حکومت کا بینکوں کیخلاف کارروائی کے بجائے ٹیکس لگانے کا امکان
کراچی (پی پی آئی)ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ سے بینکوں کو غیر معمولی منافع کی اطلاعات کے بعد حکومت بینکوں کے فارن ایکس چینج آمدن پر ٹیکس لگانے کا جائزہ لے رہی ہے۔کہا جارہا ہے کہ پاکستانی روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قدر میں غیر معمولی اضافہ کا سب سے زیادہ فائدہ بینک اٹھارہے ہیں۔پی پی آئی کے مطابق بینکوں کے پاس موجود ڈالر کی مالیت میں کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے یہاں تک کہ کمرشل بینکوں کے پاس موجود ڈالر اسٹیٹ بینک سے بھی زیادہ ہیں۔ڈالر کی قدر میں اضافے سے بینکوں کے فارن ایکس چینج منافع میں بھی اس تیزی سے اضافہ ہوگیا ہے جس کی ماضی میں نظیر نہیں ملتی۔ٹاپ لائن سیکورٹیز کی ریسرچ رپورٹ کے مطابق سال2022 کے پہلے9ماہ کے دوران بینکوں کی فارن ایکس چینج آمدن 89ارب روپے سے تجاوز کرگئی ہے جو اس سے پچھلے سال اس عرصے میں 32ارب روپے تھی۔رپورٹ کے مطابق اگر اس کے ساتھ سال2020کے 28.1ارب روپے کی آمدن بھی شامل کیا جائے تو پھر بھی سال2022کی آمدن دونوں سال کے مجموعی آمدن سے زیادہ ہے۔89ارب روپے کی غیر معمولی آمدن کی وجہ اس عرصے میں ڈالر کی قدر میں 23فیصد کا اضافہ ہے۔
