سندھ نے سستی بجلی کے لیے صوبائی گرڈ کا خاکہ پیش کیا؛ ڈنمارک کی سبز سرمایہ کاری پر نظر

بلوچستان میں یوم مزدور منایا گیا

قتل پر احتجاج کے بعد مرکزی شاہراہ بند

گینگز اور املاک کے جرائم کے خلاف سیکیورٹی سخت

جاری کریک ڈاؤن میں بدنام زمانہ چھیننے والے گروہ کے ارکان گرفتار

دارالحکومت میں کریک ڈاؤن، غیر قانونی اسلحہ برآمد، دو افراد گرفتار

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

معذورافراد کاعالمی دن پاکستان میں بھی منایا گیا،ملک بھر میں تقاریب منعقد

کراچی(پی پی آئی) معذورافراد کا عالمی دن پوری دنیا کی طرح پاکستان میں بھی منگل 3دسمبر کو منایا گیا۔ملک بھر میں  عالمی یوم کی مناسبت سے تقاریب منعقد ہوئیں۔ اس سال دن کاموضوع ”ایک جامع اورپائیدارمستقبل کے لئے معذورافرادکی قیادت کو فروغ دینا”ہے۔معذور افراد کے عالمی دن کے موقع پر وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ یہ دن ہمارے معاشرے میں معذور افراد کے حقوق، وقار اور ان کی شمولیت کو فروغ دینے کے عالمی برادری کے اجتماعی عزم کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس سال کے عالمی دن کا موضوع، “ایک جامع اور پائیدار مستقبل کے لیے معذور افراد کی قیادت کو بڑھانا،” اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایک زیادہ جامع دنیا جانب سفر کی قیادت ان لوگوں کو کرنی چاہیے جو اس کے چیلنجوں کو خود سمجھتے ہوں۔ہم معذور افراد کو تعلیم، روزگار، صحت کی دیکھ بھال اور عوامی زندگی میں مساوی مواقع فراہم کرنے کے لئے بامعنی اقدامات کر رہے ہیں۔ ہماری حکومت ان جامع پالیسیوں کو نافذ کرنے کے لیے تندہی سے کام کر رہی ہے جو معذور افراد کو بااختیار بناتی ہیں، اور ان کے لیے سماجی رکاوٹوں کو دور کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں.ہم اس امر کو یقینی بنا رہے ہیں کہ معذور افراد کا نقطہ نظر ہماری قومی ترقی کی پالیسی میں شامل ہو، اور ہم ایک ایسے معاشرے کی تعمیر کریں جو قائدین، اختراع کاروں، اور تبدیلی سازوں کے طور پر ان کی شراکت کو اہمیت دیتا ہو۔ معذور افراد کے لیے دوستانہ قوانین کا نفاذ اس وڑن میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔مزید برآں، ہمیں معذور افراد کی مدد کے لیے انتھک محنت کرنے والوں، ان کی نگہداشت کرنے والوں، وکالت کرنے والے افراد اور تنظیموں کے کام اور انکے تعاون کو سراہنا چاہیے۔میں سرکاری اداروں، کاروباری شعبے اور سول سوسائٹی پر زور دیتا ہوں کہ وہ معذور افراد کی راہ میں رکاوٹوں کو دور کرنے اور ایسے ماحول کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کریں جہاں معذور افراد بطور رہنما اپنا کردار ادا کر سکیں۔ ہمیں ایسے رویوں کو چیلنج کرنے کے لیے بھی شعوری کوششیں کرنی چاہئیں جو معذور افراد امتیازی سلوک کو روا رکھتے ہیں۔