آئی جی کی زیرِ صدارت اجلاس ، سندھ میں دہشت گردی کے واقعات میں غیر معمولی کمی پر اطمینان

کراچی قائدآباد سواتی محلہ، حلیمہ مسجد کے قریب آوارہ گولی لگنے سے نوعمر لڑکی زخمی

ٹھٹھہ میں دوران محرم امن و امان یقینی بنانے کے لئے اجلاس منعقد ، علما بھی شریک

اوکاڑہ حویلی لکھا میں ٹریفک حادثہ ، 8 سالہ لڑکے کی زندگی لے گیا

اوکاڑہ میں میں معمولی بات پر گروپی تصادم ،ایک شخص جاں بحق ،2 شدید زخمی

متحدہ نے پاکستان کا شیڈو بجٹ پیش کردیا ، اقتصادی جمود کو حل کرنے کا عزم

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

واٹر بورڈ اور ٹینکر مافیا نے شہریوں کی زندگی کو جہنم بنا دیا ہے:پاسبان

کراچی (پی پی آئی)پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے وائس چیئرمین عبدالحاکم قائد نے کہا ہے کہ واٹر بورڈ اور ٹینکر مافیا کی اجارہ داری نے شہریوں کی زندگی کو جہنم بنا دیا ہے۔ پانی کی مصنوعی قلت پیدا کر کے ٹینکرز کے ذریعے عوام کی حق حلال کی کمائی پر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے۔ پانی کی چوری اور غیر قانونی کنکشنز پر فوری جرمانے عائد کیے جائیں۔ پانی کی غیرمنصفانہ تقسیم، غیر قانونی کنکشن، اور حکومتی نا اہلی کے باعث شہری ٹینکر مافیا سے مہنگے داموں پانی خریدنے پر مجبورہیں۔ کراچی کے اکثر علاقے پانی کے شدید بحران کا شکار ہیں جب کہ پانی کی کوئی قلت بھی نہیں ہے۔ وہی پانی جو شہریوں کو پائپ لائن کے ذریعے ملنا چاہئیے تھا وہ بھاری رقوم کے عوض ٹینکرزکے ذریعے دیا جا رہا ہے جو کہ بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ شہر میں موجود سیاسی جماعتیں، سیاس اختلافات سے بالاتر ہو کر اس ظلم کے خلاف بھرپور آواز بند کریں تاکہ سوئی ہوئی انتظامیہ اور حکومت جاگ جائے۔ عبدالحاکم قائد نے مطالبہ کیا کہ غیر قانونی کنکشنز ختم کرکے پانی کی رسد کو منصفانہ بنایا جائے۔پائپ لائنوں کی مرمت اور نئے انفراسٹرکچر کی تعمیر کے ذریعے پانی کی فراہمی کو مؤثر بنایا جائے۔ عوام کو پانی جیسی بنیادی ضرورت کے لئے ترسانے والے بدعنوان عناصر کے خلا ف فوری اور سخت کاروائی کی جائے۔ کراچی کے شہریوں کو منصفانہ پانی کی تقسیم یقینی بنانے کے لیے جامع حکمت عملی اور مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ پانی کی تقسیم کو شفاف بنانے کے لیے ڈیجیٹل میٹرنگ سسٹم نصب کیا جائے تاکہ ہر علاقے کو اس کی ضرورت کے مطابق پانی ملے۔۔ ٹینکر مافیا کے اجارہ داری کو ختم کرنے کے لیے مضبوط قوانین نافذ کیے جائیں۔ سرکاری ٹینکرز کے ذریعے کم قیمت پر پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ ڈیمز اور ری سائیکلنگ پلانٹس کے ذریعے پانی کے ذخائر کو بڑھایا جائے۔ کے فور منصوبہ کو جلد از جلد مکمل کر کے عوام کو پانی کی قلت سے نجات دلائی جائے۔بدعنوانی کے خاتمے کے لیے تمام منصوبوں میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے