شہر قائدکے نوجوانوں کی بزنس اسٹارٹ اپ میں حوصلہ افزائی کی جائے:پی ڈی پی

اسپیکر ایاز صادق نے صحافت کے تحفظ کے لیے نئی قانون سازی کا عہد کیا

چیئرمین سینیٹ نے صحافیوں کے تحفظ کو جمہوریت کی بنیاد قرار دیا

پاکستان، برطانیہ منظم مجرمانہ سرگرمیوں سے نمٹنے اور ابھرتے ہوئے بین الاقوامی خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کو بڑھانے پر متفق8

کوریا کے سفارت خانے نے ثقافتی تبادلے کو فروغ دینے کے لیے

پاکستان کے لاکھوں بچوں کے خون میں سیسے کی خطرناک سطح، ان کی نشوونما کے لیے خطرہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

نام وَر ادیب، افسانہ نگار اور صحافی ابراہیم جلیس کی برسی منائی گئی

کراچی(پی پی آئی) اردو کے نام ور ادیب، کالم نگار اور صحافی ابراہیم جلیس کی 26 اکتوبر کو برسی منائی گئی۔ ابراہیم جلیس 1922ء میں بنگلور میں پیدا ہوئے  اور  26 اکتوبر1977 کو کراچی میں وفات پائی ان کی ابتدائی تعلیم و تربیت گلبرگہ حیدرآباد دکن میں ہوئی تھی۔1942میں انھوں نے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے گریجویشن کیا اور تقریباً اسی زمانے میں لکھنے لکھانے کا سلسلہ شروع کیا۔ ان کی صحافتی زندگی کا آغاز حیدرآباد دکن سے ہی ہوا۔تقسیمِ ہند کے بعد وہ پاکستان چلے آئے اور یہاں مختلف اخبارات سے وابستہ رہے جن میں امروز، انجام، جنگ، حریت اور مساوات شامل تھے۔ انھوں نے ایک ہفت روزہ بھی عوامی عدالت کے نام سے جاری کیا۔ وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے روزنامہ مساوات کے مدیر بھی رہے جو مارشل لا کے زمانے میں زیرِ عتاب آگیا۔ابراہیم جلیس ایک بہت اچھے افسانہ نگار بھی تھے۔ انھوں نے سنجیدہ و فکاہیہ مضامین تحریر کیے اور کالم لکھے جو بہت مقبول ہوئے۔ ان کا طنز و مزاح اور فکاہیے بہت پسند کیے گئے۔ ابراہیم جلیس نے متعدد کتابیں یادگار چھوڑیں جن میں زرد چہرے، چالیس کروڑ بھکاری، دو ملک ایک کہانی، الٹی قبر، آسمان کے باشندے، جیل کے دن جیل کی راتیں، نیکی کر تھانے جا، ہنسے اور پھنسے کے علاوہ روس، امریکا اور ایران کے سفرنامے خصوصاً قابل ذکر ہیں۔ابراہیم جلیس کو حکومتِ پاکستان نے بعدازمرگ تمغہ حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔