پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے معاہدے

چوہدری لطیف اکبر کا چرکپورہ میں شاندار استقبال؛ مسائل کے حل کی یقین دہانی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹر ایمل ولی کا ردعمل

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی خریداری قیمت میں کمی، دیگر کرنسیوں میں بھی معمولی اتار چڑھاؤ

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے تک پہنچ گیا

اسٹاک ایکسچینج میں بڑی گراوٹ، انڈیکس 1,703 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ نیچے

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

وفاقی بجٹ میں کم ازکم ای او بی آئی پنشن کا فارمولا طے کیا جائے: پنشنرز فورم

کراچی(پی پی آئی) ای او بی آئی کے پنشن یافتگان کی کل پاکستان نمائندہ تنظیم ای او بی آئی پنشنرز فورم نے کہا ہیکہ سرکاری ملازمین کی تنخواہ اورالاؤنسز میں ہر سال بجٹ میں اضافہ کیا جاتا ہے اس برس سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ کرتے وقت نجی شعبہ کے کارکنوں کو ای او بی آئی پنشن میں فوری طور پر معقول اضافہ کیا جائے۔نجی شعبہ کے کارکنوں کو ای او بی آئی پنشن محض ساڑھے آٹھ ہزار روپے ماہانہ ملتی ہے جس میں گزر بسر ایک طرف یومیہ اخراجات بھی پورے نہیں ہوتے اس لئے کم از کم پنشن کم از کم تنخواہ کے مساوی مقرر کی جائے اور اگر کسی قانونی موشگافی کے باعث ایسا ممکن نہیں تو بلحاظ مہنگائی ای او بی آئی پنشن میں اضافہ کرکے کم از کم پنشن کا فارمولہ طے کیا جائے، ای او بی آئی افسر شاہی کی امتیازی مراعات کا خاتمہ کرکے ای او بی آئی کے ضعیف العمرپنشنرز کی پنشن کو کم از کم تنخواہ کے مساوی یعنی 50 ہزار روپے کیا جائے۔ ای او بی آئی پنشنرز فورم نے یاد دلایا کہ نجی شعبے میں کام کرنے والے لاکھوں محنت کشوں کو آج بھی صحت کی سہولت سمیت سوشل سکیورٹی تک دستیاب نہیں، حکومت کی جانب سے کم از کم اجرت کے اعلان پر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔ نجی شعبہ کے کارکنوں کو ای او بی آئی پنشن محض ساڑھے آٹھ ہزار روپے ماہانہ ملتی ہے جس میں گزر بسر ایک طرمیہ اخراجات بھی پورے نہیں ہوتے اس لئے کم از کم پنشن کم از کم تنخواہ کے مساوی مقرر کی جائے ای او بی آئی کے پنشن یافتگان کی کل پاکستان نمائندہ تنظیم ای او بی آئی پنشنرز فورم نے مطالبہ کیا کہ ای او بی آئی پنشن میں فوری طور پر معقول اضافہ کیا جائے نیز قومی، صوبائی اسمبلیوں سمیت سینیٹ میں محنت کشوں کی نمائندگی کے بغیر مزدوروں کے مفاد میں قانون سازی نہیں کی جا سکتی اور تمام سیاسی جماعتوں کو مزدوروں کے لیے مخصوص نشستیں مختص کرنا ہوں گی۔