شہر قائدکے نوجوانوں کی بزنس اسٹارٹ اپ میں حوصلہ افزائی کی جائے:پی ڈی پی

اسپیکر ایاز صادق نے صحافت کے تحفظ کے لیے نئی قانون سازی کا عہد کیا

چیئرمین سینیٹ نے صحافیوں کے تحفظ کو جمہوریت کی بنیاد قرار دیا

پاکستان، برطانیہ منظم مجرمانہ سرگرمیوں سے نمٹنے اور ابھرتے ہوئے بین الاقوامی خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کو بڑھانے پر متفق8

کوریا کے سفارت خانے نے ثقافتی تبادلے کو فروغ دینے کے لیے

پاکستان کے لاکھوں بچوں کے خون میں سیسے کی خطرناک سطح، ان کی نشوونما کے لیے خطرہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

بلوچستان میں پانی،بجلی،گیس کی عدم فراہمی سے کسان  کا استحصال ہورہا ہے، حافظ نعیم الرحمن

لاہور(پی پی آئی)  لاہور امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومت ہوش کے ناخن لیں،وسائل سے مالا مال صوبہ بلوچستان میں پانی،بجلی اور گیس کی عدم فراہمی سے کسان اور عام آدمی کا استحصال ہورہا ہے۔صوبے کے 34اضلاع پر پانی کا نظام ہی موجود نہیں،رقبے کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے صوبے میں صرف29ہزار ٹیوب ویلزاور چلانے کے لیے محض تین گھنٹے بجلی کی فراہمی چھوٹے کسانوں کے ساتھ مزاق ہے۔وزیر اعلیٰ بلوچستان وکالت کے بجائے اقدامات کریں کیونکہ وہ وفاقی حکومت کے نمائندہ ہیں۔جماعت اسلامی ہر محاذ پر بلوچستان کے زمینداروں کا مقدمہ لڑے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلوچستان اسمبلی کے سامنے زمینداروں کے احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پرصوبائی امیرمولانا عبدالحق ہاشمی،ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن بلوچ،ڈاکٹر عطاء الرحمن اور کسان راہنما عبدالرحمن بھی موجود تھے۔امیر جماعت نے کہا کہ بلوچستان کی معیشت کا انحصار فصلوں اورزراعت سے ہے،یہاں سے فروٹس اور سبزیاں بڑے پیمانے پر اندرون و بیرون ملک فروخت کی جاتی ہیں،مقامی لوگوں کے روزگار کا بندوبست ہوتا ہے۔جماعت اسلامی حکومت سے یہ مطالبہ کرتی ہے فی الفور لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کرے،ٹیوب ویلز کی تعداد میں اضافہ کرے اور پانی کی فراہمی کا مربوط نظام فراہم کرے تاکہ عام آدمی اور زمیندار کا استحصال نہ ہو۔ٹیوب ویل یہاں کی زراعت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کے مانند ہے اس لیے ٹیوب ویلز کے لیے سولر انرجی فراہم کرے تاکہ پانی کی سپلائی کا دورانیہ بڑھ سکے۔بڑے کاشت کاروں کے مقابلے میں چھوٹے کاشت کاروں کو زیادہ مراعات ملنی چاہیے تاکہ چھوٹے کسانوں کی زمینیں آباد ہوں اور ہماری معیشت مضبوط ہو۔وزیر اعلیٰ بلوچستان وکالت کرنے کی بجائے اقدامات کریں، اس وقت وہ تمام حکومتوں کے شراکت دار ہیں،ہمت کریں اور فیصلے کریں تاکہ بلوچستان خوشحالی اور ترقی کی طرف گامزن ہو۔