جےیوآئی کے رہنماء پرفیسر زبیر عباسی کے والد انتقال کر گئے ،فضل الرحمن کا اظہار افسوس

پشتونوں کی بدقسمتی کہ انہوں نے کرپشن کرنے والوں کو اسمبلیوں میں بھیجا:عوامی نیشنل پارٹی

ایڈیشنل آئی جی کراچی سے سرجانی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ کے وفد کی ملاقات

گورنر سندھ سے آئی سی ایم اے کے وفد کی ملاقات، مالی شفافیت اور معیاری پیشہ ورانہ تعلیم کے فروغ پر زور

پاکستان پائیدار سرمایہ کاری کی مارکیٹ میں داخل؛ ای ایس جی میوچل فنڈز فریم ورک متعارف

این ای ڈی یونیورسٹی میں سندھ کے پہلے گوگل جیمنی فار ایجوکیشن کارنر کا افتتاح

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

کراچی میں جان بچانے والی ادویات منظور شدہ ریٹیل قیمت سے پانچ گنا  زائد پر فروخت

کراچی (پی پی آئی)کراچی میں فارمیسی اور میڈیکل اسٹورز اپرجان بچانے والی ادویات منظور شدہ زیادہ سے زیادہ ریٹیل قیمت سے پانچ گنا اضافی قیمت پر ادویات فروخت کی جارہی ہیں۔ ڈریپ قوانین کے مطابق دوا ساز کمپنیاں ایم آر پی سے کم قیمت پر ادویات فروخت کر سکتی ہیں لیکن وہ ایم آر پی سے اضافی قیمت پر فروخت نہیں کر سکتیں، قیمتوں میں اضافے کے لیے فارماسیوٹیکل کمپنیوں کو ڈریپ کے پاس کیس دائر کرنا پڑتا ہے کہ ادویات کی پیداواری لاگت بڑھ گئی ہے اور موجودہ ایم آر پی کے اندر ادویات فروخت کرنا ان کے لیے قابل عمل نہیں ہے۔ پی پی آئی کے مطابق ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ)   نے بھی تسلیم کیا ہے کہ اسکی ٹیموں نے کراچی ڈی ایچ اے، گلشن اقبال، گلستان جوہر اور دیگر علاقوں کے مختلف میڈیکل اسٹورز پر چھاپے مارے۔ تو انکشاف ہوا کہ دی ہیپارن انجکشن جو کہ خون کے جمنے کو کم کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، اس کی زیادہ سے زیادہ ریٹیل قیمت 800 روپے ہے لیکن اسے 3500 روپے میں فروخت کیا جا رہا تھا۔ اسی طرح درد کو ختم کرنے والا ٹرامل انجکشن، اینٹی بائیوٹک آگمنٹن ڈی ایس سسپنشن اور کھانسی کا شربت ہائیڈریلین ایم آر پی سے زیادہ قیمتوں پر فروخت کیا جا رہا تھا۔ یہ بات سامنے آئی کہ میڈیکل اسٹورز تپ دق، مرگی، کینسر اور دیگر جان بچانے والی ادویات بھی اضافی نرخوں پر فروخت کر رہے تھے۔