سندھ نے سستی بجلی کے لیے صوبائی گرڈ کا خاکہ پیش کیا؛ ڈنمارک کی سبز سرمایہ کاری پر نظر

بلوچستان میں یوم مزدور منایا گیا

قتل پر احتجاج کے بعد مرکزی شاہراہ بند

گینگز اور املاک کے جرائم کے خلاف سیکیورٹی سخت

جاری کریک ڈاؤن میں بدنام زمانہ چھیننے والے گروہ کے ارکان گرفتار

دارالحکومت میں کریک ڈاؤن، غیر قانونی اسلحہ برآمد، دو افراد گرفتار

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

سال 2022میں دنیا میں سب سے زیادہ انٹرنیٹ بندشوں کا سامنامقبوضہ جموں وکشمیر کو کرنا پڑا

واشنگٹن/سرینگر(پی پی آ ئی) بھارت کے زیرقبضہ جموں و کشمیرکے عوام کو 2022میں ایران اور روس سمیت کسی بھی دوسرے خطے کے مقابلے میں زیادہ انٹرنیٹ بندشوں اور پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔کشمیر میڈیا کے مطابق وائس آف امریکہ کی ایک رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ لتھوینیا میں قائم ایک ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک کمپنی سرفشارک(Surfshark)کے مطابق دنیا میں جتنی بھی ویب پابندیاں لگائی گئیں اس کا پانچواں حصہ صرف بھارت کے زیرِ انتظام کشمیرمیں لگائی گئیں۔ VPNکمپنی کی 2022میں انٹرنیٹ سنسرشپ پر عالمی رپورٹ جنوری کے وسط میں جاری کی گئی جس کے مطابق 32ممالک میں مجموعی طور پر 112بارپابندیاں لگائی گئیں اوریہ پابندیاں زیادہ تر احتجاج یا بدامنی کے وقت لگائی گئیں۔ مقبوضہ کشمیرکی درجہ بندی روس کے ساتھ ہے جہاں ماسکو نے یوکرین پر اپنے حملے کے دوران سوشل میڈیا اور خبروں تک رسائی کو کم کر دیا۔ سرفشارک کی ترجمان نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں 2022میں انٹرنیٹ کو کل 456گھنٹے کے لیے بند کیا گیا اورہروقت مقامی سطح پر انٹرنیٹ پر مکمل پابندی لگائی گئی۔انہوں نے کہاکہ مقبوضہ جموں وکشمیرکو 2019کے بعد سے جب بھارتی حکام نے خطے کی خصوصی حیثیت کو ختم کر دیا تھا، انٹرنیٹ کو باقاعدگی سے محدود اور بلاک کرنے کا سامنا رہا ہے۔جموں و کشمیر کے محکمہ داخلہ کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ گزشتہ سال انٹرنیٹ کی معطلی کے 49احکامات جاری کیے گئے تھے۔ وائس آف امریکہ کے مطابق حکام نے بتایا کہ پابندیوں کا مقصد کشمیر میں سیکورٹی سے متعلق امور اور سیاسی بدامنی کے تناظر میں غلط معلومات کے پھیلاؤ کو روکنا اور امن عامہ کو برقرار رکھناتھا۔ لیکن مقامی صحافیوں اور تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ پابندیوں کا استعمال علاقے میں تنقیدی رپورٹنگ کو روکنے کے لیے کیا جاتا ہے۔