شنگھائی تعاون تنظیم کی میٹنگ میں پاکستان اور ازبکستان نے اسٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط کرنے کے عزم کا اظہار کیا

کراچی کینٹ اسٹیشن کے قریب پنجاب سے آنے والی ٹرین ہلاک ، نعش اسپتال منتقل

فنکشل لیگ کی سندھ میں تنظیم سازی 15 ستمبر تک وارڈ سطح تک مکمل کرنے کی ہدایت

شہداد کوٹ میں کارو کاری پر نوجوں لڑکا اور لڑکی قتل ، ملزم فرار

وزیر داخلہ کی زیرِ صدارت سندھ کابینہ کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس منعقد ،زرعی آمدنی پر ٹیکس کے نفاذ کا جائزہ

میئر کراچی کے دورے ،بارش کے بعد کی صورتحال اور ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

نیٹری پالیسی کمیٹی شرح سود میں 500بیسس پوائنٹس تک کمی کرے،زبیرطفیل

کراچی(پی پی آئی)یونائٹیڈ بزنس گروپ(یو بی جی)کے صدر زبیر ایف طفیل،ایف پی سی سی آئی کے سابق سینئرنائب صدر مظہرعلی ناصراوردیگر یو بی جی رہنماوں نے   مطالبہ  کیا ہے کہ پیر کو ہونے والے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مانیٹری پالیسی کمیٹی اجلاس میں شرح سود کم از کم 400 سے 500 بیسس پوائنٹس کم کی جائے۔یونائٹیڈ بزنس گروپ(یو بی جی) کے مرکزی ترجمان کے مطابق زبیرطفیل نے کہا کہ ملکی سطح پرکاروبار کی لاگت،کاروبار کرنے میں آسانی اور فنانس تک رسائی میں برآمدی منڈیوں میں اپنے تمام حریفوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ چلینجزدرپیش ہیں اور ان حالات میں کاروباری، صنعتی اور تاجر برادری یہ توقع رکھتی ہے کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی شرح سود میں نمایاں کمی کرکے اسے حققی سطح پر لائے کیونکہ یہ بنیادی افراط زر کی نسبت بھاری پریمیم پر مبنی ہے،۔زبیرطفیل نے کہا کہ پاکستان میں نجی شعبے کا قرضہ ابھرتی ہوئی مارکیٹوں میں کم ترین سطح پر آ گیا ہے جو کہ 2023 تک جی ڈی پی کا صرف 12.0 فیصد تھا،عالمی منڈی میں حریف ممالک کے مقابلے میں مسابقت میں ناکامی نے انڈسٹری اور ایکسپورٹ کو متاثر کررکھا ہے،یہ حقیقت ہے کہ اسٹیٹ بینک نے مہنگائی پر کامیابی سے قابو پالیا ہے لیکن اس کی سخت مانیٹری پالیسی غیر متوازن قرضوں کا ماحول پیدا کررہی ہے۔مظہر علی ناصر نے کہا کہ یو بی جی کے سرپرست اعلیٰ اور بزنس کمیونٹی کے لیڈر ایس ایم تنویر مسلسل شرح سود میں کمی کا مطالبہ کررہے ہیں کیونکہ انہیں ایکسپورٹرز اور صنعتکاروں کے مسائل کا ادراک ہے۔مظہرعلی ناصر نے کہا کہ شرح سود کم ہونے سے معاشی سرگرمیاں بحال ہوسکیں گی اور حکومت کا ریونیوبھی بڑھے گاجبکہ روزگار کے مزید مواقع میسر آئیں گے۔