جمعیت طلبہ عربیہ کا 54 واں یوم تاسیس کل ملک بھر میں منایا جائے گا

بنو قابل پروگرام کے انعقاد میں کلیدی کردار ادا کرنے والے معاونین کے اعزاز میں جماعت اسلامی کی تقریب پذیرائی

کراچی میں موبائل کامرس 2026 کانفرنس منعقد ،وزیر اعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی برائے سائنس شریک

بلوچستان میں ‘ڈیجیٹل ایڈورٹائزنگ پالیسی 2026’ متعارف

خواتین کی سفارت کاری کے عالمی دن کے موقع پرصدر مملکت کا پیغام

پیپلز پارٹی خیبرپختونخوا، کے صدر کی گورنر خیبرپختونخوا سے ملاقات

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

حکومت اسٹریٹیجک اداروں کا انتظام اپنے پاس رکھے گی، دیگر کی تنظیم نو یا نجکاری ہو گی: شمشاداختر

نگراں وزیر خزانہ شمشاد اختر نے کہاہے کہ سرکاری ادارے ملکی معیشت کو سالانہ 500 ارب روپے کا نقصان پہنچا رہے ہیں۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سٹریٹیجک نوعیت کے اداروں کا انتظام اپنے پاس رکھے گی، دیگر اداروں کی تنظیم نو یا نجکاری کی جائے گی  کیونکہ حکومتی ملکیتی اداروں کے نقصانات 500 ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں، موجودہ حکومت نے اس حوالے سے پالیسی اسٹرکچر اور ڈیزائن تیار کیا ہے۔شمشاد اختر نے کہا کہ 2020 میں ایس او ایز کے نقصانات 500 بلین روپے تھے، فنانشل نقصانات کے ازالے کے لیے وزارت خزانہ مدد کرے گی، فنانشل نقصانات کے ازالے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ حکومتی ملکیتی اداروں میں 85 کمرشل ادارے بھی شامل ہیں، ان میں پاور سیکٹر کے 20 ادارے شامل ہیں، حکومتی ادارے خدمات فراہم کرنے میں ناکام رہے، 10 منافع بخش اور نقصان میں چلنے والے اداروں کی فہرست بنالی ہے،۔ان کا کہنا ہے کہ مجوزہ پالیسی کے زریعے آزادانہ بورڈ ممبرز کا تقرر کیا جائے گا، بورڈ ممبران کو اپنے عہدے کی میعاد کی سیکیورٹی دی جائے گی،نگراں وزیرِ خزانہ نے کہا کہ مختلف اوقات میں حکومتی ملکیتی اداروں کی تنظِیم نو کی گئی، حکومتی اداروں کے بورڈ آف ڈائریکٹر میں نااہل افراد تعینات رہے۔شمشاد اختر کا کہنا ہے کہ منافع بخش کمپنیوں کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے، کوئی وزارت سرکاری محکموں کو کسی قسم کی ہدایت جاری نہیں کرے گی،انہوں نے کہا کہ کچھ حکومتی کمپنیوں کی 350 ارب روپے کے منافع ہیں، ان میں سے 185 ارب روپے کے صرف تیل و گیس کمپنیوں کا منافع ہے، سرکاری کمپنیوں کے نقصانات کی بنیادی وجہ میرٹ کے بغیر تعیناتیاں ہیں۔