سگ گزیدگی کے بڑھتے واقعات سنگین خطرہ ہیں:پاسبان

وزیراعظم سے مسلم لیگ (ن) کی خواتین ارکانِ پارلیمنٹ کی ملاقات

گورنرسندھ کی اسپیکرقومی اسمبلی ،جرمنی کی سفیر اور چیئرمین سینیٹ سے ملاقاتیں

کھورواہ میں جھگڑے کے دوران خاتون ہلاک ،، 2 مرکزی ملزمان گرفتار

نواز شریف کی زیر صدارت ن لیگ کا اعلیٰ سطحی اجلاس ، آزاد کشمیر کی صورت حال پر تفصیلی غور

اوکاڑہ ،لالا زار کالونی ویں کی ٹکر سے عمر رسیدہ خاتون جاں بحق ،بیٹا زخمی

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

عمران نیازی کی پوری سیاست انتشار تشدد کے ارد گرد ہے: مریم اورنگزیب

اسلام آ باد(پی پی آ ئی) وفاقی وزیراطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ عمران نیازی کی پوری سیاست انتشار، فساد اور ملک دشمنی ہے، اگر پی ٹی آئی کو پی ٹی وی حملہ کیس میں سزا مل جاتی تو ایسے واقعات نہ ہوتے،چیف جسٹس نے ’گڈ ٹو سی یو‘ کہہ کر عمران خان کی پشت پناہی کی۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے لیگی رہنما مریم اورنگزیب نے عمران خان کو مخاطب کرتے ہو ئے کہا کہ عمران نیازی وضاحت دے رہے ہیں 9 مئی کو جو کچھ ہوا وہ ایجنسیز نے کروایا، ٹکٹ ہولڈرز اور ٹائیگرفورس کے دہشتگرد ایجنسی کے بندے تھے؟، کہا گیا دوبارہ گرفتار کیا گیا تو 9 مئی سے زیادہ ردعمل آئے گا، کیا آپ کی بات سب مان لیں گے؟۔وزیراطلاعات نے سوال کیا کہ یہ سب آپ نے نہیں کرایا تو آج عدالت میں پیش کیوں نہیں ہوئے؟ عمران کی پوری سیاست انتشار تشدد کے ارد گرد ہوئی، شاہراہ دستور پر سیاسی عمل گزشتہ روز سب نے دیکھا، اس سانحے پر ہر شخص کی آنکھ اشکبار ہے۔مریم اورنگزیب نے کہا کہ عمران خان فارن فنڈڈ ایجنٹ اور فتنہ ہیں، جناح ہاؤس اور شہداکی یادگار کو جلایا گیا، سب کچھ کرنے کے بعد کہتے ہیں یہ میں نے نہیں کیا، جبکہ پی ٹی آئی کے آفیشل اکاؤنٹس سے حملے کی ہدایات جاری ہوئیں، کیا آپ عوام کو بے وقوف سمجھتے ہیں، اس فتنہ،فساد اور سازش کوختم ہونا چاہئے۔لیگی رہنما نے عمران خان سے سوال کرتے ہو ئے کہا کہ مراد سعید جن کی آڈیو اور پیغامات عوام نے سْنے کیا وہ ایجنسی کے بندے ہیں؟ کیا یاسمین راشد اور اعجاز چوہدری جو مختلف حساس تنصیبات پر حملے کی ہدایات دے رہے تھے پٹرول بموں سے حملے کی ہدایات دے رہے تھے کیا وہ ایجنسی کے بندے ہیں؟۔
وفاقی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ مہنگائی کی اس صورتحال میں عوام کو ریلیف دے رہے ہیں، مشکل حالات کے باوجود پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی ہوئی، پٹرولیم مصنوعات میں کمی مشکل حالات میں چھوٹا سا ریلیف ہے، ماضی میں آئی ایم ایف معاہدہ معطل کیا گیا۔