آئی جی کی زیرِ صدارت اجلاس ، سندھ میں دہشت گردی کے واقعات میں غیر معمولی کمی پر اطمینان

کراچی قائدآباد سواتی محلہ، حلیمہ مسجد کے قریب آوارہ گولی لگنے سے نوعمر لڑکی زخمی

ٹھٹھہ میں دوران محرم امن و امان یقینی بنانے کے لئے اجلاس منعقد ، علما بھی شریک

اوکاڑہ حویلی لکھا میں ٹریفک حادثہ ، 8 سالہ لڑکے کی زندگی لے گیا

اوکاڑہ میں میں معمولی بات پر گروپی تصادم ،ایک شخص جاں بحق ،2 شدید زخمی

متحدہ نے پاکستان کا شیڈو بجٹ پیش کردیا ، اقتصادی جمود کو حل کرنے کا عزم

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

سرجری آلات،مشینری کی امپورٹ میں رکاوٹ سے بحران کا خدشہ ڈریپ کئی برس پرانی رجسٹریشن کی بیشتر درخواستوں پر کوئی فیصلہ نہیں کر سکا بغیر میڈیکل ڈیوائسز کے کوئی بھی اسپتال صحت کی سہولت فراہم نہیں کر سکتا

کراچی (پی پی آئی)سرجری آلات اور مشینری کی امپورٹ رکاوٹوں سے طبی سہولتوں کی فراہمی کے سنگین بحران کا خدشہ ہے۔ہیلتھ کیئر ڈیوائسز ایسوسی ایشن آف پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کی جانب سے طبی آلات کی رجسٹریشن کو لازمی قرار دینے کے بعد امپورٹ پالیسی کو ڈریپ کے سرٹیفیکیٹ سے مشروط کر دیا گیا تھا۔پی پی آئی کے مطابق ترجمان کا کہنا ہے کہ ڈریپ گزشتہ کئی سالوں میں جمع کرائی جانی والی رجسٹریشن کی بیشتر درخواستوں پر کوئی فیصلہ نہیں کر سکا اور اب تک 3 ہزار کے قریب درخواستیں ہی نمٹائی جاسکی ہیں جبکہ پاکستان میں استعمال ہونے والی میڈیکل کی اشیاء کی تعداد 5 لاکھ سے زائد ہے۔اعلامیہ کے مبطابق میڈیکل ڈیوائسز میں لیب ٹیسٹ، سرجری اور اسپتالوں میں استعمال ہونے والے دیگر تمام آلات شامل ہیں۔میڈیکل ڈیوائسز میں سرنج، کینولا، بلڈ شوگر اور بلڈ پریشر ناپنے والے آلات سے لیکر الٹرا ساؤنڈ، ایکسرے، سی ٹی اسکین اور ایم آر آئی کی مشینری تک شامل ہے جبکہ بغیر میڈیکل ڈیوائسز کے کوئی بھی اسپتال صحت کی سہولت فراہم نہیں کر سکتا۔ترجمان کے مطابق پاکستان کے اسپتالوں میں استعمال ہونے والی 90 فیصد میڈیکل ڈیوائسز امپورٹ کی جاتی ہیں لہذا امپورٹ رکنے کی وجہ سے اسپتالوں میں صحت کی فراہمی کا عمل رکنے کا شدید اندیشہ ہے۔ہیلتھ کیئر ڈیوائسز ایسوسی ایشن آف پاکستان کا کہناہے کہ ڈریپ اور وفاقی محکمہ صحت معاملے سے آگاہ ہیں، اگر فوری طور پر مسئلہ حل نہ کیا گیا تو معاملہ سنگین بحران کی طرف جا سکتا ہے۔