کراچی (پی پی آئی)اسٹیٹ بینک کے شعبہ بینکاری کی ششماہی کارکردگی جائزے میں بتایا گیا ہے کہ سال 2023کی پہلی ششماہی میں نجی شعبہ کے قرضوں میں کمی آئی جبکہ حکومتی قرضوں میں اضافہ ہوا۔پی پی آئی کے مطابق ملک میں معاشی ماحول کی دشواری کا تسلسل جاری رہا۔ ملکی مالی حالات سخت ہو گئے جبکہ مہنگائی کی بلند سطح اور طویل بے یقینی کے سبب آپریٹنگ کاماحول دباومیں رہا۔
دونوں ممالک معاملے کو خود ہی حل کرلیں: امریکہ
ووٹرز کی تصدیق، تحفظ کیلیے فوج کی تعیناتی
ابوغریب کے قیدیوں کو زرِ تلافی کی ادائیگی
’ہلاکتیں ناقابلِ قبول مگر حالات بگڑنے نہیں دے سکتے‘
تازہ ترین خبریں
- April 22, 2026
- April 22, 2026
اشتہار
تازہ ترین
نگراں وزیر مذہبی امور انیق احمد کی حج انتظامات کے سلسلہ میں عمائدین سلطنت سعودیہ سے ملاقاتیں
ریاض (پی پی آئی) وفاقی نگراں وزیرمذہبی امور انیق احمد نے جو آئندہ حج پالیسی کی تیاریوں کے سلسلے میں حجاز مقدس کے دورے پر ہیں۔پی پی آئی کے مطابق سعودی وزیر حج ڈاکٹر توفیق الربیعہ اور رابطہ عالم اسلامی کے سکریٹری جنرل ڈاکٹر عیسیٰ سے ملاقات کی جس میں آئندہ حج کی تیاریوں، انتظامات کے حوالے سے بات چیت ہوئی۔
تھیٹرز میں غیراخلاقی پرفارمنسز پر اداکاراؤں کے بعدمرد اداکاروں کیخلاف بھی کارروائی کا فیصلہ
لاہور(پی پی آئی)حکومت نے تھیٹرز میں غیراخلاقی پرفارمنسز کرنے والے مرد اداکاروں کیخلاف کارروائی کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔پی پی آئی کے مطابق حکومت پنجاب نے تھیٹرز پر غیر اخلاقی پرفارمنسز پرخواتین اداکاروں کے بعد مرد اداکاروں کیخلاف بھی کریک ڈاون کا فیصلہ کیا ہے،متعدد مرد اداکاروں کی غیر اخلاقی پرفارمنسز مانیٹر کی گئیں اورویڈیوز بھی اکٹھی کر لی گئیں۔ وزیر اطلاعات عامر میر کا کہنا ہے کہ جو بھی غیر اخلاقی پرفارمنسز کرے گا چاہے وہ مرد ہو یا خاتون قانون سے بالا تر نہیں۔وزیر اطلاعات عامر میر نے کہاکہ خواتین کے ساتھ ساتھ مرد فنکاروں کو بھی پابندی کا سامنا کرنا پڑے گا،قانون سب کیلئے برابر ہے چاہے وہ مرد ہو یا خاتون ہو۔ان کا کہنا تھا کہ پنجاب آرٹس کونسل نے ان تمام فنکاروں کی فہرستیں تیار کر لی ہیں،کے نفاذ کے بعد کوئی بھی مرد یا خاتون اداکار قانون کی خلاف ورزی کرتا پایا گیا تو سخت سزا کا مستحق ہوگا،فن و ثقافت کی بحالی چاہتے ہیں عریانی یا فحاشی نہیں۔
پنجاب کی ضلعی عدالتوں کے 4جج انسداددہشتگردی کی عدالتوں میں تعینات
لاہور(پی پی آئی)لاہور ہائیکورٹ نے ضلعی عدالتوں کے چار ججز کی خدمات پنجاب حکومت کے سپرد کر دیں، چاروں ججز انسداددہشتگردی عدالتوں میں تعینات کر دیئے گئے۔پی پی آئی کے مطابق ہائیکورٹ نے چاروں ججز کو 21 ستمبر تک انسدادِ دہشت گردی عدالتوں کا چارج لینے کی ہدایت کردی، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی منظوری کے بعد رجسٹرار نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد ارشد جاوید، جج انسدادِ دہشت گردی کورٹ نمبر تین لاہور،ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ملک اعجاز آصف جج انسدادِ دہشت گردی کورٹ نمبر ون راولپنڈی،ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ذوالفقار علی جج انسدادِ دہشت گردی کورٹ نمبر دو ملتان اورایڈیشنل سیشن جج مس نتاشا نسیم سپرا، جج انسدادِ دہشت گردی کورٹ نمبر دو گوجرانولہ تعینات کر دی گئیں۔نوٹیفکیشن کی نقول رجسٹرار سپریم، رجسٹرار وفاقی شرعی عدالت، رجسٹرار اسلام آباد ہائیکورٹ کو ارسال کر دی گئیں،نوٹیفکیشن کی نقول چیف سیکرٹری پنجاب اور صوبہ بھر کے سیشن ججز سمیت دیگر کو ارسال کی گئیں،نوٹیفکیشن کی نقول سیکرٹری ہوم،اکاو?نٹ جنرل پنجاب، اکاو?نٹنٹ جنرل پاکستان کو بھی ارسال کی گئی،نوٹیفکیشن کی نقول سیکرٹری الیکشن کمیشن،سیکرٹری لا اینڈ جسٹس سمیت دیگر کو بھجوا دی گئیں۔
تلاش کریں
خبریں

دونوں ممالک معاملے کو خود ہی حل کرلیں: امریکہ
(January 10, 2013)
پاکستان اور بھارت کے درمیان لائن آف کنٹرول پر فوجیوں کی ہلاکت کے باعث کشیدگی پر امریکی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ سخت رویہ کسی معاملے کا حل نہیں اور امریکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تناؤ کم کرنے کے لیے کردار ادا کررہا ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان وکٹوریہ نولینڈ نے بتایا کہ اعلیٰ سطح پر تعلقات بہتر بنانے کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا ’اچھا ہوگا کہ دونوں ممالک معاملے کو خود ہی حل کرلیں اور اگر ایسا نہ ہوسکا اور معاملہ اقوامِ متحدہ تک گیا تب بھی امریکہ اس میں معاونت کرے گا۔‘ دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے ترجمان مارٹن نیسرکی نے پریس بریفنگ میں کہا کہ پاکستان اور ہندوستان کے فوجی حکام ہاٹ لائن پر رابطے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو چاہیے کہ جاری کشیدگی میں کمی کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کریں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ’پاکستان نے چھ جنوری کے واقعے کی باضابطہ شکایت اقوامِ متحدہ کے مبصر مشن سے کی ہے۔ مشن جتنا جلدی ممکن ہوا اپنے مینڈیٹ کے مطابق اس واقعے کی تحقاقات شروع کرے گا۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ آٹھ جنوری کے واقعے کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے مبصر مشن سے نہ تو پاکستان اور نہ ہی بھارتی فوج نے رابطہ کیا ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان نے کہا ہے کہ وہ لائن آف کنٹرول پر حالیہ خلاف ورزیوں کی اقوام متحدہ کے پاکستان بھارت میں مبصر مشن کے ذریعے تحقیقات کروانے کو تیار ہے۔

ووٹرز کی تصدیق، تحفظ کیلیے فوج کی تعیناتی
(January 9, 2013)
کراچی میں انتخابی فہرستوں کے تصدیقی عمل کے دوران سکیورٹی کے لیے فوجی اور نیم فوجی اہلکاروں کی تعیناتی کا عمل بدھ سے شروع ہو رہا ہے۔ انتخابی کمیشن اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ان اہلکاروں کی تعیناتی الیکشن کمیشن کی درخواست پر کی جا رہی ہے اور ان کا کام عملے کو تحفظ فراہم کرنا ہو گا جبکہ انتخابی فہرستوں کی تصدیق صرف عملے کی ذمہ داری ہوگی ریڈیو پاکستان کے مطابق فوج ، ایف سی اور پولیس کے اہلکار شہر کے پانچوں اضلاع کراچی وسطی، غربی، شرقی، جنوبی اور ملیر میں تعینات ہوں گے اور انتخابی فہرستوں کی تصدیق کا عمل مکمل ہونے تک موجود رہیں گے۔ ہمارے نامہ نگار کے مطابق کراچی میں تقریباً چودہ ہزار افراد جمعرات دس جنوری سے شروع ہونے والے انتخابی فہرستوں کی تصدیق کے عمل میں شریک ہوں گے اور اس عملے کو سکیورٹی فراہم کرنے کے لیے سات ہزار فوجی اور نیم فوجی اہلکاروں کی تعیناتی کا امکان ہے۔ خیال رہے کہ ان اضلاع میں الیکشن کمیشن نے پہلے اٹھارہ ہزار عملے سے خدمات لینے کا فیصلہ کیا تھا تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مذاکرات کے بعد یہ تعداد کم کر کے تیرہ ہزار آٹھ سو کر دی گئی ہے۔ یاد رہے کہ پانچ دسمبر دو ہزار بارہ کو پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ نے کراچی کی انتخابی فہرستوں سے متعلق مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو شہر میں ووٹر فہرستوں کی تصدیق کے لیے فوج اور ایف سی سے مدد لینے کا حکم جاری کیا تھا۔ سپریم کورٹ کے جاری کردہ فیصلے میں انتخابی حکام کو کہا گیا تھا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ کسی بھی شہری کا ووٹ اس کی مرضی کے بغیر منتقل نہیں کیا گیا۔ اس حکم پر انتخابی فہرستوں کی تصدیق کا عمل شروع ہو رہا ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق ٹیمیں گھر گھر جا کر ووٹرز کی تصدیق اٹھارہ روز میں مکمل کر لیں گی اور شیڈول کے مطابق نادرا نئی ووٹرز لسٹوں کا اعلان چوبیس فروری کو کرے گی۔

ابوغریب کے قیدیوں کو زرِ تلافی کی ادائیگی
(January 9, 2013)
عراق کی ابو غریب جیل میں قیدیوں پر تشدد کے الزامات کا سامنا کرنے والی ایک نجی امریکی دفاعی کمپنی نے سابق قیدیوں کو زرِ تلافی کے طور پر پچاس لاکھ ڈالر ادا کیے ہیں۔ اس دفاعی کنٹریکٹر کی ذیلی کمپنی پر ابو غریب جیل میں قیدیوں پر تشدد کرنے کے الزامات ہیں۔ امریکی خبر رساں ادارے اے پی کو حاصل ہونے والی قانونی دستاویزات کے مطابق امریکی کمپنی اینجیلٹی ہولڈنگز نے ابو غریب جیل اور امریکہ کے زیر انتظام چلنے والے دیگر جیلوں کے اکہتر سابق قیدیوں کو ایل تھری نامی کمپنی کی جانب سے یہ معاوضہ ادا کیا۔ ایل تھری کمپنی نے عراق میں جنگ کے بعد امریکی فوج کے لیے مترجم کے طور پر کام کیا تھا۔ سال دو ہزار چار میں بغداد کی ابو غریب جیل میں قیدیوں پر تشدد کی تصاویر منظر عام آنے پر بین الاقوامی سطح پر سخت غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا۔ ایک اور نجی کمپنی سی اے سی آئی کو بھی متوقع طور پر اسی قسم کے الزامات پر عدالتی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس کمپنی نے امریکی فوج کو تفتیش کار مہیا کیے تھے۔ امریکی حکومت جنگ کے دنوں میں فوج کی کارروائی کی وجہ سے قانونی چارہ جوئی سے محفوظ ہے تاہم عدالتیں اب بھی اس بات کا جائزہ لے رہی ہیں کہ آیا نجی کمپنیوں کو بھی جنگ زدہ علاقوں میں اسی قسم کی استثنیٰ حاصل ہے۔ اینجیلٹی ہولڈنگز کی جانب سے زر تلافی ادا کرنا عراق جیل کے سابق قیدیوں کی جانب سے دفاعی ٹھیکیداروں کے خلاف دائر کردہ مقدمات میں پہلی کامیابی ہے۔ ایک سابق قیدی کے وکیل بہار اعظمی نے خبر رساں ایجنسی اے پی کو بتایا کہ تمام اکہتر قیدیوں کو معاوضہ ملے گا تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ معاوضے کی رقم تقسیم کیسے کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ تصفیے کے معاہدے کے تحت معاملات کو خفیہ رکھا جائے گا۔ بہار اعظمی کے مطابق نجی کنٹریکٹرز ابو غریب جیل میں بدسلوکی کے سنگین واقعات میں ملوث تھے اور اب ہمیں خوشی ہوئی ہے کہ تصفیے کے وجہ سے ان میں سے کچھ کنٹریکٹرز کا احتساب ہوا اور متاثرین کو کچھ انصاف ملا۔

’ہلاکتیں ناقابلِ قبول مگر حالات بگڑنے نہیں دے سکتے‘
(January 9, 2013)
بھارت کے وزیرِ خارجہ سلمان خورشید کا کہنا ہے لائن آف کنٹرول کے قریب پاکستانی فوج کی مبینہ کارروائی میں دو بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کا واقعہ ناقابلِ قبول ہے تاہم حالات کو مزید خراب ہونے دیا جا سکتا۔ اس سے قبل بھارتی حکام کی جانب سے کو اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ اس کارروائی کا ’متناسب‘ جواب دیا جائےگا جبکہ پاکستان کے عسکری حکام نے فائرنگ اور بھارتی فوجی کی ہلاکت کے الزامات مسترد کرتے ہوئے اسے بھارتی پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔ بھارتی حکومت نے بدھ کو نئی دلی میں پاکستان کے ہائی کمشنر کو طلب کر کے اپنے دو فوجیوں کے مارے جانے کے واقعے پر احتجاج کیا ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق اس ملاقات میں خارجہ سیکرٹری رنجن متھائي نے ہائی کمشنر سلمان بشیر سے کہا ہے کہ بھارت اس طرح کے واقعات قطعاً برداشت نہیں کرے گا اور پاکستان کو کنٹرول لائن کا احترام کرنا ہوگا۔ ہمارے نامہ نگار کے مطابق بدھ کو پریس کانفرنس میں وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ’اس واقعے کو مزید بڑھنے نہیں دیا جائے گا۔ ہماری جانب سے پاکستانی ہائی کمیشن کو گہری تشویش سے آگاہ کروا دیا گیا ہے۔ ہم ان کے رد عمل کا انتظار کریں گے لیکن یہ واقعہ ناقابل قبول ہے۔‘ انہوں نے اس سے قبل ایک مقامی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے بھی کہا تھا کہ یہ ایک انتہائی حساس معاملہ ہے اور ’ہمیں تمام حقائق کو ذہن میں رکھنا ہوگا۔یہ کارروائی قیام امن کو پٹری سے اتارنے کی کوشش معلوم ہوتی ہے۔۔۔اور ہمیں ایسا راستہ تلاش کرنا ہوگا کہ مذاکرات کا عمل تباہ نہ ہو جائے۔‘ بھارتی وزیرِ دفاع اے کے انٹونی نے اس سلسلے میں بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’پاکستانی فوج کی کارروائی انتہائی اشتعال انگیز ہے۔ انہوں نے بھارتی فوجیوں کی لاشوں سے جو سلوک کیا ہے وہ غیر انسانی ہے۔ہم حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور اس معاملے پر پاکستانی حکومت سے بات کریں گے۔‘

