پاکستان کے ہندو تارکین وطن انڈیا میں بنیادی سہولتوں سے محروم

نئی دہلی (پی پی آئی) بھارتی دارالحکومت کے مضافات میں پاکستان سے آئے ہندو تارکین وطن کے تقریباً 300 خاندان عارضی پناہ گاہوں میں موجود ہیں جہاں پر انہیں بنیادی سہولتیں بھی میسر نہیں۔ ’مجنوں کا ٹیلہ‘ اور ’سگنیچر برج‘ کی عارضی پناہ گاہوں کے علاوہ انڈیا  بھرمیں ہزاروں کی تعداد میں پاکستان سے آئے ہندو تارکین وطن مختلف شہروں میں پناہ گزین ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ سب بے گھر ہونے کے اندیشوں سے گھرے رہتے ہیں۔ابھی حال ہی میں دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے عارضی کیمپوں کو منہدم کرنے کا نوٹس دیا تھا۔ جسے دہلی ہائی کورٹ نے حکم امتناع سے روک دیا تھا۔ پاکستانی ہندو تارکین وطن جس طرح کی زندگی وہ گزار رہے ہیں، اس کا انہیں بہت شکوہ ہے۔ا پنے پاکستان کے دنوں کو یاد کرتے ہوئے  ان مکینوں میں سے ایک دوشیزہکہتی ہے کہ وہاں ہمیں بجلی میسر تھی، زمین اپنی تھی، اپنا گھر تھا،اب یہاں بھی ہمیں کوئی بولے کے یہاں سے نکلو تو کہاں جائیں گے؟‘عارضی کیمپ میں رہائش پذیر ایک اور عورتکا کہنا ہے کہ ’ہمارے حالات اچھے نہیں ہیں۔ کبھی روٹی پکتی ہے کبھی نہیں۔ روزی روٹی بھی نہیں ہے۔ کمائی نہیں ہے۔ بچوں کا مستقبل نہیں ہے۔ اسکول نہیں ہے اچھا۔ کوئی علاج کا انتظام نہیں ہے۔ کوئی کاروبار نہیں ہے کہ بچے اس میں لگ جائیں۔  وہ بتاتی ہے کہ پاکستان میں ہمارے اپنے مکان تھے، روزی روٹی تھی، کھیتی باڑی بھی کرتے تھے، کاروبار بھی ادھر چلتا تھا۔

Latest from Blog