اسرائیل کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی عمل سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، سردار مسعود

ایرانی مذاکرات کی کامیابی ایران اور ایرانی قوم کی فتح ہے،ہم خراج تحسین پیش کرتے ہیں:جماعت اسلامی پاکستان

امریکہ-ایران امن معاہدہ پاکستان کے لیے باعثِ فخر اور عالمی معیشت کے لیے ایک نہایت اہم اور خوش آئند لمحہ ہے: وفاقی وزیر خزانہ

پشاور میں 1.6ارب کی لاگت سے بننے والے انڈر پاس کا سنگ بنیاد

اسلام آباد میں غیر قانونی ہتھیار رکھنے اور دھوکہ دہی کے کیس میں مشتبہ افراد گرفتار

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نئے ہفتے کے آغاز پر زبردست تیزی ، انڈیکس میں4639پوائنٹس کا اضافہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

بشار الاسد حکومت کا خاتمہ دنیا بھر کی آمریتوں کیلئے انتباہ ہے:شجاع الدین شیخ

کراچی(پی پی آئی) بشار الاسد کی حکومت کا اچانک خاتمہ دنیا بھر کی آمریتوں کے لیے ایک واضح انتباہ ہے۔ یہ بات تنظیم اسلامی کے امیر شجاع الدین شیخ نے ایک بیان میں کہی۔انہوں نے کہا کہ اسد خاندان جو شام کے اقلیتی فرقہ سے تعلق رکھتا ہے اْس نے 54 سال تک شام پر اپنا قبضہ جمائے رکھا اور اس دوران ملک میں اکثریتی مسلک سے تعلق رکھنے والے شہریوں پر ظلم وجبر کے پہاڑ ڈھائے رکھے۔ نام نہاد عرب بہار کے دوران بھی بشار الاسد جو  2000میں مسندِاقدار پر اپنے والد حافظ الاسد کے انتقال کے بعد براجمان ہوئے تھے اْن کے خلاف اپوزیشن اور مسلح باغیوں نے امریکہ اور ترکیہ کی معاونت کے ساتھ بھرپور مزاحمت کی تھی لیکن ایران اور روس کی پشت پناہی کے باعث کامیاب نہ ہو سکے۔ اطلاعات کے مطابق سابق شامی صدر ماسکو فرار ہوگئے ہیں اور مسلح اپوزیشن حیات تحریر الشام نے دمشق، حلب اور ادلب سمیت تمام اہم شہروں پر قبضہ کر لیا ہے۔ بشار الاسد کے جن حامیوں نے ہتھیار ڈال دیے ہیں اْن کے لیے عام معافی کا اعلان کیا گیا ہے جو انتہائی خوش آئند ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عوام کی منشاء   کے برعکس حکومت کرنے اور جبر کا ماحول پیدا کرنے والوں کا بالآخر یہی انجام ہوتا ہے۔ امیر تنظیم نے کہا کہ حیات تحریر الشام کو حکومت سنبھالنے کے بعد بے شمار چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایک طرف اسرائیل ہے جس نے جولان کی پہاڑیوں پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے اور اْس کا گریٹر اسرائیل کا مذموم منصوبہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ دوسری طرف تحریک کے سربراہ ابومحمد الجولانی پر امریکہ، مغربی یورپ کے ممالک، ایران اور ترکیہ سب دباو ڈالیں گے کہ خطے میں اْن کے اہداف کے حوالے سے اْن کی ڈکٹیشن قبول کی جائے۔ پھر یہ کہ روس اس معاملے میں شام کی نئی حکومت کے خلاف کْھلی دشمنی کا اظہار کرے گا۔ امیر تنظیم نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اس تبدیلی سے قضیہ فلسطین کو کوئی نقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔ اْنہوں نے کہا کہ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ احادیث مبارکہ میں حق و باطل کے آخری معرکوں میں شام کی اہمیت کے حوالے سے واضح خبریں موجود ہیں۔ ایسی صورتِ حال میں ضرورت اس امر کی ہے کہ شام کی نئی حکومت ملک میں شریعتِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کے نفاذ کا اعلان اور اْس کی طرف پیش قدمی کی کوشش کرے۔ اللہ کی مدد پر بھروسہ رکھے۔ عوام کی بہتری کے لیے اقدامات کرے اور تارکین وطن کی پر امن اور باعزت واپسی کا بھی اہتمام کیا جائے۔ عالمی استعمار کی سازشوں سے ہر صورت میں خود کو محفوظ رکھنا ہوگا۔