شنگھائی تعاون تنظیم کی میٹنگ میں پاکستان اور ازبکستان نے اسٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط کرنے کے عزم کا اظہار کیا

کراچی کینٹ اسٹیشن کے قریب پنجاب سے آنے والی ٹرین ہلاک ، نعش اسپتال منتقل

فنکشل لیگ کی سندھ میں تنظیم سازی 15 ستمبر تک وارڈ سطح تک مکمل کرنے کی ہدایت

شہداد کوٹ میں کارو کاری پر نوجوں لڑکا اور لڑکی قتل ، ملزم فرار

وزیر داخلہ کی زیرِ صدارت سندھ کابینہ کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس منعقد ،زرعی آمدنی پر ٹیکس کے نفاذ کا جائزہ

میئر کراچی کے دورے ،بارش کے بعد کی صورتحال اور ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

سرجری آلات،مشینری کی امپورٹ میں رکاوٹ سے بحران کا خدشہ ڈریپ کئی برس پرانی رجسٹریشن کی بیشتر درخواستوں پر کوئی فیصلہ نہیں کر سکا بغیر میڈیکل ڈیوائسز کے کوئی بھی اسپتال صحت کی سہولت فراہم نہیں کر سکتا

کراچی (پی پی آئی)سرجری آلات اور مشینری کی امپورٹ رکاوٹوں سے طبی سہولتوں کی فراہمی کے سنگین بحران کا خدشہ ہے۔ہیلتھ کیئر ڈیوائسز ایسوسی ایشن آف پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کی جانب سے طبی آلات کی رجسٹریشن کو لازمی قرار دینے کے بعد امپورٹ پالیسی کو ڈریپ کے سرٹیفیکیٹ سے مشروط کر دیا گیا تھا۔پی پی آئی کے مطابق ترجمان کا کہنا ہے کہ ڈریپ گزشتہ کئی سالوں میں جمع کرائی جانی والی رجسٹریشن کی بیشتر درخواستوں پر کوئی فیصلہ نہیں کر سکا اور اب تک 3 ہزار کے قریب درخواستیں ہی نمٹائی جاسکی ہیں جبکہ پاکستان میں استعمال ہونے والی میڈیکل کی اشیاء کی تعداد 5 لاکھ سے زائد ہے۔اعلامیہ کے مبطابق میڈیکل ڈیوائسز میں لیب ٹیسٹ، سرجری اور اسپتالوں میں استعمال ہونے والے دیگر تمام آلات شامل ہیں۔میڈیکل ڈیوائسز میں سرنج، کینولا، بلڈ شوگر اور بلڈ پریشر ناپنے والے آلات سے لیکر الٹرا ساؤنڈ، ایکسرے، سی ٹی اسکین اور ایم آر آئی کی مشینری تک شامل ہے جبکہ بغیر میڈیکل ڈیوائسز کے کوئی بھی اسپتال صحت کی سہولت فراہم نہیں کر سکتا۔ترجمان کے مطابق پاکستان کے اسپتالوں میں استعمال ہونے والی 90 فیصد میڈیکل ڈیوائسز امپورٹ کی جاتی ہیں لہذا امپورٹ رکنے کی وجہ سے اسپتالوں میں صحت کی فراہمی کا عمل رکنے کا شدید اندیشہ ہے۔ہیلتھ کیئر ڈیوائسز ایسوسی ایشن آف پاکستان کا کہناہے کہ ڈریپ اور وفاقی محکمہ صحت معاملے سے آگاہ ہیں، اگر فوری طور پر مسئلہ حل نہ کیا گیا تو معاملہ سنگین بحران کی طرف جا سکتا ہے۔