عالمی و ملکی گولڈ مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ ، سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اضافہ

پاکستان آرمی ٹیم کو بین الاقوامی پیس اسٹیکنگ کی فتح پر گورنر سندھ کی مبارک باد

بجٹ 2026-27 مایوس کن، کمرشل امپورٹرز کو مکمل طور پر نظرانداز کر دیا گیا، پی سی ڈی ایم اے

گورنر ہاو س میں عالمی یومِ ماحولیات شجرکاری مہم کا آغاز ،ہر شہری کم از کم ایک پودا لگائے:گورنر سندھ کی اپیل

ٹھٹھہ کی ساحلی پٹی پرشدید پانی کی شدید قلت کیخلاف کسانوں کا احتجاج

کراچی بھینس کالونی میں مردہ جانوروں کی ہڈیوں اور چربی سے غیر معیاری تیل تیار کرنے والی غیر قانونی فیکٹری سربہ مہر

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

چیف الیکشن کمشنر کا ای وی ایم معاملے پر تنقید کرنے والوں کو چیلنج

اسلام آ باد(پی پی آ ئی)چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا نے کہا ہے کہ تنقید کرنے والوں کو چیلنج کرتا ہوں کہ الیکشن کمیشن نے ای وی ایم یا اوورسیز کو ووٹ کا حق دینے کی مخالفت کی۔اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کے دوران سکندر سلطان راجا نے کہا کہ الیکشن کمیشن انتخابات میں شفافیت کے لئے اقدامات کررہا ہے، جن سے الیکشن کمیشن پر عوام کے اعتماد میں اضافہ ہوگا، ضابطہ اخلاق خلاف ورزی پر پارٹی سربراہ سمیت کارکنوں کے خلاف کارروائی کی گئی۔ ملک کے لئے سب سے زیادہ اہم بلدیاتی الیکشن ہیں، صوبائی حکومتیں بلدیاتی الیکشن کے لئے بالکل تیار نہیں تھیں۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی مسلسل کوششوں سے خیبر پختونخوا میں بلدیاتی الیکشن ہوئے، بلوچستان میں بھی بلدیاتی انتخابات مکمل کرائیگئے، سندھ کے بلدیاتی انتخابات میں مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا، کراچی اور حیدرآباد ڈویڑن میں الیکشن ملتوی ہوا جو 15 جنوری کو ہوگا۔پنجاب میں لوکل گورنمنٹ قوانین کی مسلسل تبدیلیوں سے بلدیاتی انتخابات تاخیر کا شکار ہوئے، اپریل کے آخری ہفتے میں پنجاب کے بلدیاتی انتخابات کرادیں گے، پنجاب حکومت کو بتادیا گیا ہے کہ بلدیاتی انتخابات کا قانون دوبارہ تبدیل کیا تو آئینی اختیار کے تحت پرانے قانون پر الیکشن کرائیں گے۔سکندر سلطان راجا نے کہا کہ 2021 اور 2022 میں قومی اسمبلی کے انتخابات 17 اور صوبائی اسمبلی کے 22 انتخابات کرائے گئے، تمام ضمنی انتخابات کے دوران ضابطہ اخلاق کو یقینی بنانے کے لئے انتخابی عمل کی سخت مانیٹرنگ کی گئی۔نئی مردم شماری اور حلقہ بندیوں سے متعلق سکندر سلطان راجا نے کہا کہ وفاقی حکومت ڈیجیٹل حلقہ بندیوں کی بات کررہی ہے، ہم نے بار ہا حکومت کو کہا ہے کہ ہمیں حلقہ بندیوں کے لئے 6 سے 7 ماہ درکار ہوتے ہیں، ڈیجیٹل حلقہ بندیاں شروع نہیں ہوا، اگر مناسب وقت نہ ملا تو یہ کام مقررہ وقت تک مکمل کرنا بہت مشکل ہوگا۔