اسلام آ باد(پی پی آ ئی) سپریم کورٹ کی جانب سے سٹیٹ بینک کو صوبائی الیکشن کے لیے 21 ارب روپے جاری کرنے کے حکم کے بارے میں رد عمل دیتے ہو ئے ماہر معاشی امور اور وزرات خزانہ کے سابق ترجمان ڈاکٹر نجیب خاقان نے کہا ہے کہ اگرچہ مرکزی بینک ایک خودمختار ادارہ ہے لیکن وہ حکومتی اجازت کے بغیر پیسے کسی ادارے کو جاری نہیں کر سکتا۔بی بی سی سے بات کرتے ہو ئے وزرات خزانہ کے سابق ترجمان نے کہا ہے کہ یہ حکومت کا پیسہ ہوتا ہے اسے فیڈرل کنسولیڈیٹڈ فنڈ کہا جاتا ہے اور یہ وزیر خزانہ کے دستخط کے بنا جاری نہیں ہو سکتے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں زیرو بوروئنگ کی پالیسی ہے اس لیے سٹیٹ بینک کسی ادارے کو ادھار بھی جاری نہیں کر سکتاہے۔ خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے سٹیٹ بینک کو حکم دیا ہے کہ صوبائی الیکشن کے اخراجات کے لیے 21 ارب روپے الیکشن کمیشن کو جاری کر دیے جائیں۔
Next Post
ہفتہ وار مہنگائی میں 0.60 فیصد کی کمی ریکارڈ
Fri Apr 14 , 2023
اسلام آ باد(پی پی آ ئی) پاکستان میں سالانہ بنیاد پر مہنگائی کی شرح میں 44 فیصد سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ ہفتہ وار مہنگائی میں 0.60 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔تفصیلات کے مطابق جمعے کے روز وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری […]
