شہر قائدکے نوجوانوں کی بزنس اسٹارٹ اپ میں حوصلہ افزائی کی جائے:پی ڈی پی

اسپیکر ایاز صادق نے صحافت کے تحفظ کے لیے نئی قانون سازی کا عہد کیا

چیئرمین سینیٹ نے صحافیوں کے تحفظ کو جمہوریت کی بنیاد قرار دیا

پاکستان، برطانیہ منظم مجرمانہ سرگرمیوں سے نمٹنے اور ابھرتے ہوئے بین الاقوامی خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کو بڑھانے پر متفق8

کوریا کے سفارت خانے نے ثقافتی تبادلے کو فروغ دینے کے لیے

پاکستان کے لاکھوں بچوں کے خون میں سیسے کی خطرناک سطح، ان کی نشوونما کے لیے خطرہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

پنجاب حکومت کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے: عظمیٰ بخاری

لاہور(پی پی آئی)پنجاب کی وزیر اطلاعات عزمہ بخاری نے عوام کو یقین دہانی کرائی کہ صوبائی حکومت امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے تیار ہے اور حکومت کسی بھی انتشار کو برداشت نہیں کرے گی۔ لاہور میں اتوار کے روز پریس کانفرنس کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے کہا کہ لاہور کی صورتحال معمول کے مطابق ہے اور پی ٹی آئی کی احتجاجی کال کو کوئی خاص پذیرائی نہیں ملی۔انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت چوکس ہے اور کسی بھی ممکنہ خلل سے نمٹنے کے لیے تیار ہے، عوام کی جان و مال کا تحفظ ہر صورت میں کیا جائے گا۔ عظمیٰ بخاری نے پی ٹی آئی کے رہنماؤں کے خاندانوں کی احتجاج میں عدم شرکت پر بھی تنقید کی، اور یہ بات اجاگر کی کہ پی ٹی آئی کی سیاست میں لوگوں کی دلچسپی کم ہو رہی ہے۔اس کے علاوہ، عزمہ بخاری نے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کے سوابی سے احتجاج کی قیادت کرنے کے اعلان پر بھی کڑی تنقید کی اور کہا کہ ابھی تک کہیں بھی احتجاج کے آثار نہیں ملے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عوام پی ٹی آئی کی سیاست میں دلچسپی نہیں رکھتے۔انہوں نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا کے سرکاری افسران کو احتجاج میں شرکت کے لیے مجبور کیا جا رہا ہے، حالانکہ ان کے اپنے صوبے میں امن و امان کی صورتحال خراب ہے اور پی ٹی آئی کی حکومت نے اس کے حل کے لیے کوئی سنجیدگی نہیں دکھائی۔اس دوران اسلام آباد کی انتظامیہ نے وفاقی دارالحکومت میں دفعہ 144 نافذ کر دی ہے تاکہ شہر میں امن و امان برقرار رکھا جا سکے، جیسا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات کے مطابق۔ شہریوں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ کسی غیر قانونی سرگرمی میں حصہ نہ لیں، اور ان افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی جو قانون کی خلاف ورزی کریں گے تاکہ شہر میں امن اور تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔