سگ گزیدگی کے بڑھتے واقعات سنگین خطرہ ہیں:پاسبان

وزیراعظم سے مسلم لیگ (ن) کی خواتین ارکانِ پارلیمنٹ کی ملاقات

گورنرسندھ کی اسپیکرقومی اسمبلی ،جرمنی کی سفیر اور چیئرمین سینیٹ سے ملاقاتیں

کھورواہ میں جھگڑے کے دوران خاتون ہلاک ،، 2 مرکزی ملزمان گرفتار

نواز شریف کی زیر صدارت ن لیگ کا اعلیٰ سطحی اجلاس ، آزاد کشمیر کی صورت حال پر تفصیلی غور

اوکاڑہ ،لالا زار کالونی ویں کی ٹکر سے عمر رسیدہ خاتون جاں بحق ،بیٹا زخمی

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

ایونٹ میں ترقی پذیر ممالک کو درپیش چیلنجز پرگفتگو کے لئے عالمی اسکالرزشرکت کرینگے

 لاہور(پی پی آئی)لاہورلمز میں تیسری سالانہ پاتھ ویز ٹو ڈویلپمنٹ کانفرنس 16 دسمبر سے شروع ہوگی اور18 دسمبر تک جاری رہے گی۔ ا س تین روزہ ایونٹ میں ترقی پذیر ممالک کو درپیش اہم چیلنجز پرگفتگو کے لئے دنیا بھر کے3سو سے زائد اسکالرزاورپالیسی سازشرکت کرینگے۔یہ کانفرنس چوہدری نذر محمد ڈیپارٹمنٹ آف اکنامکس اور محبوب الحق ریسرچ سینٹر لمز، سینٹر فار اکنامک ریسرچ ان پاکستان، انسٹی ٹیوٹ فار ڈویلپمنٹ اینڈ اکنامک الٹرنیٹس،یونیورسٹی آف سسیکس میں انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اسٹڈیز(IDS)، کنسورشیم فار ڈویلپمنٹ پالیسی ریسرچ  اور انٹرنیشنل گروتھ سینٹرجیسے نامور ادارے مشترکہ طورپر منعقد کرواینگے۔اس سال کی کانفرنس گورننس سے جڑے مسائل بشمول صحت، تعلیم اور انصاف کی غیر مساوی رسائی جیسے بحرانوں سے نمٹنے کے لئے برابری پر مبنی طرز حکمرانی کے کردار کا جائزہ لے گی۔ یہ کانفرنس معاشرے میں موجودایسے مسائل کا حل نکالنے کی کوشش کرے گی جس سے معاشرے کو ئکجا کیا جاسکے۔اسکے ساتھ ساتھ یہ کانفرنس پالیسی اور ریسرچ کے درمیان فرق کو ختم کرنے کے لئے پریکٹیشنرز اور تعلیمی ماہرین کے علاوہ دیگر افراد کو بھی شامل کرتی ہے۔ اس کانفرنس میں نہ صرف فکری تبادلے کی اہمیت کو اجاگر کیا جائے گا بلکہ ملک کو درپیش سماجی و اقتصادی مسائل سے نمٹنے کے لیے منفرد موضوعات پرمباحثے کو بھی فروغ دیا جائے گا۔اس سال کے پلینری سیشنز میں دنیا بھر کے نامور ریسرچر بشمول لندن سکول آف اکنامکس کے سکول آف پبلک پالیسی کے لانٹ پریچیٹ،  سپریم کورٹ آف پاکستان کے جسٹس سید منصور علی شاہ، پرنسٹن کے سعد گلزار،نوٹرے ڈیم سے مائرہ حیات،ورلڈ بینک سے غزالہ منصوری اور یونیورسٹی آف مانچسٹر سے مظہر وسیم مختلف اہم موضوعات پر گفتگو کرینگے۔  حقیقت پر مبنی پالیسی سازی میں کانفرنس کے کردار پر گفتگو کرتے ہوئے آکسفورڈ یونیورسٹی کے ڈاکٹر اسٹیفن ڈیرکون نے کہا: ‘اگر ہم یہ سمجھ لیں کہ پالیسی ساز کس حقیقت سے قائل ہوتے ہیں تو ہم ان پربہتر طریقے سے اثر انداز ہو سکتے ہیں اور یہ سمجھ سکتے ہیں کہ ہم محدود ضابطوں کے اندر رہتے ہوئے کیا کر سکتے ہیں اور طاقت کے ایوانوں میں بیٹھے افراد کو  پائیدار ترقی کے لئے فیصلہ سازی پر کیسے قائل کر سکتے ہیں۔