سندھ نے سستی بجلی کے لیے صوبائی گرڈ کا خاکہ پیش کیا؛ ڈنمارک کی سبز سرمایہ کاری پر نظر

بلوچستان میں یوم مزدور منایا گیا

قتل پر احتجاج کے بعد مرکزی شاہراہ بند

گینگز اور املاک کے جرائم کے خلاف سیکیورٹی سخت

جاری کریک ڈاؤن میں بدنام زمانہ چھیننے والے گروہ کے ارکان گرفتار

دارالحکومت میں کریک ڈاؤن، غیر قانونی اسلحہ برآمد، دو افراد گرفتار

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

ہوش ربا مہنگائی کے باعث لوگ قرض لینے، اثاثے فروخت کرنے پر مجبور

کراچی (پی پی آئی)ملک میں ہوش ربا مہنگائی کی حالیہ لہر اور معاشی بحران کے باعث عوام اب روزمرہ کی ضروریات، جیسے بجلی کے بل، اسکول کی فیس، مکان کا کرایہ اور دیگر اخراجات پورے کرنے میں سخت مشکلات کا شکار ہیں۔ جب بجلی کے بل گھریلو بجٹ میں ادا نہیں کیے جاسکتے ہوں تو ان کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں بچتا کہ وہ مہینے کے اختتام کے قریب دوستوں سے پیسے ادھار لیں، پی پی آئی کے مطابق یہ قرض بھی ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ بنتا جا رہا ہے، وہ لوگ جنہیں اثاثے بیچنے یا قرض لینے کی اشد ضرورت نہیں ہے وہ بھی اپنے ایسے اخراجات کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو بنیادی ضروریات سے متعلق نہیں ہیں۔ بہت سے لوگوں نے خرچوں کی وجہ سے فیملی اور دیگر تقریبات میں جانا چھوڑ دیا ہے۔‘اگرچہ اخراجات کو معقول بنانا بحرانی معاشی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتا ہے لیکن یہ ریٹیلرز اور دیگر صنعتوں سے وابستہ افراد کے لیے پریشانی کا باعث بن رہا ہے۔ مہنگائی کی وجہ سے مرغی کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو گئی ہیں، گاہک اب گوشت کے بجائے پوٹا، کلیجی اور پنجے خریدتے ہیں۔ہوٹل مالکان نے بتایا کہ زیادہ تر گاہک اب پورے کپ کے بجائے کٹ (آدھا کپ) چائے کا آرڈر دیتے ہیں، اسی طرح ہوٹل میں گوشت کے سالن جیسے قیمہ، قورمہ کے بجائے اب زیادہ تر صارفین سبزیوں اور دال جیسی سستی ڈشز کو ترجیح دیتے ہیں۔ ایک مدرسے کے منتظم کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران داخلوں کی تعداد دوگنی ہو گئی جب کہ لوگ اپنے بچوں کو نجی اسکولوں سے نکال کر ایسے دینی مدارس کا انتخاب کر رہے ہیں جہاں طلبہ کو مفت کھانا اور رہائش فراہم کی جاتی ہے۔