سندھ نے سستی بجلی کے لیے صوبائی گرڈ کا خاکہ پیش کیا؛ ڈنمارک کی سبز سرمایہ کاری پر نظر

بلوچستان میں یوم مزدور منایا گیا

قتل پر احتجاج کے بعد مرکزی شاہراہ بند

گینگز اور املاک کے جرائم کے خلاف سیکیورٹی سخت

جاری کریک ڈاؤن میں بدنام زمانہ چھیننے والے گروہ کے ارکان گرفتار

دارالحکومت میں کریک ڈاؤن، غیر قانونی اسلحہ برآمد، دو افراد گرفتار

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

آڈیو لیکس کمیشن، یہ نہیں ہو سکتا کہ کسی جج پر الزام ہو اور اس کی تحقیقات کیے بغیر ایسا ہی چلنے دیں: جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

اسلام آ باد(پی پی آ ئی)سپریم کورٹ آف پاکستان میں جوڈیشل کمیشن کے ا جلاس میں جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ انکوائری کمیشن کو کام کرنے سے کیسے روکا جاسکتا ہے جبکہ انکوائری کمیشن کو تو نوٹس بھی جاری نہیں کیا گیا تھا۔انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ رولز کے مطابق فریقین کو سننے کے بعد ہی کوئی مناسب حکم جاری کیا جاتا ہے لیکن یہاں پر ایسا نہیں کیا گیا۔انکوائری کمیشن کا کہنا تھا کہ پرائیویسی گھر کی ہوتی ہے لیکن جب آپ کسی اہم پوزیشن پر ہوں تو اس معاملے کو الگ سے دیکھا جا سکتا ہے۔بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ اگر کسی جج پر الزام ہو تو اس کی تحقیقات کیے بغیر ایسا ہی چلنے دیں۔ یہ انکوائری کمیشن ایک قانون کے تحت بنا ہے۔انھوں نے اٹارنی جنرل کو جج کا حلف پڑھنے کی ہدایت کی جس پر عمل کرتے ہوئے اٹارنی جنرل نے جج کا حلف نامہ پڑھا جس پر جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ وہ اس حلف پر عمل درآمد کے پابند ہیں۔یاد رہے گذشتہ روز پاکستان کی سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کے آڈیو لیکس کی تحقیقات کے لیے قائم کیے گئے کمیشن کو مزید کام سے روک دیا تھا۔چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے انکوائری کمیشن کی تشکیل کا نوٹیفیکیشن بھی معطل کر دیا تھا۔