کراچی(پی پی آئی)دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی 25 نومبر کو خواتین کے خلاف تشدد کا عالمی دن منایا گیا۔اس دن کی مناسبت سے خواتین کی تنظیموں نے تقاریب کا اہتمام کیا اور افسوس ظاہر کیا کہ معاشرے کے اہم ترین رکن ہونے کے باوجود آج بھی دنیا کے مختلف ممالک میں عورتیں قسم قسم کے تشدد کا شکار ہیں حالانکہ اسلام نے عورت کو نہایت بلند مقام دیا ہے۔ رسول اکرمﷺ نے حجت الوداع کے دن عورتوں سے اچھا سلوک کرنے کی بار بار وصیت دی، انہیں تعلیم دینے کا حکم دیا۔ ماں، بیٹی، بہن ہر صورت میں انہیں عزت بخشی۔پاکستان نیشنل فورم فا ویمن ہیلتھ کی تقریب سے خطاب میں ڈاکٹر شیر شاہ سید نے کہا کہ خواتین کے تحفظ کے لیے بنائے گئے قوانین کے باوجود ان کے خلاف جرائم نہیں رک رہے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ معاشرے کی ذہنیت اور ٹھوس قانون کا فقدان ہے۔ نیز یہ خیال کیا جاتا ہے کہ حکومت کے پاس زمین پر قانون کو نافذ کرنے کے لیے مضبوط ارادے اور بنیادی ڈھانچے کی کمی ہے۔ انجمن تحفظ حقوق نسواں کی تقریب سے خطاب میں مسلم لیگ ن کی مرکزی رہنما بیگم شہناز ارشاد خان نے کہا کہ جمہوریت ہو یا بادشاہت یا آمرانہ راج، خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد، جرائم اور انسانی حقوق کی پامالی کے واقعات ہر جگہ نظر آتے ہیں۔اس دن کی مناسبت سے جاری اعداد وشمار میں بتایا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق دنیا بھر میں ہر3 میں سے 1 عورت اپنی زندگی میں کم از کم ایک بار جسمانی یا جنسی تشدد یا دونوں قسم کے تشدد کا شکار ہوئی ہے۔ خواتین اور لڑکیاں گھر، کام پر اور سفر کے دوران تشدد اور ایذا رسانی کا شکار ہوتی ہیں۔ خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کا عالمی دن 25 نومبر کو اقوام متحدہ کی جانب سے منایا جاتا ہے تاکہ خواتین کے لیے ایک محفوظ معاشرہ تشکیل دیا جا سکے۔خواتین کے حقوق کے کارکنوں نے 25 نومبر 1981 کو صنفی بنیاد پر تشدد کے خلاف دن کے طور پر منایا۔ 1960 میں، اس تاریخ کو ڈومینیکن ریپبلک کے حکمران رافیل ٹرجیلو (1930-1961) کے حکم پر تین سیاسی کارکنوں، میرابل بہنوں کو قتل کر دیا گیا۔ اس دن کا انتخاب میرابل بہنوں کے اعزاز کے لیے کیا گیا تھا۔20 دسمبر 1993 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک قرارداد کے ذریعے خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کا اعلامیہ منظور کیا۔ اس کے ذریعے دنیا بھر میں خواتین اور لڑکیوں پر تشدد کے خاتمے کی راہ ہموار ہوئی۔ اس کے بعد، 7 فروری 2000 کو، جنرل اسمبلی نے باضابطہ طور پر 25 نومبر کو خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے عالمی دن کے طور پر نامزد کیا۔ اس دن، اقوام متحدہ مختلف حکومتوں، بین الاقوامی تنظیموں اور غیر سرکاری تنظیموں کی حوصلہ افزائی کرتی ہے کہ وہ خواتین کے تحفظ کے لیے عوامی شعور بیدار کرنے کے لیے مختلف سرگرمیاں منعقد کریں۔خواتین کے خلاف جرائم، تشدد، ہراساں کرنے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے واقعات کو روکنے کے لیے معاشرے اور حکومت دونوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔۔
Next Post
پی پی139 شیخوپورہ میں ضمنی انتخاب کی تیاریاں عروج پر
Mon Nov 25 , 2024
شیخوپورہ(پی پی آئی)حلقہ پی پی139 شیخوپورہ میں ضمنی انتخاب کی تیاریاں عروج پرہیں یہ نشست مسلم لیگ ن کے رکن صوبائی اسمبلی اور وفاقی وزیر صنعت و پیداوار رانا تنویر حسین کے بڑے بھائی رانا افضال حسین کی وفات کے بعد خالی ہوئی ہے اور اس حلقہ میں ضمنی الیکشن ہورہے ہیں۔ تمام امیدواران کی جانب سے بھرپور انتخابی مہم […]
