شہر قائدکے نوجوانوں کی بزنس اسٹارٹ اپ میں حوصلہ افزائی کی جائے:پی ڈی پی

اسپیکر ایاز صادق نے صحافت کے تحفظ کے لیے نئی قانون سازی کا عہد کیا

چیئرمین سینیٹ نے صحافیوں کے تحفظ کو جمہوریت کی بنیاد قرار دیا

پاکستان، برطانیہ منظم مجرمانہ سرگرمیوں سے نمٹنے اور ابھرتے ہوئے بین الاقوامی خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کو بڑھانے پر متفق8

کوریا کے سفارت خانے نے ثقافتی تبادلے کو فروغ دینے کے لیے

پاکستان کے لاکھوں بچوں کے خون میں سیسے کی خطرناک سطح، ان کی نشوونما کے لیے خطرہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

پاکستان میں ہر5 منٹ بعد ایک شخص ٹریفک حادثے کا شکار، سالانہ 28 ہزار اموات

کراچی (پی پی آئی)پاکستان میں ہر پانچ منٹ میں ایک شخص ٹریفک حادثے کا شکار ہو جاتا ہے، عالمی ادارہ صحت کے مطابق ملک میں ٹریفک حادثات کے باعث سالانہ 28 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوتے ہیں۔روڈ سیفٹی کے حوالے سے پاکستان کا شمار بد ترین ممالک کی فہرست میں نمایاں ہے،  اسی لئے مرحوم عبدالستار ایدھی نے تمام اہم شاہراہوں پر حادثات کے شکار افراد کیلئے اسپتالوں کے قیام کی تجویز پیش کی تھی نیشنل ٹرانسپورٹ ریسرچ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں زیادہ تر ٹریفک حادثات انسانی غلطی کی وجہ سے ہوتے ہیں، جس میں ڈرائیورز کی غفلت سب سے نمایاں ہے۔ پی پی آئی کے مطابقسب سے زیاد ہ ٹریفک حادثات خیبر پختون خوا، اس کے بعد پنجاب اسلام آباد اور پھر سندھ میں رپورٹ ہوتے ہیں، مگر اندرون سندھ میں حادثات کی بڑی وجہ سڑکوں کی خستہ حالت ہے یہی سبب ہے کہ ابتدائی طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے بھی زخمیوں کی بڑی تعداد لقمہ اجل بن جاتی ہے سندھ بھر میں 40 فی صد جان لیوا حادثات انڈس ہائی وے پر جامشورو سے سیہون راستے پر ہوتے ہیں، اس روڈ کو سندھ بھر میں ’شاہراہ موت‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ٹریفک پولیس کے مطابق کراچی میں 65 فی صد حادثات ہیوی گاڑیوں کی وجہ سے ہوتے ہیں، جن کا سب سے زیادہ شکار موٹر سائکل سوار بنتے ہیں۔ ایدھی فاؤنڈیشن کے مطابق 2022 میں ٹریفک حادثات میں 781 افراد ہلاک ہوئے تھے۔نیشنل روڈ سیفٹی کے اندازے کے مطابق 2020 میں پاکستان میں سڑکوں پر ہونے والے حادثات 77 فی صد تک بڑھے تھے، اگر حادثات کو روکنے کی کوئی حکمت عملی پیش نہ کی گئی تو پاکستان میں ان حادثات کی تعداد 2030 میں 200 فی صد تک بڑھنے کا خدشہ ہے۔