شہر قائدکے نوجوانوں کی بزنس اسٹارٹ اپ میں حوصلہ افزائی کی جائے:پی ڈی پی

اسپیکر ایاز صادق نے صحافت کے تحفظ کے لیے نئی قانون سازی کا عہد کیا

چیئرمین سینیٹ نے صحافیوں کے تحفظ کو جمہوریت کی بنیاد قرار دیا

پاکستان، برطانیہ منظم مجرمانہ سرگرمیوں سے نمٹنے اور ابھرتے ہوئے بین الاقوامی خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کو بڑھانے پر متفق8

کوریا کے سفارت خانے نے ثقافتی تبادلے کو فروغ دینے کے لیے

پاکستان کے لاکھوں بچوں کے خون میں سیسے کی خطرناک سطح، ان کی نشوونما کے لیے خطرہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

منفرد لب و لہجے کے معروف شاعر قتیل شفائی کی برسی منائی گئی

کراچی (پی پی آئی)منفرد لب و لہجے کے عظیم شاعر قتیل شفائی کو مداحوں سے بچھڑے 22 برس بیت گئے لیکن ان کے دلوں کو چھو لینے والے کلام اور فلمی گیت آج بھی مداحوں کو مسحور کر دیتے ہیں۔پی پی آئی کے مطابق  قتیل شفائی 24 دسمبر 1919 کو صوبہ خیبر پختوانخواہ کے ضلع ہری پور ہزارہ میں پیدا ہوئے، ان کا اصل نام محمد اورنگزیب تھا جبکہ انہوں نے 1938 میں اپنا قلمی نام قتیل شفائی رکھا۔ قتیل ان کا تخلص تھا جبکہ انہوں نے اپنے استاد حکیم محمد شفا کے احترام میں قتیل کے ساتھ شفائی کا اضافہ کیا تھا۔انہوں نے  اپنے فنی سفر کا آغاز پاکستان کی پہلی فلم “تیری یاد” کی شاعری سے کیا۔ قتیل شفائی نے فلم نائلہ، نوکر، انتظار اور عشق لیلیٰ جیسی شہرہ آفاق فلموں کے گیت بھی لکھے جو پاکستان کے علاوہ بھارت میں آج بھی بے حد مقبول ہوئے، قتیل شفائی نے 201 فلموں میں 900 سے زائد گیت تحریر کیے۔وہ پاکستان کے پہلے فلمی نغمہ نگار تھے جنہیں بھارتی فلموں کے لیے نغمہ نگاری کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔ فنی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان کی جانب سے انہیں پرائیڈ آف پرفارمنس اور نقوش ایوارڈ سمیت کئی ایوارڈز سے نوازا گیا۔ قتیل شفائی 11 جولائی 2001کو اس دار فانی سے رخصت ہو گئے اور علامہ اقبال ٹاؤن لاہور کے قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔