شہر قائدکے نوجوانوں کی بزنس اسٹارٹ اپ میں حوصلہ افزائی کی جائے:پی ڈی پی

اسپیکر ایاز صادق نے صحافت کے تحفظ کے لیے نئی قانون سازی کا عہد کیا

چیئرمین سینیٹ نے صحافیوں کے تحفظ کو جمہوریت کی بنیاد قرار دیا

پاکستان، برطانیہ منظم مجرمانہ سرگرمیوں سے نمٹنے اور ابھرتے ہوئے بین الاقوامی خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کو بڑھانے پر متفق8

کوریا کے سفارت خانے نے ثقافتی تبادلے کو فروغ دینے کے لیے

پاکستان کے لاکھوں بچوں کے خون میں سیسے کی خطرناک سطح، ان کی نشوونما کے لیے خطرہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

بغاوت کیس:ایمان مزاری 3 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

اسلام آباد(پی پی آئی: انسداد دہشتگردی عدالت نے بغاوت کیس میں ایمان مزاری کو 3 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔ایمان مزاری کے خلاف تھانہ بارہ کہو میں درج مقدمے کی سماعت انسداد دہشتگردی عدالت کے جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین نے کی۔دوران سماعت پراسیکیوٹر نے کہا کہ ایمان مزاری پر لوگوں سے رقم جمع کرنے اور ریاست مخالف سرگرمیوں کیلئے استعمال کرنے کا الزام ہے، تفتیش کیلئے جسمانی ریمانڈ دیا جائے، ملزمہ کے قبضے سے رقم برآمد کرنی ہے اور شریک ملزمان تک پہنچنا ہے۔ایمان مزاری کی وکیل زینب جنجوعہ نے کہا کہ 26 اگست 2023ء کو ایمان مزاری کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی، 26 اگست کو ایمان مزاری جیل میں تھیں، ان کی ضمانت کی درخواست پر سماعت ہونا تھی، پی ٹی ایم کو حکومت پاکستان نے جلسے کیلئے این او سی دیا۔زینب جنجوعہ نے عدالت کو بتایا کہ ایمان مزاری کی اڈیالہ جیل سے رہائی کے وقت تھانہ بارہ کہو پولیس وہاں موجود تھی، ایک واقعہ پر متعدد ایف آئی آر درج نہیں کی جاسکتیں، عدالت آج مقدمہ سے ڈسچارج کرے تو کسی اور کیس میں گرفتار کر لیا جائے گا، ایمان مزاری پی ٹی ایم کی عہدے دار نہیں ہیں۔ایمان مزاری کی وکیل نے مزید کہا کہ بینک سٹیٹمنٹ دینے کو تیار ہیں، فون اور لیپ ٹاپ پولیس کے پاس ہے، ایمان مزاری کے جسمانی ریمانڈ کی ضرورت کیوں ہے؟، ایمان مزاری ایف آئی آر درج کروانے والے سے نہ کبھی ملیں نہ پیسے لیے، ایمان مزاری کو مقدمہ سے ڈسچارج کیا جائے۔پراسیکیوٹر نے کہا کہ جلسے کیلئے این او سی دینے کا یہ مطلب نہیں کہ ریاست مخالف نعرے لگائے جائیں، عدالت ریمانڈ دے گی تو شواہد اکٹھے کریں گے۔وکیل زینب جنجوعہ کا مزید کہنا تھا کہ ایمان مزاری تفتیش میں تعاون کر رہی ہیں اس لیے جسمانی ریمانڈ کی ضرورت نہیں، عدالتوں کو سکور برابر کرنے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے، عدالتوں کو اس معاملے کو بھی دیکھنا ہے۔