آج کل بجلی کے بل نہیں بم آرہے ہیں، حافظ نعیم

لاہور(پی پی آئی)امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ پاکستانی عوام 2800 ارب روپے بغیر استعمال کے بجلی کا بل ادا کر رہے ہیں جو حکومت کی نا اہلی ہے۔لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ اس وقت ملک شدید گرمی اور سخت موسم سے گزر رہا ہے، اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ پورے ملک میں ہو رہی ہے، آج کل بجلی کے بل نہیں بلکہ لوگوں کے گھروں میں بم آرہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بجٹ کے نام پر عوام پر مزید ٹیکس کا بوجھ ڈالنا ہے، ہماری قسمت کے فیصلے کرنے والے قوم کی قسمت سے کھیل رہے ہیں، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی نورا کشتی جاری ہے۔حافظ نعیم الرحمٰن کا کہنا تھا کہ 13 ہزار ارب کے ٹیکس اہداف حقیقت سے دور ہیں، ٹیکس نیٹ تو بڑھایا نہیں بلکہ تنخواہ دار طبقے کو مار دیا گیا ہے، بجلی اور گیس کے بلوں پر جو ٹیکس لگایا گیا ہے اس میں ایف بی آر کا کیا کام ہے۔انہوں نے کہا کہ 119 فیصد پڑھے لکھے افراد ملک چھوڑ کر جاچکے ہیں، 2 کروڑ 62 لاکھ بچے آج اسکولوں سے دور ہیں، مڈل کلاس طبقہ کچھ کمانے لگے تو اتنا ٹیکس لگا دیا جاتا ہے کہ لوگ ملک سے باہر چلے جاتے ہیں۔حافظ نعیم الرحمٰن کا کہنا تھا کہ پاکستان سے صلاحیت رکھنے والے افراد کو جان بوجھ کر تنگ کیا جا رہا ہے تا کہ صلاحیت پاکستان سے ختم ہوجائے، جاگیر دار ٹیکس دیتا نہیں کسان کو گندم کی مار ماری گئی، کپاس کے اہداف پورے نہیں ہوسکے،۔انہوں نے کہا کہ زراعت جس پر ملک چل رہا ہے، حکومت اسی کی کمر توڑنے میں لگی ہوئی ہے، وزیر خزانہ نے نجکاری کے معاملے پر غیر ذمہ دارانہ بیان دیا ہے، انہوں نے سوال اٹھایا کہ نواز شریف نے اپنے ادوار میں کیوں اسٹیل مل کی گیس بند کی، پی آئی اے اور ریلوے کی نجکاری پاکستان کو بہت نقصان پہنچائے گی۔ پاکستان سے صلاحیت رکھنے والے افراد کو جان بوجھ کر تنگ کیا جا رہا ہے تا

 کہ صلاحیت پاکستان سے ختم ہوجائے، جاگیر دار ٹیکس دیتا نہیں کسان کو گندم کی مار ماری گئی، کپاس کیاہداف پورے نہیں ہوسکے، 6 ماہ سیگنیکیکاشتکاروں کوادائیگیاں نہیں کی گئیں۔

Latest from Blog