فیل امیدواروں کو افسر لگا دیا گیا، طاہر کھوکھر

مظفرآباد(پی پی آئی) ایم کیو ایم آزاد کشمیر کے رہنماسینئر پارلیمنٹرین سابق وزیرسیاحت و ٹرانسپورٹ محمد طاہر کھوکھرنے ایک  بیان  میں کہا کہ پبلک سروس کمیشن کو اس وقت کی حکومت نے جب بر خاست کر دیا تھا تو جس وجہ سے پبلک سروس کمیشن کو بر خاست کیا گیا جن خامیوں، کو تاہیوں اور میرٹ کی پامالی پر اور مخصوص امیدواروں کو نوازنے کے لیئے ان پر نوازشات کیں اور فیل لوگوں کو بھرتی کرنے کے لیئے سارے قانون قاعدے بلڈوز کیئے گئے انہی فیصلوں اور میرٹ کی پامالی اور مخصوص لوگوں کو نوازے کی پاداش میں پبلک سروس کمیشن کو ہٹایا گیا تو اس پبلک سروس کمیشن کے فیصلوں کو بھی کالعدم قرار دیا جاتا اور منسوخ کیا جاتا اور جعلی بھرتیوں کو بھی کینسل کیا جاتا، انہوں نے کہا کہ ایسے لوگوں کو نواز ا گیا جو نہ تو میرٹ پر آتے تھے اور نہ پاس تھے بلکہ ان کا پرچہ بھی فیل تھا ان کو نوازنے کے لیئے فیل ہونے کے باوجود اے سی، سیکشن آفیسر لگا دیا، پبلک سروس کمیشن نے تمام قانون قاعدے قانون ردی کی ٹوکری میں پھینکے اور فیل لوگوں کو ریاست کو برباد کرنے کے لیئے بھرتی کیا ان لوگوں کو بھی فارغ کیا جائے،  طاہر کھوکھر نے کہا کہ  ہونا یہ چاہئے تھا پبلک سروس کمیشن ان کے نتائج کو کینسل کرتا اور ان کو از سرنو  دیکھنا چاہیے تھا اور تمام پرچے دوبارہ ری چیک کیئے جاتے اور فیل لوگوں کو فارغ کر کے پاس اور میرٹ پر آنے والے لوگوں کو بھرتی کیا جاتا، طاہر کھوکھر نے کہا کہ رولز بڑے واضح ہیں ٹوٹل نو سبجیکٹ  ہر سبجیکٹ میں 33فی صد نمبر لینے لازمی ہیں اور ان سبجیکٹ کو پاس کرنا بھی لازمی ہے اور مجموعی طور پر 45فی صد نمبر بھی لازمی لینے ہیں پھر پاس لوگوں کو کو میرٹ معیار پر پورا اترتے ہیں اور سارے سبجیکٹ پاس کرتے ہیں ان کو انٹرویو کے لیئے بلایا جاتا ہے جب کہ اس برعکس اس وقت پبلک سروس کمیشن نے اپنی مرضی سے اور من پسند طریقے سے رزلٹ بنا کر من پسند لوگوں کو بلایا اور انٹرویو کیئے گئے اور من پسند لوگوں کو بھرتی کیا گیا جس کی وجہ سے ہزاروں نوجوانوں کی حق تلفی ہوئی

Latest from Blog