شہر قائدکے نوجوانوں کی بزنس اسٹارٹ اپ میں حوصلہ افزائی کی جائے:پی ڈی پی

اسپیکر ایاز صادق نے صحافت کے تحفظ کے لیے نئی قانون سازی کا عہد کیا

چیئرمین سینیٹ نے صحافیوں کے تحفظ کو جمہوریت کی بنیاد قرار دیا

پاکستان، برطانیہ منظم مجرمانہ سرگرمیوں سے نمٹنے اور ابھرتے ہوئے بین الاقوامی خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کو بڑھانے پر متفق8

کوریا کے سفارت خانے نے ثقافتی تبادلے کو فروغ دینے کے لیے

پاکستان کے لاکھوں بچوں کے خون میں سیسے کی خطرناک سطح، ان کی نشوونما کے لیے خطرہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

جموں وکشمیرکی ریاستی حیثیت کی بحالی نہیں بلکہ خصوصی حیثیت کی بحالی اہم مسئلہ ہے: پروفیسر سوز

سرینگر(پی پی آئی)  غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کانگریس کے رہنما اورسابق بھارتی وزیر پروفیسر سیف الدین سوز نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی نہیں بلکہ خصوصی حیثیت کی بحالی اہم مسئلہ ہے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق پروفیسر سیف الدین سوز نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ جموں وکشمیرکو کافی بحث و مباحثے کے بعدآئین ہند کے اندر خصوصی حیثیت دی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کی آئین ساز اسمبلی اوربھارتی لوک سبھا میں اس اہم مسئلے پر ہونے والے بحث ومباحثے ان تاریخی حقائق کے گواہ ہیں۔ انہوں نے کہاکہ کم از کم دو مباحثے، ایک 5نومبر 1952کو جموں و کشمیر کی دستور ساز اسمبلی میں اور دوسرا 24اگست 1952کوبھارتی لوک سبھا میں اس بات کے گواہ ہیں کہ جموں و کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے کا سوال مذکورہ تاریخوں پر جمہوری طریقے سے طے ہوا تھا۔انہوں نے خبردارکیاکہ اگر بھارت کاحکمران طبقہ ماضی کے معاہدوں کو تسلیم نہیں کرتا تو یہ ان کی غلطی ہے جس سے سیاسی مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔