شہر قائدکے نوجوانوں کی بزنس اسٹارٹ اپ میں حوصلہ افزائی کی جائے:پی ڈی پی

اسپیکر ایاز صادق نے صحافت کے تحفظ کے لیے نئی قانون سازی کا عہد کیا

چیئرمین سینیٹ نے صحافیوں کے تحفظ کو جمہوریت کی بنیاد قرار دیا

پاکستان، برطانیہ منظم مجرمانہ سرگرمیوں سے نمٹنے اور ابھرتے ہوئے بین الاقوامی خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کو بڑھانے پر متفق8

کوریا کے سفارت خانے نے ثقافتی تبادلے کو فروغ دینے کے لیے

پاکستان کے لاکھوں بچوں کے خون میں سیسے کی خطرناک سطح، ان کی نشوونما کے لیے خطرہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

رواں برس پاکستان میں پولیو کیسز کی شرح میں قابلِ تشویش اضافہ

کراچی(پی پی آئی)پاکستان میں پولیو کیسز کی شرح میں قابلِ تشویش اضافہ ہوا ہے رواں برس 30 اضلاع کے 83 سیمپلز پولیو پازیٹو ہو چکے ہیں۔ پی پی آئی کے مطابق کراچی، لاہور، بدین، پشاور، چمن  کے سیوریج سمپلز پولیو پازیٹو نکلے ہیں۔ ا ن میں سے 80 سیوریج سیمپلز جینیاتی طور لوکل جبکہ 3  کا جینیاتی تعلق افغانستان سے ہے۔ کراچی ایسٹ راشد منہاس روڈ، مچھر کالونی،چکورا نالہ کی سیوریج پولیو پازیٹو ہے۔ رواں برس کراچی ایسٹ کے 12 سیوریج سیمپلز پولیو پازیٹو نکلے ہیں۔ کراچی ایسٹ کی سیوریج کا پولیو وائرس جینیاتی طور لوکل ہے۔ کراچی ساوتھ کی ہجرت کالونی کی سیوریج میں پولیو پایا گیا ہے۔پی پی آئی کے مطابق کراچی ساوتھ کے پولیو وائرس کا جینیاتی تعلق کراچی ایسٹ سے ہے۔ کراچی ملیر لانڈھی کی سیوریج میں پولیو وائرس پایا گیا۔ ملیر لانڈھی بختاور کی سیوریج کا پولیو وائرس جینیاتی طور پر لوکل ہے۔  لاہور کی آوٹ فال سٹیشن انوائرمنٹل سائٹ میں پولیو کی تصدیقکی گئی ہے۔ لاہور کی سیوریج کے پولیو وائرس کا جینیاتی تعلق کراچی ایسٹ سے ہے۔ پشاور کے علاقہ نرے خوڑ کی سیوریج پولیو پازیٹو ہے، پشاور کے پولیو وائرس کا جینیاتی تعلق جلال آباد افغانستان سے ہے۔ چمن کے علاقہ ہادی پاکٹ کی سیوریج میں پولیو پایا گیا ہے۔ چمن کی سیوریج کا پولیو وائرس جینیاتی طور پر لوکل ہے۔ بدین کے علاقہ ماہوالی درگاہ نالہ کی سیوریج میں بھی پولیو پایا گیا ہے۔ بدین کی سیوریج کے پولیو وائرس کا جینیاتی تعلق کراچی سنٹرل سے ہے۔