شہر قائدکے نوجوانوں کی بزنس اسٹارٹ اپ میں حوصلہ افزائی کی جائے:پی ڈی پی

اسپیکر ایاز صادق نے صحافت کے تحفظ کے لیے نئی قانون سازی کا عہد کیا

چیئرمین سینیٹ نے صحافیوں کے تحفظ کو جمہوریت کی بنیاد قرار دیا

پاکستان، برطانیہ منظم مجرمانہ سرگرمیوں سے نمٹنے اور ابھرتے ہوئے بین الاقوامی خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کو بڑھانے پر متفق8

کوریا کے سفارت خانے نے ثقافتی تبادلے کو فروغ دینے کے لیے

پاکستان کے لاکھوں بچوں کے خون میں سیسے کی خطرناک سطح، ان کی نشوونما کے لیے خطرہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

 دنیا بھر میں پیدا ہونے والی  مجموعی خوراک کا 19 فیصد ضائع،8 سو ملین افراد بھوک کا شکار

کراچی(پی پی آئی)عالمی سطح پر ہر شخص سالانہ تقریباً 79 کلو کھانا ضائع کرتا ہے جو عالمی سطح پر یومیہ 1 ارب ضائع شدہ کھانا بنتا ہے۔اقوام متحدہ کے فوڈ ویسٹ انڈیکس کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 2022 میں دنیا بھر میں پیدا ہونے والی خوراک کا 19 فیصد فضلہ کے طور پر ضائع کیا گیا ہے جو تقریباً 1.05 ارب میٹرک ٹن خوراک کے برابر ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2030 تک خوراک کے ضیاع کو نصف کرنے کے ہدف سے متعلق ممالک کی جانب سے اٹھائے اقدامات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ عالمی خوراک کے کے ضیاع میں 60 فیصد حصہ گھروں کا اور 30 فیصد ریسٹورنٹس کا بنتا ہے۔مقامی حکومتوں، اداروں اور صنعتی گروپس کی اس حوالے سے مشترکہ حکمت عملی کو اپنانے پر زور دیا گیا ہے تاکہ شراکت داری سے عالمی سطح پر کھانے کے ضیاع کو کم کیا جاسکے۔پی پی آئی کے مطابق فوڈ ویسٹ انڈیکس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2022 میں روزانہ کی بنیاد پر ایک ارب کھانے کے پیکٹ پھینکے گئے۔ خاندانوں اور کمپنیوں نے ایک ٹریلین سے زائد مالیت کا کھانا پھینکا جبکہ تقریباً آٹھ سو ملین افراد بھوک کا شکار ہیں۔