سندھ نے سستی بجلی کے لیے صوبائی گرڈ کا خاکہ پیش کیا؛ ڈنمارک کی سبز سرمایہ کاری پر نظر

بلوچستان میں یوم مزدور منایا گیا

قتل پر احتجاج کے بعد مرکزی شاہراہ بند

گینگز اور املاک کے جرائم کے خلاف سیکیورٹی سخت

جاری کریک ڈاؤن میں بدنام زمانہ چھیننے والے گروہ کے ارکان گرفتار

دارالحکومت میں کریک ڈاؤن، غیر قانونی اسلحہ برآمد، دو افراد گرفتار

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

سندھ میں جبری مذہبی تبدیلی کے واقعات جاری ہیں:ایچ آر سی پی

اقلیتوں کے لیے نمائندہ اور خود مختار قانونی قومی کمیشن تشکیل دیا جائے
جبری مذہبی تبدیلی جرم قرار دینے کیلئے فوری قانون سازی کی جائے
لاہور(پی پی آئی) پاکستان کمیشن برائے انسانی حقو ق (ایچ آر سی پی) نے اپنی رپورٹ بعنوان اِعتماد کو ٹھیس: 2021-22 میں مذہب یا عقیدے کی آزادی کے عنوان سے سندھ میں جبری مذہبی تبدیلی کے واقعات کا احاطہ کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ واقعات تشویشناک حد تک تواتر کے ساتھ جاری ہیں۔ پنجاب میں، شادی کے سرٹیفکیٹ میں عقیدے کے لازمی اظہاراور یکساں قومی نصاب کو نافذ کرنے کی کوششوں نے ایک ایسا خارجی بیانیہ تشکیل دیا ہے جس نے پاکستان کی مذہبی اقلیتوں کو دیوار کے ساتھ لگادیا ہے۔پی پی آئی کے مطابق ایچ آر سی پی نے اِس مطالبے کا اعادہ کیا ہے کہ عدالتِ عظمیٰ کے 2014 کے جیلانی فیصلے کی رْوح کے مطابق اقلیتوں کے لیے نمائندہ اور خود مختار قانونی قومی کمیشن تشکیل دیا جائے اور، جبری تبدیلی کو جرم قرار دینے کے لیے فوری قانون سازی کی جائے۔ دیگر سفارشات کرنے کے علاوہ، ایچ آر سی پی نے مطالبہ کیا ہے کہ ریاست فرقہ وارانہ تشدد کا مقابلہ کرنے کے لیے نہ صرف قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد کرے بلکہ ایسا قومی بیانیہ تیار کرے جو مذہبی انتہا پسندی اور اکثریت پسندی کو واضح طور پر رد کرے۔ مذہب کی بیحرمتی کے جرم میں شہادت کا کڑا معیار مقرر کیا جائے تاکہ لوگ متناعہ قوانین کو ذاتی انتقام کے لیے بطورِ ہتھیار استعمال نہ کریں جیسا کہ اکثر ہو رہا ہے۔ایچ آر سی پی نے تعلیم اور روزگار میں مذہبی اقلیتوں کے کوٹوں اور جوابدہی کے طریقہ کار از سرِ نو جائزہ لینے پر بھی زور دیا ہے تاکہ ان کوٹوں پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔ مزید کہا کہ صفائی کے مزدوروں کو بھرتی کرتے وقت ملازمت کے اشتہارات میں‘صرف غیر مسلم درخواست دینے کے اہل ہیں ’کسی بھی حالت میں نہ کہا جائے۔اگر یہ اقدامات فوری طور پر نہ کیے گئے تو پھرپاکستان میں عقیدے کی بنیاد پر امتیازی سلوک اور تشدد کے مرتکب افراد کو کھلی چھوٹ کا ماحول فروغ پاتا رہے گا۔