سندھ نے سستی بجلی کے لیے صوبائی گرڈ کا خاکہ پیش کیا؛ ڈنمارک کی سبز سرمایہ کاری پر نظر

بلوچستان میں یوم مزدور منایا گیا

قتل پر احتجاج کے بعد مرکزی شاہراہ بند

گینگز اور املاک کے جرائم کے خلاف سیکیورٹی سخت

جاری کریک ڈاؤن میں بدنام زمانہ چھیننے والے گروہ کے ارکان گرفتار

دارالحکومت میں کریک ڈاؤن، غیر قانونی اسلحہ برآمد، دو افراد گرفتار

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

ای او بی آئی کو وفاق اور آجروں کے عدم تعاون سے انتظامی، مالیاتی چیلنجوں کا سامنا

پنشن فنڈ تنزلی کا شکار،مستقبل میں ریٹائرڈ ملازمین کو تاحیات پنشن سے محرومی کا خدشہ لاحق
رجسٹر شدہ بیمہ دار افراد کی تعداد ایک کروڑ سے تجاوز، پنشن یافتگان کی تعداد7 لاکھ سے زائد
کراچی(پی پی آئی) ای او بی آئی میں رجسٹر شدہ بیمہ دار افراد کی تعداد ایک کروڑ سے تجاوز کرگئی۔ موجودہ پنشن یافتگان کی تعداد سات لاکھ سے زائدہے ای او بی آئی کے سابق افسر تعلقات عامہ اور ڈائریکٹر سوشل سیفٹی نیٹ پاکستان اسرار ایوبی کے مطابق ای او بی آئی کے 31 جنوری 2023 ء تک جاری اعداد وشمار کے مطابق ای او بی آئی میں رجسٹرڈ آجران کی تعداد 144,271 ہوگئی ہے۔ جبکہ ان میں سے 44,134 ادارے بند اور 4,045 ادارے ڈی رجسٹرڈ ہوچکے ہیں۔ اسی طرح ملک بھر میں ای او بی آئی کے بیمہ دار افراد (Insured Persons) کی تعداد ایک کروڑ (10,327,211) سے تجاوز کر گئی ہے۔ جو مستقبل میں اپنی تاحیات پنشن کے اہل ہوں گے۔ جبکہ ای او بی آئی کے موجودہ تاحیات پنشن یافتگان کی کل تعداد 733,679 تک پہنچ گئی ہے۔ جس میں 469,985 ریٹائرڈ،250,714 بیوگان اور 12,980 معذور پنشن یافتگان شامل ہیں۔پی پی آئی کے مطابق ای او بی آئی اپنے بیمہ دار افراد کو 60 برس کی عمر اور 15 برس کی بیمہ شدہ ملازمت اور اسی مدت کے ادا شدہ کنٹری بیوشن کی بنیاد پر تاحیات بڑھاپا پنشن، پسماندگان پنشن اور معذوری پنشن ادا کرتا ہے۔ جبکہ مقررہ بیمہ شدہ ملازمت مکمل نہ ہونے کی صورت میں ایسے بیمہ دار افراد کو یکمشت بڑھاپا امداد ادا کی جاتی ہے۔ خواتین ملازمین اور کان کنوں کے لئے 5 برس کی تخفیف کے ساتھ تاحیات پنشن کے لئے اہلیت کی عمر 55 برس مقرر ہے۔ ای او بی آئی نے رواں مالی سال کے دوران رجسٹرڈ آجران سے ان کے بیمہ دار افراد کی مد میں 20 ارب روپے کا کنٹری بیوشن وصول کیا۔ اسرار ایوبی کا کہنا ہے کہ ای او بی آئی کو ملک بھر کے آجران کی جانب سے ان کے بیمہ دار افراد کی مد میں ماہانہ کنٹری بیوشن کی وصولیابی میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ جس کے باعث کنٹری بیوشن کی وصولی اور لاکھوں پنشن یافتگان کو ماہانہ پنشن کی ادائیگی کی رقومات میں شدید عدم توازن پیدا ہونے کے باعث ای او بی آئی جیسے فلاحی ادارہ کی بقاء و سلامتی کے لئے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔ اگر اس صورت حال پر جلد قابو نہ پایا گیا تو ای او بی آئی پنشن فنڈ کے دیوالیہ ہونے کا خدشہ ہے اور مستقبل میں اس کا سراسر خمیازہ ملک کے لاکھوں بیمہ دار افراد، ریٹائرڈ، معذور ملازمین اور بے سہارا بیوگان پنشن یافتگان کو بھگتنا پڑ سکتا ہے۔اسرار ایوبی نے مزید بتایا کہ 1995 ء سے وفاقی حکومت کی جانب سے ای او بی آئی کی مساوی امداد (Matching Grant) کی غیر قانونی طور پر بندش اور ملک کے بیشتر صنعتی،تجارتی کاروباری اور دیگر اداروں کی جانب سے اپنی اور اپنے اداروں میں خدمات انجام دینے والے لاکھوں ملازمین کو ای او بی آئی میں رجسٹریشن کرانے اور ملازمین کی مد میں واجب الادا کنٹری بیوشن کی ادائیگی سے گریز کی پالیسی اور رجسٹرڈ آجران کی جانب سے اپنے بیمہ دار افراد کی مد میں ماہانہ کنٹری بیوشن کی ادائیگی میں عدم دلچسپی اور مختلف حیلوں بہانوں کے باعث ای او بی آئی کا پنشن فنڈ تیزی سے تنزلی کا شکار ہے۔ اگر اس صورت حال کی فوری طور پر اصلاح نہ کی گئی تو مستقبل میں لاکھوں ریٹائرڈ ملازمین اپنی تاحیات پنشن کے حق سے محروم ہوسکتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اس وقت ای او بی آئی کو اپنی بقاء و سلامتی کے لئے بے شمار انتظامی اور مالیاتی چیلنجوں کا سامنا ہے۔