پر تمام پرائمری اسکولوں میں گجراتی کو لازمی کرنے کا بل منظور
جوناگڑھ(پی پی آئی) پاکستان سے الحاق کرنے والی ریاست جونا گڑھ پر قابض بھارتی حکومت کی ریاست گجرات کی اسمبلی نے متفقہ طور پر تمام پرائمری اسکولوں میں گجراتی کو لازمی کرنے کا بل منظور کر لیا ہے۔ گجرات کمپلسری ٹیچنگ اینڈ لرننگ آف گجراتی لینگویج بل کی کی خلاف ورزی کرنے والے اسکولوں کے رجسٹریشن کو منسوخ کردیا جائے گاجو اسکول گجراتی نہیں پڑھا رہے ہیں انہیں 24-2023 تعلیمی سال میں مرحلہ وار پہلی تا آٹھویں جماعت کے لیے اسے اضافی زبان کے طور پر متعارف کرانا ہوگا۔ پی پی آئی کے مطابق وزیر تعلیم کبیر بھائی ڈنڈور نے کہا کہ ہر اسکول نصابی کتابوں پر عمل کرے گا جو حکومت نے گجراتی کو بطور اضافی زبان پڑھانے کے لیے تجویز کیا ہیبل کی منظوری کے بعد ریاستی حکومت اس بل کی دفعات کو لاگو کرنے کے لیے ایک ڈپٹی ڈائریکٹر سطح کے افسر کا تقرر کرے گی۔اگر کوئی اسکول پہلی بار بل کی دفعات کی خلاف ورزی کرتا پایا جاتا ہے، تو وہ 50,000 روپے ادا کرنے کا ذمہ دار ہوگا۔ بعد کی خلاف ورزیوں پر 1 لاکھ روپے اور 2 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔ اپوزیشن کانگریس نے بل کی حمایت کی لیکن کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے ہائی کورٹ میں عرضی داخل کرنے کے بعد ہی بل کو منتقل کیا۔کانگریس کے قانون ساز امیت چاوڈا نے ریاستی حکومت پر زور دیا کہ وہ ثانوی اور اعلیٰ ثانوی سطحوں پر بھی گجراتی کو لازمی مضمون کے طور پر متعارف کرائے۔ ریاستی کانگریس کے ترجمان منیش دوشی نے بل کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ مہاراشٹر اور جنوبی ریاستوں میں ایک جیسے قوانین ہیں۔
