پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے معاہدے

چوہدری لطیف اکبر کا چرکپورہ میں شاندار استقبال؛ مسائل کے حل کی یقین دہانی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹر ایمل ولی کا ردعمل

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی خریداری قیمت میں کمی، دیگر کرنسیوں میں بھی معمولی اتار چڑھاؤ

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے تک پہنچ گیا

اسٹاک ایکسچینج میں بڑی گراوٹ، انڈیکس 1,703 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ نیچے

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

ہوش ربا مہنگائی کے باعث لوگ قرض لینے، اثاثے فروخت کرنے پر مجبور

کراچی (پی پی آئی)ملک میں ہوش ربا مہنگائی کی حالیہ لہر اور معاشی بحران کے باعث عوام اب روزمرہ کی ضروریات، جیسے بجلی کے بل، اسکول کی فیس، مکان کا کرایہ اور دیگر اخراجات پورے کرنے میں سخت مشکلات کا شکار ہیں۔ جب بجلی کے بل گھریلو بجٹ میں ادا نہیں کیے جاسکتے ہوں تو ان کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں بچتا کہ وہ مہینے کے اختتام کے قریب دوستوں سے پیسے ادھار لیں، پی پی آئی کے مطابق یہ قرض بھی ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ بنتا جا رہا ہے، وہ لوگ جنہیں اثاثے بیچنے یا قرض لینے کی اشد ضرورت نہیں ہے وہ بھی اپنے ایسے اخراجات کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو بنیادی ضروریات سے متعلق نہیں ہیں۔ بہت سے لوگوں نے خرچوں کی وجہ سے فیملی اور دیگر تقریبات میں جانا چھوڑ دیا ہے۔‘اگرچہ اخراجات کو معقول بنانا بحرانی معاشی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتا ہے لیکن یہ ریٹیلرز اور دیگر صنعتوں سے وابستہ افراد کے لیے پریشانی کا باعث بن رہا ہے۔ مہنگائی کی وجہ سے مرغی کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو گئی ہیں، گاہک اب گوشت کے بجائے پوٹا، کلیجی اور پنجے خریدتے ہیں۔ہوٹل مالکان نے بتایا کہ زیادہ تر گاہک اب پورے کپ کے بجائے کٹ (آدھا کپ) چائے کا آرڈر دیتے ہیں، اسی طرح ہوٹل میں گوشت کے سالن جیسے قیمہ، قورمہ کے بجائے اب زیادہ تر صارفین سبزیوں اور دال جیسی سستی ڈشز کو ترجیح دیتے ہیں۔ ایک مدرسے کے منتظم کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران داخلوں کی تعداد دوگنی ہو گئی جب کہ لوگ اپنے بچوں کو نجی اسکولوں سے نکال کر ایسے دینی مدارس کا انتخاب کر رہے ہیں جہاں طلبہ کو مفت کھانا اور رہائش فراہم کی جاتی ہے۔