ہنی ویل ٹیکنالوجیز کے نائب صدر کی واشنگٹن ڈی سی میں وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقات

ایس ای سی پی نے تصدیق انفارمیشن سروسز کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آئی پی او کی اجازت دے دی

پاکستانی روپیہ بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں مستحکم، ڈالر کی قدر میں کمی

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ کے باوجود مثبت رجحان

ملک بھر میں سونے اور کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ

کراچی کیماڑی میں سولہ سالہ لڑکی کے اندھے قتل کا معمہ حل سابق منگیتر گرفتار

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

بلدیہ عظمیٰ کراچی کی کونسل کا عام اجلاس: 5 مختلف قراردادوں کی منظوری دی گئی

کراچی(پی پی آئی) بلدیہ عظمیٰ کراچی کی کونسل کا عام اجلاس پیر کے روز کونسل ہال صدر دفتر بلدیہ عظمیٰ کراچی میں میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کی زیر صدارت منعقد ہوا، ڈپٹی میئر کراچی سلمان عبداللہ مراد نے بھی اجلاس میں شرکت کی، اجلاس کے دوران مجموعی طور پر 5 مختلف قراردادوں کی منظوری دی گئی، اجلاس کے آغاز میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما منور رضا اور پاکستان تحریک انصاف کی رکن سٹی کونسل پروین مراد بلوچ کے لئے دعائے مغفرت کی گئی، اجلاس میں اتفاق رائے سے منظور کی گئی ایک قرارداد کے تحت نگراں صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی، سابقہ ڈسٹرکٹ میونسپل کارپوریشنز، ضلع وسطی، غربی، شرقی، جنوبی، کورنگی، کیماڑی، ملیر اور ڈسٹرکٹ کونسل کراچی سے پینشن کے حق دار ریٹائرڈ ملازمین و افسران کو ان کے ریٹائرمنٹ کے واجبات بشمول پینشن، گریجویٹی و دیگر متعلقہ واجبات کی ادائیگی کے لئے فوری طور پر ایک اسپیشل فنانشل بیل آؤٹ پیکیج منظور کرے تاکہ اپنے واجبات کی ادائیگی کے منتظر ہزاروں ریٹائرڈ سرکاری ملازمین اور ان کے خاندانوں کو انسانی و قومی ہمدرد کی بنیاد پر فوری ریلیف فراہم کیا جاسکے جبکہ بلدیہ عظمیٰ کراچی، سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 ء کی متعلقہ دفعات کے تحت اور کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن میونسپل یوٹیلیٹی چارجز اینڈ ٹیکس کلیکشن رولز 2022 ء میں صراحت کردہ انداز میں کے ایم سی اور کے الیکٹرک سے اشتراک سے کے الیکٹرک کے ماہانہ بلوں کے ذریعے میونسپل یوٹیلیٹی چارجز و ٹیکس کی شہر بھر سے وصول کرنے سے متعلق بلدیہ عظمیٰ کراچی کی منظور شدہ قرارداد نمبر 78 مورخہ 21 جون2022 ء کو Adop کرنے سے متعلق میٹروپولیٹن کمشنر بلدیہ عظمیٰ کراچی کی یادداشت میں درج سفارشات کثرت رائے سے منظور کی گئیں، اجلاس میں کثرت رائے سے منظور کی گئی ایک اور قرارداد کے ذریعے مطالبہ کیا گیا کہ کراچی کی 246یونین کمیٹیوں میں عوام کی جانب سے ترقیاتی کاموں کے لئے منتخب یونین یوسی چیئرمین پر بہت دباؤ ہے، بالخصوص دیہہ میں واقع یونین کمیٹیوں میں ترقیاتی کام خصوصی توجہ کے مستحق ہیں اور منتخب یوسی چیئرمین کی جانب سے اپنے حلقہ انتخاب میں ترقیاتی کام کرانے کے لئے خاطر خواہ رقم فراہم کرنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے لہٰذا کراچی کی تمام یونین کمیٹیوں کے ہر منتخب یوسی چیئرمین کو اپنی یونین کمیٹی میں ترقیاتی کاموں کی انجام دہی کے لئے فوری طور پر تین، تین کروڑ روپے کا فنڈز فراہم کیا جائے، اجلاس کے دوران پاکستان پیپلزپارٹی کے پارلیمانی لیڈر نجمی عالم، جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر سیف الدین ایڈوکیٹ، جمعیت علمائے اسلام کے پارلیمانی لیڈر مفتی خالد اور پاکستان تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر سمیت مختلف اراکین نے اظہار خیال کیا، میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ ہر یوسی کو عوامی مسائل کے حل کے لئے فی کس 10 کروڑ روپے ملیں لیکن اعلان کرنا آسان ہے اور اسے پورا کرنا مشکل ہوتا ہے لہٰذا ہم صرف قابل عمل بات کریں گے، سٹی کونسل کے اراکین سے کہوں گا کہ کے ایم سی میں ٹیکس اور ریونیو کلیکشن کے نظام کو بہتر بنانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں تاکہ ہم یہ پیسہ اس شہر پر لگا سکیں، انہوں نے کہا کہ اس شہر نے نفرتوں کی وجہ سے بہت نقصان اٹھا لئے، اب ہمیں پیار محبت کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے، سٹی کونسل کے ہر اجلاس میں شہر کے کسی ایک بنیادی مسئلے کو محور بنا کر اس کے حل کے لئے کوشش کی جائے گی، اس مقدس ایوان میں شہر کے مفاد کی بات کی جائے تو سب ساتھ دیں گے کیونکہ سبھی کی یہ خواہش ہے کہ کراچی کے شہریوں کو ریلیف ملے، سٹی کونسل کے تمام امور کو قانون کے مطابق چلائیں گے، کے ایم سی کا موجودہ بجٹ گزشتہ ایڈمنسٹریٹر نے مارچ کے مہینے میں منظور کیا تھا اور قانون کے ایم سی کے بجٹ کی کونسل سے دوبارہ منظوری کی اجازت نہیں دیتا پھر بھی اگر سٹی کونسل کے اراکین کو بجٹ کے حوالے سے کچھ تحفظات ہیں تو اس کے لئے کونسل میں قرارداد پیش کی جاسکتی ہے، اجلاس کے دوران پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر نجمی عالم نے کہا کہ شہر کے مسائل حل کرنے کے لئے کے ایم سی کے ریونیو کو بڑھانا لازمی ہے کیونکہ ہر چیز ریونیو سے جڑی ہوئی ہے، انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک بلوں کے ذریعے میونسپل یوٹیلیٹی ٹیکس جمع کرنے کا فیصلہ اس لئے کیا کہ کراچی میں کے الیکٹرک کے صارفین سب سے زیادہ ہیں، اگر اس طرح ساڑھے 4 ارب روپے مل گئے تو مساوی طور پر تمام یوسیز میں تقسیم کئے جائیں گے، اجلاس میں جماعت اسلامی کے امیر حافظ محمد نعیم الرحمان نے کہا کہ کراچی میں شہریوں کو درپیش مسائل کی وجہ متوازی نظام کا چلنا ہے، شہریوں کے وسیع تر مفاد میں سٹی کونسل کو مثبت طور پر چلانا چاہتے ہیں، ہمیں پوری دنیا کو ایک اچھا تاثر دینا ہے کہ ہمارے ادارے صحیح کام کر رہے ہیں، انہوں نے سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کو ٹاؤنز اور یوسیز کے ماتحت کرنے کی تجویز دی۔