کوئٹہ، 16 جنوری (پی پی آئی) اسلامی جمعیت طلبہ بلوچستان کے ناظم بہادر خان کاکڑ نے جمعرات کے روز حکام سے صوبے کے تعلیمی اداروں میں سیاسی سرگرمیوں پر پابندی واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کالجز، ہائر اینڈ ٹیکنیکل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ بلوچستان کی جانب سے تعلیمی اداروں میں سیاسی سرگرمیوں پر پابندی قابل مذمت ہے، طلباتنظیمیں نہ صرف سیاسی شعور پیدا کر رہی ہیں بلکہ طلبا کے مسائل کو بھی اجاگر کر رہی ہیں۔. انہوں نے کہا کہ بلوچستان ہائی کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں کالجز، ہائیر اینڈ ٹیکنیکل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ بلوچستان کی جانب سے عائد کردہ پابندی اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 17 کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی ادارے جمہوریت کی نرسری کا کام کرتے ہیں جہاں نوجوان لیڈر پیدا ہوتے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ مذکورہ پابندی کا مطلب اس جمہوری عمل کو کمزور کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ تنظیموں نے ہمیشہ طلبہ کے مسائل کو اجاگر کرنے اور ان کے ازالے کے لیے فعال کردار ادا کیا ہے اور طلبہ تنظیموں پر پابندی ان مطالبات کو دبانے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ صوبے کے تعلیمی اداروں میں سیاسی سرگرمیوں پر پابندی قبول نہیں کی جائے گی اور مذکورہ غیر آئینی اقدام کے خلاف تمام قانونی اور جمہوری طریقے اپنائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مذکورہ نوٹیفکیشن واپس نہ لیا گیا تو آئی جے ٹی صوبے بھر میں ”بیداری طلبہ تحریک“ شروع کرے گی، انہوں نے مزید کہا کہ اس غیر آئینی اور غیر قانونی اقدام کے خلاف فیصلہ کن تحریک چلانے کے لیے آئندہ کا لائحہ عمل تمام طلبہ تنظیموں کو اعتماد میں لے کر وضع کیا جائے گا۔
Next Post
آئندہ24 گھنٹے اہم، قوم دعا کرے کہ عافیہ کی رہائی پٹیشن منظور ہوجائے: فوزیہ صدیقی
Thu Jan 16 , 2025
کراچی16جنوری (پی پی آئی) قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کیلئے آن لائن پٹیشن پر ڈیڑھ ملین افرادنے دستخط کر دیئے ہیں۔ڈاکٹر فوزیہ صدیقی اس وقت اپنے وکیل کلائیو اسمتھ اور ماریہ کاری کے ہمراہ واشنگٹن ڈی سی میں امریکی حکام سے حتمی ملاقاتوں میں مصروف ہیں،۔ فوزیہ صدیقی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان ملاقاتوں کا […]
