روبوٹکس بینکنگ کسٹمر کے تجربے کو تبدیل کرنے کے لیے تیار

انشورنس انڈسٹری کا بجٹ مذاکرات میں مالیاتی اصلاحات کے لیے زور

سندھ کابینہ نے ترقیاتی منصوبوں اور اہم عوامی امداد کے لیے 30 ارب روپے سے زائد کی منظوری دے دی

دارالحکومت میں وسیع سرچ آپریشنز کے دوران بڑی مقدار میں منشیات برآمد

پولیس چیف کی سنگین جرائم کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کرنے کی ہدایت

اعلیٰ سطحی فلسطینی مذاکرات کے دوران پاکستان کا غزہ پر گہرے دکھ کا اظہار

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

جرائم کو روکنے کے لیے کراچی پولیس کی جدید خطوط پر تربیت کی جائے:الطاف شکور

کراچی)پی پی آئی)پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکو رنے کہا ہے کہ بڑھتے ہوئے شہری جرائم کو روکنے اور کراچی پولیس کو ایک موثر فورس بنانے کے لیے اسے جدید خطوط پر تربیت دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ کراچی پولیس شہر میں بڑھتی ہوئی لاقانونیت کو روکنے میں ناکام رہی ہے کیونکہ اس کے پاس شہری جرائم سے لڑنے کی تربیت نہیں ہے۔ کراچی میں امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے فوری طور پر اربن پولیسنگ کا الگ شعبہ بنایا جائے۔  پولیس ٹریننگ ا سکولوں اور کالجوں کے سلیبس، ٹریننگ ٹولز اور آلات کو جدید بنایا جائے۔ مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا ریکارڈنگ اور تجزیہ کو پولیس ٹریننگ کا لازمی حصہ بنایا جائے۔ پولیس اہلکاروں کو پبلک سروس کمیشن کے ذریعے بھرتی کیا جائے،تاکہ ہماری پولیس فورس میں صرف پڑھے لکھے لوگ ہی داخل ہو سکیں۔ نئے بھرتی ہونے والوں کو غیر ملکی پولیس افسران، خاص طور پر چینی پولیس افسران کے ذریعے تربیت دی جائے تاکہ ہماری پولیس  انتہائی موثر پولیس فورس بن سکے۔ پولیس میں خدمات انجام دینے والے پولیس اہلکاروں اور افسران کو بھرپور طریقے سے دوبارہ تربیت دی جانی چاہیے اور جو لوگ جدید دور کی پولیسنگ کی ضروریات کے لیے نااہل پائے جاتے ہیں انہیں برطرف یا قبل از وقت ریٹائرمنٹ دینا چاہیے۔ پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں پی ڈی پی کے چیئرمین الطاف شکور نے مزید کہا کہ کراچی کے پولیس ٹریننگ اسکول، دیگر پولیس اکیڈمیوں اور ٹریننگ اسکولوں کی طرح پرانے اور فرسودہ طریقوں پر کام کرتے ہیں۔ ان اسکولوں میں جدید ڈیٹا اینالیسس، سرویلنس کیمروں اور مصنوعی ذہانت کے آلات کا استعمال نہیں سکھایا جاتا۔ یہ اسکول ایک غیر موثر پولیس فورس تیار کرتے ہیں۔پولیس اسکولوں کو خاص طور پر کراچی میں چین کی مدد سے جدید بنایا جانا چاہیے جس کے پاس دنیا کی سب سے زیادہ موثر پولیس فورس ہے۔تھانے کرپشن کے گڑھ ہیں۔ اوپر سے نیچے تک پولیس افسران عموماًکرپٹ ہوتے ہیں۔ وہ کبھی بھی پولیس فورس کو جدید نہیں بنانا چاہتے کیونکہ اس سے ان کی اپنی کرپشن کے دروازے بند ہو جائیں گے۔ پولیس کو کرپشن سے پاک محکمہ بنائے بغیر ہم ایک جدید اور موثر شہری پولیسنگ فورس کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے۔ منتخب پولیس اہلکاروں اور افسروں کو چین بھیجا جائے تاکہ انہیں جدید شہری پولیسنگ کے طریقوں کا ماسٹر ٹرینر بنایا جا سکے۔ پولیس کے جدید آلات اور اعلیٰ ترین پولیس فورس کے طریقوں پر عمل کیا جائے۔ کراچی تین کروڑ سے زیادہ آبادی رکھنے والا ایک بڑاشہر ہے اور اسے فرسودہ اور پرانی ذہنیت کی کرپٹ پولیس فورس نہیں چلا سکتی#