پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے معاہدے

چوہدری لطیف اکبر کا چرکپورہ میں شاندار استقبال؛ مسائل کے حل کی یقین دہانی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹر ایمل ولی کا ردعمل

اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی خریداری قیمت میں کمی، دیگر کرنسیوں میں بھی معمولی اتار چڑھاؤ

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے تک پہنچ گیا

اسٹاک ایکسچینج میں بڑی گراوٹ، انڈیکس 1,703 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ نیچے

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

کشمیریوں سے سب کچھ چھینا جا رہا ہے، انتخابات کو مسئلہ کشمیر کے حل سے جوڑنا جائز نہیں،میر واعظ

اسری نگر(پی پی آئی(کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میرواعظ نے کہا ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں ہونے والے انتخابات کو مسئلہ کشمیر کے حل سے جوڑنا کسی طور جائز اور درست نہیں ہے کیونکہ انتخابات کشمیریوں کے جذبات اور امنگوں کی نمائندگی نہیں کرتے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق میر واعظ عمر فاروق نے سرینگر کی تاریخی جامع مسجد میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب میں کہا کہ بھارتی حکومت نے جموں وکشمیر اسمبلی کو پہلے ہی بے اختیار کردیا ہے اور لیفٹیننٹ گورنر کو وسیع اختیارات دیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ بڑی بدقسمتی کی بات ہے کہ جموں وکشمیر کی مقامی سیاسی جماعتوں نے نام نہاد انتخابات کے موقع پر اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ نہیں کیا اور اجتماعی مفاد پر ذاتی اور جماعتی مفادات کو ترجیح دی جس کی وجہ سے متوقع چیلنجوں کا مقابلہ کرنا انکے لیے آسان نہیں ہو گا۔انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر کے مسلم اکثریتی علاقے میں ایسے قوانین لائے جا رہے ہیں جن سے یہاں کے عوام کی مذہبی آزادی کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ زمینوں، نوکریوں، املاک اور انکے وسائل کو چھینا جارہا ہے جس سے خوف ودہشت کا ماحول پیدا ہوگیا ہے اورلوگ بات کرنے سے بھی ڈر محسوس کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر ایک انسانی مسئلہ ہے، کل جماعتی کانفرنس نے کشمیری عوام کے احساسات و جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے اس مسئلے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر ہمیشہ زور دیا ہے اور یہ ہماری کمزور ی نہیں بلکہ ہمارا ایک اٹل اور واضح موقف ہے۔میر واعظ عمر فاروق نے مزید کہا کہ کہ مشرق وسطیٰ میں آج کل جو ہو رہا ہے اور فلسطین کا تنازعہ کس طرح ایک پورے خطے کے امن کو خطرے میں ڈالنے کا باعث بن رہا ہے یہ سب اس وجہ سے ہے کہ فلسطینیوں کے حقوق کو تسلیم کئے جانے کے بجائے انہیں فوجی طاقت کے بل پر دبایا جارہا ہے۔ میر واعظ نے کہا کہ اگرچہ کشمیری عوام خود مظلومیت اور محکومیت کے شکار ہیں تاہم ہم فلسطین اور لبنان کے عوام کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ مصیبت اور آزمائش کی اس گھڑی میں ہم ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور ان کی کامیابی کیلئے دعا گو ہیں۔ میرواعظ نے کہا کہ ہم اس خطے میں فلسطین جیسی صورتحال نہیں چاہتے یہی وجہ ہے کہ ہم تنازعہ کشمیر کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر زور دے رہے ہیں۔میر واعظ نے مزید کہا کہ بھارتی انتظامیہ نے انہیں گزشتہ چار جمعہ مسلسل گھر میں نظر بند رکھا اور نماز جمعہ کی ادائیگی کیلئے جامع مسجد جانے کی اجازت نہیں دی۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کے بعد ہی انتظامیہ نے انہیں آج رہا کیا۔انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ انتظامیہ انہیں بلا جوازطور پراچانک گھرمیں نظر بند کر دیتی ہے اور پھرعدلیہ کے سامنے اپنے اس اقدام سے مکر جاتی ہے۔