڈیشنل سیکرٹری اور مشن ڈائریکٹر (نیشنل ہیلتھ مشن) شری سی کے مشرا نے اعلانِ دہلی میں ملکوں کی جانب سے کیے گئے عہد کا خاکہ پیش کیا۔ “عالمی حکمت عملی برائے صحتِ خواتین، بچے و نوعمر’ کے عنوان سے ہونے والے سیشن کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ “ماں اور بچے کی صحت کو زیادہ وسائل کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کے اثرات کو بڑھانے کے لیے احتساب کو یقینی بنانا اہم ہے۔” سیشن میں ماں اور بجے کی صحت کے

مزید پڑھیں

اے پی آر انرجی میانمار منصوبے کے لیے پاور میگزین کی جانب سے سرفہرست پلانٹس کا اعزاز

جیکسن ول، فلوریڈا، یکم ستمبر 2015ء/ پی آرنیوزوائر– فاسٹ-ٹریک توانائی حل فراہم کرنے والا معروف عالمی ادارہ اے پی آر انرجی پی ایل سی (ایل ایس ای: APR) یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی محسوس کرتا ہے کہ میانمار میں اس کے 102 میگاواٹ کے منصوبے کو پاور میگزین کی جانب سے گیس سے چلنے والے زمرے میں سرفہرست پلانٹس ایوارڈ 2015ء کا حامل قرار دیا گیا ہے۔ تصویر – http://photos.prnewswire.com/prnh/20150901/262631 اے پی آر انرجی کا 102 میگاواٹ کیاؤکسی پاور پلانٹ ملک کے دوسرے سب سے بڑے شہر منڈالے کے جنوب میں واقع ہے جہاں 42 ملین افراد بجلی تک رسائی کے بغیر رہتے ہیں۔ یہ جامع پلانٹ صرف 90 دنوں میں نصب کیا گیا تھا اور ملک میں سب سے بڑے تھرمل پلانٹس میں سے ایک ہے، جو چھ ملین سے زیادہ افراد کے لیے کافی بجلی پیدا کررہا ہے۔ میانمار کے مقامی گیس ذخائر سے ایندھن پانے والا یہ پلانٹ جدید ترین کیٹ (ر) کم اخراج کے حامل موبائل گیس پاور ماڈیولز رکھتا ہے اور میانمار میں صاف ترین بجلی پیداوار حلوں میں سے ایک پیش کرتا ہے۔ اے پی آر انرجی کے ایشیا بحر الکاہل خطے کے مینیجنگ ڈائریکٹر کلائیو ٹرٹن نے کہا کہ “ہم پاور میگزین کی جانب سے سرفہرست پلانٹس ایوارڈ جیتنے کے لیے نامزد ہونے پر بہت فخر محسوس کرتے ہیں۔ میانمار زبردست صلاحیتوں کی حامل ایک تیزی سے ابھرتی ہوئی معیشت ہے۔ کیاؤکسی میں ہمارا پلانٹ ملک کو قابل بھروسہ بجلی تک رسائی فراہم کرتا ہے، جو ایک اہم توانائی خلا کو پورا کرنے میں مدد دے رہا ہے جہاں تین چوتھائی آبادی قابل بھروسہ بجلی تک رسائی نہیں رکھتی۔” ٹرٹن نے مزید کہا “پلانٹ کی کامیابی ہمارے ملازمین اور ٹھیکیداروں کی زبردست کوششوں کی عکاسی کرتی ہے – جن میں سے بیشتر مقامی رہائشی ہیں – جنہوں نے معاہدے پر دستخط کے بعد صرف 90 دن میں اسے نصب کیا اور چلایا، اور حکومت میانمار کی زبردست وابستگی اور تعاون کو بھی ظاہر کرتی ہے۔ یہ فاسٹ-ٹریک توانائی حلوں کے فوری فوائد بھی ظاہر کرتی ہے جیسا کہ ہمارا جو ترقی پذیر اقوام کو اپنی معیشت کو آگے بڑھانے اور اپنے لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔” پلانٹ کے لیے ٹھیکہ، جس پر فروری 2014ء میں دستخط ہوئے تھے، پابندیوں کے خاتمے کے بعد کسی امریکی ادارے اور حکومت میانمار کے درمیان بجلی کی پیداوار کے لیے پہلا معاہدہ تھا۔ اے پی آر انرجی کو ایک مشکل دورانیہ کے اندر پیش کرنے اور بجلی کی پیداواری ٹیکنالوجی میں موثریت کی صلاحیتوں کی وجہ سے ٹھیکے سے نوازا گیا تھا۔ اپریل 2014ء میں 82 میگاواٹ کی ابتدائی شروعات کے بعد اے پی آر انرجی نے 2015ء کی پہلی سہ ماہی میں اضافی 20 میگاواٹ کی تنصیب شروع کی تاکہ بہار میں سالانہ خشک موسم کے دوران ہائیڈروپاور کی کمی کو متوازن کرنے میں مدد ملے۔ منصوبے کے بارے میں ایک مختصر وڈیو دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ اے پی آر انرجی کے بارے میں اے پی آر انرجی دنیا کا معروف ترین فاسٹ-ٹریک موبائل ٹربائن پاور فراہم

مزید پڑھیں

عالمی فروخت و مارکیٹنگ ادارے زیڈ ایس نے سنگاپور دفتر کھول لیا

– نیا دفتر ترقی پاتے ہوئے ایشیا-بحرالکاہل خطے میں موجودہ صارفی خدمت پر کی بنیاد پرتعمیر ہوگا ایونسٹن، الینوائے، 31 اگست 2015ء/پی آرنیوزوائر– ایشیا-بحر الکاہل خطے میں اپنی موجودگی کو بڑھانے کے لیے قدم کے طور پر عالمی فروخت و مارکیٹنگ ادارے زیڈ ایس نے حال ہی میں سنگاپور میں اپنا دفتر کھولا۔ نیا دفتر ایشیا میں زیڈ ایس کا پانچواں مقام اور دنیا بھر میں 22 واں ہے۔ دنیا بھر میں اداروں اور مختلف صنعتوں کو وسیع اقسام کے فروخت و مارکیٹنگ مسائل سے نمٹنے میں مدد دینے سے وابستہ ادارے نے سنگاپور میں سرمایہ کاری کو بڑھایا ہے کیونکہ ادویات ساز، حیاتی ٹیکنالوجی اور طبی ڈیوائس صنعت خطے میں زبردست ترقی پا رہی ہے۔ کئی بڑے ادویات ساز اور طبی ڈیوائس بنانے والے ادارے یا تو سنگاپور میں پہلے سے علاقائی صدر دفاتر رکھتے ہیں یا ملک میں موجودگی رکھنے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔ زیڈ ایس مینیجنگ ڈائریکٹر کرس رائٹ نے کہا کہ “سنگاپور کثير القومی صحت عامہ کے اداروں کا سرچشمہ بن چکا ہے، اور ہم ان اداروں – اور ان کے ملحقہ اداروں- میں سے کئی کو مدد فراہم کرچکے ہیں تاکہ وہ اب سے چند سال بعد تک فروخت اور مارکیٹنگ کے انوکھے چیلنجز سے نمٹیں۔ زیڈ ایس نے ادویات سازی کی صنعت میں 30 سال قبل آغاز لیا تھا اور سالہا سال میں دیگر کئی صنعتوں تک توسیع پاچکا ہے۔ نئے مقام پر سرمایہ کاری تزویراتی کامیابی کی بنیاد پر ہے اور ہمیں سنگاپور اور ایشیا-بحر الکاہل خطے میں اداروں کی مدد کے لیے ان کے قریب تر اور بہتر مقام پر آنے کی سہولت دیتی ہے۔ یہ دنیا بھر میں صارفین کے ساتھ ہمارے عہد کو بھی نمایاں کرتی ہے۔” زیڈ ایس پرنسپل مازن زہلان سنگاپور دفتر کی قیادت کریں گے۔ زہلان پہلے ادارے کے پرنسٹن، نیو جرسی، دفتر میں کام کر چکے ہیں اور ایشیا، یورپ اور امریکا میں مختلف صنعت کے صارفین کے ساتھ کام کرنے کا 20 سال سے زیادہ کا تجربہ رکھتے ہیں۔ وہ  سیلز، مارکیٹنگ اور پروڈکٹ ڈیولپمنٹ حکمت عملی اور طریقوں میں خاص مہارت کے حامل ہیں۔ اس میں انتظامی ڈیزائن، بعد از انضمام تکمیل، مصنوعات کے عالمی اجراء کی حکمت عملی، کمرشل نمونہ اور صارفی تجربہ ڈیزائن، اور سیلز و مارکیٹنگ موثریت شامل ہیں۔ زہلان ایشیا-بحر الکاہل میں خصوصی مصنوعات کے اجراء پر بھی جامع انداز میں کام کرچکے ہیں اور صارفین کو خطے میں اپنے کام کو بڑھانے میں مدد دے چکے ہیں۔ زہلان نے کہا کہ “ادویات سازی اور طبی ڈیوائسز کے ادارےوں کو کمرشل حکمت عملیاں بنانے، وسائل کو مقرر کرنے اور خطے کی کئی بڑھتی مارکیٹوں میں مواقع کا فائدہ اٹھانے کے لیے مضبوط ٹیم برقرار رکھنے میں چیلنجز کا سامنا ہے۔ سنگاپور میں زیڈ ایس اپنے تین دہائیوں کے تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے موثر گو-ٹو-مارکیٹ حکمت عملیاں تخلیق کرکے اداروں کی مدد کرے گا، ان کی صلاحیتوں کو بڑھائے اور ان کی ٹیموں میں اضافے کے طور پر کام کرے گا۔ سنگاپور دفتر زیڈ ایس خدمات کی مکمل وسعت پیش کرے گا اور خطے میں اداروں کے لیے

مزید پڑھیں

جے اے سولر آسٹریلیا کے موری سولر فارم کو 70 میگاواٹ کے ماڈیولز فراہم کرے گا

شنگھائی، 31 اگست 2015ء/ پی آرنیوزوائر– اعلیٰ کارکردگی کی شمسی مصنوعات بنانے والے دنیا کے بڑے اداروں میں سے ایک جے اے سولر ہولڈنگز کمپنی لمیٹڈ (نیس ڈیک: JASO) نے آج اعلان کیا ہے کہ آسٹریلیا کا 70 میگاواٹ کا موری سولر فارم (ایم ایس ایف) جون سے جے اے سولر کے فراہم کردہ شمسی ماڈیولز کی تنصیب شروع کرچکا ہے۔ ایم ایس ایف کے خصوصی فراہم کنندہ کی حیثیت سے جے اے سولر 70 میگاواٹ ماڈیولز کی تمام طلب کو پورا کرنے کے لیے جے اے پی 6-315 اور جے اے پی6-310 ماڈیولز فراہم کرتا رے گا۔ رواں سال کے اوائل میں ایم ایس ایف کو آئی جے گلوبل کی حیثیت سے 2014ء میں ایشیا بحر الکاہل خطے میں بہترین شمسی سودے کی حیثیت سے تسلیم کیا گیا تھا۔ اعزاز توانائی اور بنیادی ڈھانچے کی سرمایہ کاری میں امتیاز، کامیابی اور جدت طرازی کو تسلیم کرتا ہے۔ http://photos.prnasia.com/prnvar/20150522/0861504483LOGO ایم ایس ایف شماسی نیو ساؤتھ ویلز میں موری سے 10 کلومیٹر جنوب میں واقع ہے۔ منصوبہ فوٹوواٹیو ری نیوایبلز وینچرز (“ایف آر وی” کی ملکیت ہے۔ منصوبے کی سرمایہ کاری کل 164 ملین ڈالر ہے، جس میں آسٹریلیا ری نیوایبل انرجی ایجنسی کی 102 ملین ڈالر کی گرانٹ اور کلین انرجی فنانس کارپوریشن کی جانب سے 47 ملین ڈالر کی قرضہ جاتی سرمایہ کاری بھی شامل ہے، جو اگست 2014ء میں محفوظ کی گئی، اور تعمیر کا آغاز نومبر 2014ء میں ہوا۔ ایف آر وی کے آسٹریلیا کنٹری مینیجر اینڈریا فونٹانا نے کہا کہ، “موری شمسی فارم اس وقت آسٹریلیا میں زیر تعمیر سب سے بڑا شمسی فارم ہے۔ ایک مرتبہ مکمل ہونے کے بعد ایم ایس ایف نیو ساؤتھ ویلز کے تقریباً 15,000 گھروں کے لیے کافی بجلی پیدا کرے گا اور ہر سال لگ بھگ 95,000 ٹن کاربن آلودگی کی تخفیف کرے گا۔ مزید برآں، یہ اپنی تعمیر کے دوران 100 سے زیادہ ملازمتیں بھی تخلیق کرے گا۔ صدر اور سی او او جے اے سولر سی جیان نے کہا کہ “آسٹریلیا کی مارکیٹ میں طلب تاریخی طور پر گھریلو استعمال کے لیے چھت پر شمسی پینل لگانے کے گرد رہی ہے۔ آسٹریلیا میں پی وی ماڈیولز کے بڑے فراہم کنندہ کی حیثیت سے جے اے سولر اس مارکیٹ میں چھتوں پر نصب کرنے کے لیے انتہائی موثر مونو-کرسٹلائن اور پولی-کرسٹلائن سلیکون ماڈیولز فراہم کرنے پر توجہ رکھے ہوئے ہے۔ ہم اب نہ صرف آسٹریلیا میں موری شمسی فارم جیسے بڑے پیمانے کے منصوبوں کو دیکھ کر بلکہ منصوبے میں اہم شراکت داری کی حیثیت سے بھی شمولیت پر بہت خوش ہیں۔ ہمارا ماننا ہے کہ ایم ایس ایف کا اجراء مستقبل میں آسٹریلیا میں بڑے پیمانے کے مزید شمسی منصوبوں میں تعاون کے ممکنہ مواقع کے لیے بنیاد کا کام کرے گا۔” لوگو – http://photos.prnasia.com/prnh/20150522/0861504483LOGO

مزید پڑھیں

ایشیائی ماہرینِ تعلیم بین الاقوامی اجلاس میں ترکِ تعلیم کا جائزہ لیں گے

واشنگٹن، 27 اگست 2015ء/ پی آرنیوزوائر– امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقیات (www.usaid.gov) اور کری ایٹو ایسوسی ایٹس انٹرنیشنل (www.CreativeAssociatesInternational.com) نے اعلان کیا ہے کہ بنگلہ دیش، کمبوڈیا، بھارت، تاجکستان اور مشرقی تیمور کے تعلیمی عہدیداران ترکِ تعلیم اور بچوں کو کمرۂ جماعت میں برقرار رکھنے کی حکمت عملی کے محرکین کی جستجو کے لیے دو روزہ اجلاس میں تقریباً 200 ماہرین اور حکومتی نمائںدگان کے ساتھ شریک ہوں گے۔ تصویر – http://photos.prnewswire.com/prnh/20150826/261354 “امتناعِ ترکِ تعلیم اجلاس: وجوہات کو سمجھنا، حل پیش کرنا” 9 سے 10 ستمبر تک واشنگٹن (ڈی سی) ہلٹن میں منعقد ہوگا۔ تعلیمی  ماہرین – اور ساتھ ساتھ ذرائع ابلاغ –رجسٹریشن کھلی ہے اور اس کی کوئی لاگت نہیں۔ جگہ پہلے آئیے، پہلے پائیے کی بنیاد پر دی جائے گی۔ http://events.r20.constantcontact.com/register/event?oeidk=a07ebay5j921c3cba1f&llr=7s7s76mab 9 اور 10 ستمبر اجلاس، جو ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ممالک میں ترکِ تعلیم کے عوامل کا جائزہ لے گا، مندرجہ ذیل طے شدہ نشستیں رکھتا ہے: ترکِ تعلیم سے نمٹنے کے لیے حکمت عملیوں کا جائزہ قبل از وقت انتباہ کے نظام: عمل کے لیے ایک بنیاد امتنازعِ جرائم و ترکِ تعلیم کی حکمت عملیاں جنگ زدہ علاقوں امتنازعِ ترکِ تعلیم ، لڑکیوں اور نوعمر افراد افراد کے روزگار کے لیے کیا یہ کارآمد رہا؟ ترکِ تعلیم میں مداخلت کے اثرات پر امتنازعِ ترکِ تعلیم پائلٹ تحقیق کے نتائج دو روزہ نشست کے اختتام پر ” ترکِ تعلیم سے نمٹنا: وزارت ہائے تعلیم خیالات” کے عنوان سے انٹرویو انداز کی ایک نشست ہوگی۔ 4 ملکی امتنازعِ ترکِ تعلیم پائلٹ پروگرام کے نتائج یو ایس ایڈ کی مدد کے ساتھ کری ایٹو نے ایک پنج سالہ، پنج ملکی عملی تحقیقی منصوبے پر کام کے لیے شراکت داروں کی جماعت کی قیادت کری، اس منصوبے کو ” امتنازعِ ترکِ تعلیم پائلٹ پروگرام” کا نام دیا گیا جس نے ترکِ تعلیم کے محرکات کا کھوج لگایا اور حکومتی وزارتوں، تعلیمی ماہرین، مقامی برادریوں، والدین اور طلباء کو تحفظ پذیر حلوں میں شامل کیا۔ اس منصوبے میں سب سے بڑے ملک کمبوڈیا، بھارت، تاجکستان اور مشرقی تیمور  ہیں۔ اس پائلٹ منصوبے کے نتائج کوممالک کی ٹیمیں اور وزارت ہائے تعلیم کانفرنس کے دوران پیش کرے گی،مع دیگرحکمت عملیوں اور تحقیق کے۔ پائلٹ منصوبے کو کیئر انٹرنیشنل، کمپوچین ایکشن فار پرائمری ایجوکیشن، کوئسٹ الائنس اور کری ایٹو کی جانب سے مکمل کیا گیا۔ پائلٹ منصوبے میں شامل چار ممالک کے نمائندگان کے علاوہ مصر، نائیجیریا، تنزانیہ، بنگلہ دیش اوردیگر ممالک کے وفود بھی شرکت کریں گے۔ کری ایٹو کے سی ای او چیریٹو کرووینٹ کہتے ہیں کہ ” ترکِ تعلیم کے امتناع کا کوئی واحد اور سادہ حل نہیں ہے۔ ترکِ تعلیم سے نمٹنے کے لیے مختلف طریقے استعمال کیے جاچکے ہیں، جو مختلف سطح پر کامیاب ہوئے ہیں۔ یہ ایک موقع ہے ان کوششوں پر نظرثانی کرنے اور ان پر گفتگو کرنے کا اور بچوں کی تعلیم کی کامیابی سے تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے ممالک کی منصوبہ بندی پر بات کرنے کا۔” یو ایس ایڈ اور کری ایٹو ایسوسی ایٹس انٹرنیشنل کے بارے میں امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقیات  معروف امریکی حکومتی ادارہ ہے جو

مزید پڑھیں

118 واںکینٹن میلہ “چین-افریقہ تجارت کو بڑھانے کے لیے بہترین پلیٹ فارم”

گوانگ چو، چین، 27 اگست 2015ء/ پی آرنیوزوائر– اِس خزاں میں چائناسدرن ایئرلائنز (سی ایس اے) کے ساتھ اپنی کامیاب شراکت داری کے تسلسل کے ذریعے چین-افریقہ تجارت کو بڑھائے گا۔ سی ایس اے تمام افریقی شرکاء کو میلے کے 118 ویں سیشن کے لیے نیروبی اور گوانگ چو کے درمیان بارعایت پروازیں دے رہا ہے – جو 15 اکتوبر سے 4 نومبر 2015ء تک جاری رہیں گی۔ ماضی میں ایسے ہی رعایتی کرائے آسٹریلیا، نیوزیلینڈ اور امریکہ جیسے ممالک کے خریداروں کے لیے پیش کیے گئے تھے۔ اس پیشکش کا فائدہ اٹھانے کے خواہشمند افراد چائناسدرن ایئرلائنزپر یکطرفہ یا دوطرفہ ٹکٹوں (تمام کلاس کے لیے) پر 10 فیصد رعایت پائیں گے۔ بارعایت ٹکٹ 25 اگست سے 5 نومبر تک تمام افریقی خریداروں کے لیے دستیاب ہیں، کینٹن میلے کی ویب سائٹ کے لیے پہلے رجسٹریشن کے بعد۔ پروازیں 12 اکتوبر سے 5 نومبر کے دوران کسی بھی وقت کی جا سکتی ہیں۔ چین-افریقہ تجارتی تعلقات تاریخ میں کبھی بھی آج جتنے مضبوط نہ تھے۔ باضابطہ اعدادوشمار کے مطابق چین 2009ء سے افریقہ کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ یہ براعظم میں سب سے بڑا ترقیاتی سرمایہ کار بھی ہے اور دوسرا سب سے بڑا غیر ملکی ٹھیکیدار بھی۔ اس کے بدلے میں چینی معیشت کے لیے افریقہ سے ہونے والے درآمدات بہت اہمیت اختیار کررہی ہیں۔ چین کے سب سے موقر اور منافع بخش غیر ملکی تجارتی پلیٹ فارم کی حیثیت سے کینٹن میلہ افریقی خریداروں کی تعداد میں اضافے کو ملاحظہ کررہا ہے۔ میلے کے 117 ویں سیشن میں 15,000 سے زائد افراد نے شرکت کی، جو 116 ویں میلے سے تقریباً 3 فیصد زیادہ تھا۔ چینی “خوشحالی” کا فائدہ اٹھانے کے خواہشمند افریقی باشندوں کی بڑی تعداد کاروباری سرگرمی میں شامل ہونے کے لیے چین آ رہی ہے، جہاں گوانگ چو ان کے پہلے مقبول پڑاؤ کی حیثیت رکھتا ہے۔ کینٹن میلہ افریقی خریداروں کی جانب سے مسلسل زبردست آراء حاصل کررہا ہے۔ مصر کے گھریلو مصنوعات بنانے والے ادارے یونین ایئر کے شعبہ برآمدات کے نائب سربراہ احمد فواد کہتے ہیں کہ “ماضی میں میں امریکہ اور برطانیہ میں بین الاقوامی میلوں میں شرکت کرچکا ہوں۔ اب میں کینٹن میلے میں آتا ہوں۔ ممکنہ صارفین کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔” کینٹن میلے کے ذریعے ہی تنزانیہ کے ایک خریدار سعید سلیم حمد نے ہوبی زیگوئی دیوان کینڈ فوڈ کمپنی کے ساتھ ایک بہترین شراکت داری قائم کی۔ زیگوئی دیوان کے جنرل مینیجر جو جیاچیانگ کہتے ہیں کہ “یہ میلہ اپنے افریقی ہم منصب اداروں کے ساتھ بہترین معاہدے کرنے کا زبردست موقع ہے۔” 118 ویںکینٹن میلے کے بارے میں مزید معلومات کے لیے ملاحظہ کیجیے: http://www.cantonfair.org.cn/en/index.asp نیروبی-گوانگ چو پروموشن کے ابرے میں مزید جاننے کے لیے ملاحظہ کیجیے: http://www.cantonfair.org.cn/en/csair/index.shtml ذرائع ابلاغ کے سوالات کے لیے: محترمہ کلو کئی ٹیلی فون: 8622-8913-20-86+ ای میل: [email protected]

مزید پڑھیں