شہر قائدکے نوجوانوں کی بزنس اسٹارٹ اپ میں حوصلہ افزائی کی جائے:پی ڈی پی

اسپیکر ایاز صادق نے صحافت کے تحفظ کے لیے نئی قانون سازی کا عہد کیا

چیئرمین سینیٹ نے صحافیوں کے تحفظ کو جمہوریت کی بنیاد قرار دیا

پاکستان، برطانیہ منظم مجرمانہ سرگرمیوں سے نمٹنے اور ابھرتے ہوئے بین الاقوامی خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کو بڑھانے پر متفق8

کوریا کے سفارت خانے نے ثقافتی تبادلے کو فروغ دینے کے لیے

پاکستان کے لاکھوں بچوں کے خون میں سیسے کی خطرناک سطح، ان کی نشوونما کے لیے خطرہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

پاکستان سمیت متعددممالک میں ’آتشک‘ یا ’سوزاک‘ وبائی صورت اختیار کر گئی

کراچی (پی پی آئی)عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور امریکی محکمہ صحت (سی ڈی سی) سمیت متعدد ممالک میں کی جانے والی حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جنسی عمل سے پھیلنے والی خطرناک بیماری ’آتشک‘ یا ’سوزاک‘ جسے انگریزی میں ’سفلس کہا جاتا ہے حالیہ ایام میں دنیا بھر میں تیزی سے پھیل رہی ہے۔پی پی آئی کے مطابق یہ بیماری غیر محفوظ جنسی عمل کے ذریعے پیدا ہوتی ہے بیماری کی خطرناک بات یہ ہے کہ آغاز میں اس کی علامات تبدیل ہوتی رہتی ہیں اور متاثرہ شخص کو لگتا ہے کہ اسے کوئی خطرناک بیماری نہیں۔یہ بیماری جسم پر سرخ دانوں، دھبوں، داغوں اور زخموں کی صورت میں ہوتی ہے اور اگر اس کا بروقت علاج نہ کروایا جائے تو اس کے خطرناک نتائج بھی نکل سکتے ہیں۔ 20 ویں صدی کے وسط تک یہ دنیا بھر میں تیزی سے پھیلنے والی بیماری تھی لیکن 1950 کی دہائی کے بعد نمایاں کمی دیکھی گئی تھی۔لیکن اب 70 سال بعد ایک بار پھر اس میں تیزی سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور رپورٹس کے مطابق صرف امریکا میں ہی پہلی بار سات دہائیوں بعد اس کے کیسز میں 32 فیصد تک اضافہ ریکارڈ ہوا۔رپورٹ کے مطابق پاکستان سمیت  متعددممالک  کی بیماری میں مبتلا   خواتین حاملہ ہونے کے بعد اپنے بچوں میں بھی یہ مرض منتقل کر رہی ہیں علاوہ ازیں تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ مذکورہ بیماری اب زیادہ ہم جنس پرستوں میں تیزی سے پھیل رہی ہے۔