شہر قائدکے نوجوانوں کی بزنس اسٹارٹ اپ میں حوصلہ افزائی کی جائے:پی ڈی پی

اسپیکر ایاز صادق نے صحافت کے تحفظ کے لیے نئی قانون سازی کا عہد کیا

چیئرمین سینیٹ نے صحافیوں کے تحفظ کو جمہوریت کی بنیاد قرار دیا

پاکستان، برطانیہ منظم مجرمانہ سرگرمیوں سے نمٹنے اور ابھرتے ہوئے بین الاقوامی خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کو بڑھانے پر متفق8

کوریا کے سفارت خانے نے ثقافتی تبادلے کو فروغ دینے کے لیے

پاکستان کے لاکھوں بچوں کے خون میں سیسے کی خطرناک سطح، ان کی نشوونما کے لیے خطرہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

 ڈاکٹر ذاکر نائیک ڈاکٹر عافیہ کے حالات سن کر اشکبار ہوگئے

 کراچی (پی پی آ ئی)  گلوبل عافیہ موومنٹ کی چیئرپرسن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے مبلغ اسلام ڈاکٹر ذاکر نائیک سے گورنر ہاوس سندھ میں ملاقات کی جو کہ 45 منٹ سے زائد جاری رہی۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے پاکستان آمد پر انہیں خوش آمدید کہا اور ان کی تبلیغ دین کے سلسلے میں عالمی خدمات کو سراہا اور کہا کہ وہ دنیا کے سامنے اسلام کا اصل چہرہ پیش کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر فوزیہ نے ان کو 2 دہائیوں سے امت مسلمہ کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں اور ان پر ڈھائے جانے والے مظالم کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ21 سال قبل ڈاکٹر عافیہ کو ان کے تین کمسن بچوں سمیت اغوائکیا گیا تھا۔ 3 بچوں میں سے 2 بچے ایک بیٹا اور بیٹی تو واپس مل گئے ہیں مگر سب سے چھوٹا بیٹا سلیمان جو اس وقت چھ ماہ کا شیرخوار بچہ تھا وہ اب تک واپس نہیں ملا ہے اور نہ ہی اس کے بارے میں کچھ پتا ہے کہ وہ اب زندہ بھی ہے یا نہیں۔ ڈاکٹر ذاکر نائیک نے ڈاکٹر عافیہ پر ڈھائے جانے والے مظالم کے واقعات کو انتہائی توجہ سے سنا اور وہ یہ تفصیلات سن کر اشکبار ہو گئے۔ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے ان کے سامنے ڈاکٹر عافیہ کی حالت زار کے بارے میں جامعہ ام القرٰی مکہ مکرمہ کے استاذ ابو محمد عبداللہ الحجازی کا فتویٰ اور تحریر بھی پیش کی جس میں درج ہے کہ ”اگر کوئی مسلمان عورت غیر مسلموں کی قید میں ہو تو تمام مسلمانوں اور مسلم ممالک پر کیا ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں“ اور انہیں بتایا کہ ڈاکٹر عافیہ بھی مبلغہ تھی اور انہیں اسلام میں عورتوں کے احترام اور انسانی حقوق کے موضوع پر عافیہ کی امریکہ میں کی گئی تقریرکی ویڈیو بھی دکھائی۔ ڈاکٹر فوزیہ نے ڈاکٹر ذاکر نائیک سے درخواست کی کہ وہ اپنی دعا?ں میں ڈاکٹر عافیہ کو یاد رکھیں اور ان کی جلد رہائی کے لیے خصوصی طور پر دعائیں کریں۔