ہنی ویل ٹیکنالوجیز کے نائب صدر کی واشنگٹن ڈی سی میں وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقات

ایس ای سی پی نے تصدیق انفارمیشن سروسز کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آئی پی او کی اجازت دے دی

پاکستانی روپیہ بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں مستحکم، ڈالر کی قدر میں کمی

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ کے باوجود مثبت رجحان

ملک بھر میں سونے اور کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ

کراچی کیماڑی میں سولہ سالہ لڑکی کے اندھے قتل کا معمہ حل سابق منگیتر گرفتار

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

 لاتعداد خوبصورت اشعارکے خالق صہبا اختر کا یومِ ولادت منایا گیا

کراچی (پی پی آئی)لاتعداد خوبصورت اشعار لے خالق صہبا اختر کا94 واں یومِ ولادت   پیر کو منایا گیاصہبا اختر کا اصل نام اختر علی رحمت تھا اور وہ 30 ستمبر 1931میں کو پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد منشی رحمت علی، آغا حشر کاشمیری کے ہم عصر تھے اور اپنے زمانے کے ممتاز ڈرامہ نگاروں میں شمار ہوتے تھے۔ صہبا اختر نے بریلی سے میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے بعد علی گڑھ یونیورسٹی میں داخلہ لیا مگر اسی دوران انہیں اپنے اہل خانہ کے ہمراہ پاکستان آنا پڑا۔ پاکستان آنے کے بعد صہبا اختر  نے محکمہ خوراک میں ملازمت اختیار کی اور انسپکٹر سے راشننگ کنٹرولر کے عہدے تک پہنچ کر ریٹائر ہوئے۔پی پی آئی کے مطابق     صہبا اختر  کی شاعری میں نظیر اکبر آبادی، جوش ملیح آبادی اور اختر شیرانی کا رنگ جھلکتا تھا۔۔ انہوں نے نظم، قطعہ، گیت، ملی نغمے، دوہے اور غزل ہر صنف سخن میں طبع آزمائی کی۔ صہبا اختر کے پڑھنے کے انداز میں بھی بڑی گھن گرج تھی۔صہبا اختر کے مجموعہ ہائے کلام  سرکشیدہ، اقرا، سمندر اور مشعل شائع ہوئے۔ صہبا اختر نے فلم کے لیے بھی مشہور گیت لکھے۔ ان میں  اک اڑن کھٹولا آئے گا،اک لال پری کو لائے گابہت مشہور ہوا۔ صہبا اختر نے 19 فروری 1996 کو کراچی میں وفات پائی۔ وفات کے بعد  حکومت پاکستان نے انہیں  صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا۔