ہنی ویل ٹیکنالوجیز کے نائب صدر کی واشنگٹن ڈی سی میں وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقات

ایس ای سی پی نے تصدیق انفارمیشن سروسز کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آئی پی او کی اجازت دے دی

پاکستانی روپیہ بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں مستحکم، ڈالر کی قدر میں کمی

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ کے باوجود مثبت رجحان

ملک بھر میں سونے اور کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ

کراچی کیماڑی میں سولہ سالہ لڑکی کے اندھے قتل کا معمہ حل سابق منگیتر گرفتار

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

منفرد لب و لہجے کے معروف شاعر قتیل شفائی کی برسی منائی گئی

کراچی (پی پی آئی)منفرد لب و لہجے کے عظیم شاعر قتیل شفائی کو مداحوں سے بچھڑے 22 برس بیت گئے لیکن ان کے دلوں کو چھو لینے والے کلام اور فلمی گیت آج بھی مداحوں کو مسحور کر دیتے ہیں۔پی پی آئی کے مطابق  قتیل شفائی 24 دسمبر 1919 کو صوبہ خیبر پختوانخواہ کے ضلع ہری پور ہزارہ میں پیدا ہوئے، ان کا اصل نام محمد اورنگزیب تھا جبکہ انہوں نے 1938 میں اپنا قلمی نام قتیل شفائی رکھا۔ قتیل ان کا تخلص تھا جبکہ انہوں نے اپنے استاد حکیم محمد شفا کے احترام میں قتیل کے ساتھ شفائی کا اضافہ کیا تھا۔انہوں نے  اپنے فنی سفر کا آغاز پاکستان کی پہلی فلم “تیری یاد” کی شاعری سے کیا۔ قتیل شفائی نے فلم نائلہ، نوکر، انتظار اور عشق لیلیٰ جیسی شہرہ آفاق فلموں کے گیت بھی لکھے جو پاکستان کے علاوہ بھارت میں آج بھی بے حد مقبول ہوئے، قتیل شفائی نے 201 فلموں میں 900 سے زائد گیت تحریر کیے۔وہ پاکستان کے پہلے فلمی نغمہ نگار تھے جنہیں بھارتی فلموں کے لیے نغمہ نگاری کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔ فنی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان کی جانب سے انہیں پرائیڈ آف پرفارمنس اور نقوش ایوارڈ سمیت کئی ایوارڈز سے نوازا گیا۔ قتیل شفائی 11 جولائی 2001کو اس دار فانی سے رخصت ہو گئے اور علامہ اقبال ٹاؤن لاہور کے قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔