اسرائیل کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی عمل سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، سردار مسعود

ایرانی مذاکرات کی کامیابی ایران اور ایرانی قوم کی فتح ہے،ہم خراج تحسین پیش کرتے ہیں:جماعت اسلامی پاکستان

امریکہ-ایران امن معاہدہ پاکستان کے لیے باعثِ فخر اور عالمی معیشت کے لیے ایک نہایت اہم اور خوش آئند لمحہ ہے: وفاقی وزیر خزانہ

پشاور میں 1.6ارب کی لاگت سے بننے والے انڈر پاس کا سنگ بنیاد

اسلام آباد میں غیر قانونی ہتھیار رکھنے اور دھوکہ دہی کے کیس میں مشتبہ افراد گرفتار

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نئے ہفتے کے آغاز پر زبردست تیزی ، انڈیکس میں4639پوائنٹس کا اضافہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

سائفر کیس میں عمران خان کی جیل ٹرائل کے خلاف انٹراکورٹ اپیل پر فیصلہ محفوظر

اسلام آباد(پی پی آئی) اسلام آباد ہائی کورٹ نے سائفر کیس میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی جیل ٹرائل کے خلاف انٹراکورٹ اپیل پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر کیس میں جیل ٹرائل اور جج تعیناتی کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی اپیلوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا، اس حوالے سے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے سماعت مکمل کرکے فیصلہ محفوظ کیا جہاں آج سابق وزیراعظم عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ کے دلائل مکمل ہوگئے جن کے بعد وفاق سے اٹارنی جنرل منصور اعوان اور ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے بھی اپنے دلائل مکمل کرلیے، جس پر عدالت نے عمران خان کی جیل ٹرائل کے خلاف انٹراکورٹ اپیل پر فیصلہ محفوظ کرلیا اور آج شام مختصر فیصلہ سنانے کا اعلان کردیا، شارٹ آرڈر کے بعد تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری ہو گا۔بتایا گیا ہے کہ سائفر کیس میں آج کی سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل کا آغاز کیا اور کہا کہ سی آر پی سی کی سیکشن 352 کے تحت جیل ٹرائل کے لئے ٹرائل جج نے کچھ وجوہات کے ساتھ یہ اختیار استعمال کرنا ہوتا ہے، پھر ریکوئسٹ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ (کمشنر) کے ذریعے وفاقی حکومت کو جاتی ہے، کابینہ کے سامنے یہ معاملہ رکھنا ہوتا اور ہائی کورٹ کو بھی آگاہ کرنا ہوتا ہے یہ پراسس ہے، سائفر کیس میں جیل ٹرائل کے لیے جج کو جیل ٹرائل سے متعلق جوڈیشل آرڈر پاس کرنا چاہئے تھا جو آج تک نہیں ہوا۔معلوم ہوا ہے کہ اپنے دلائل میں سلمان اکرم راجہ نے کابینہ کے فیصلے کے اثرات پر دلائل میں کہا کہ کابینہ کے فیصلے کا ماضی پر اطلاق نہیں ہوتا، جیل ٹرائل کیلئے سب سے پہلے ٹرائل جج نے فیصلہ کرنا ہوتا ہے، حکم جاری کرنا ہوتا ہے، ٹرائل کورٹ کے جج کے خط کو فیصلہ یا حکمنامہ نہیں کہہ سکتے، جج اپنا مائنڈ فیصلے سے ظاہر کرتا ہے، مان بھی لیا جائے کہ بارہ نومبر سے کابینہ کی منظوری کیلئے طریقہ کار پر عمل کیا گیا تو پہلے کی کارروائی غیر قانونی ہوگی۔