خیبر پختونخوا میں جنگلات کے مالکان کی جرگہ منعقد؛ وزیر اعلیٰ کے مشیر کی شرکت

جنوبی افریقہ میں پاکستانیوں کی ہلاکتیں؛ پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز کا اظہار افسوس

جناح انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی بورڈ آف گورنرز کا اجلاس منعقد؛ کلیدی فیصلے کیے گئے

وزیر داخلہ نے منصورہ میں جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم سے اہم ملاقات کی؛ قومی اہمیت کے مسائل پر تبادلہ خیال

بلوچستان ویمن ڈویلپمنٹ ڈپارٹمنٹ کے تحت صنفی بنیاد پر تشدد اور کم عمری کی شادی جیسے مسائل پر ‘صوبائی میڈیا فیلوشپ پروگرام’ کا آغاز

اوپن مارکیٹ میں ڈالر سمیت بڑی کرنسیوں کی قدر میں معمولی اضافہ

تازہ ترین خبریں

اشتہار

تازہ ترین

سرکاری اسکولوں میں دوپہر کی شفٹ خوش آئند، حالت بھی بہتر جائے:پاسبان

کراچی21جنوری (پی پی آئی)پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے جنرل سیکریٹری اقبال ہاشمی نے کہا ہے کہ وزیر اعلی سندھ کا  سرکاری اسکولوں میں دوپہر کی شفٹ کے آغاز کا فیصلہ خوش آئند ہے لیکن سرکاری اسکولوں کی حالت زار پر بھی توجہ دی جائے۔ سرکاری اور نچلے طبقہ کے نجی تعلیمی اداروں میں پینے کے صاف پانی کی عدم فراہمی، بجلی سے محرومی، ناقص نظام تعلیم، نااہل اور سیاسی بنیادوں پر بھرتی شدہ اساتذہ اور ناقص نصاب بچوں کو تعلیم سے دور کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ججز،جرنیلوں،بیوروکریٹس،وزراسمیت تمام حکام اپنے بچوں کو سرکاری اسکولوں میں داخل کرکے ان کا معیار تعلیم بلند کریں اور پرائیویٹ اسکولز کی اجارہ داری ختم کریں۔ تعلیمی سرگرمیاں کمزور طرز حکمرانی کے باعث کرپشن کی نذر ہو رہی ہیں، حکومت اور متعلقہ اداروں کو اس پرفوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ تعلیم کو تجارت بناکر والدین کی جیبوں سے اربوں کھربوں روپے بٹورنے والوں کو ہمیشہ کے لئے لگام دی جائے۔ بے لگام پرائیویٹ اسکولز کو کسی قاعدہ قانون اور ضابطہ کا پابند بنایا جائے۔ لوٹ مار اور والدین کے ساتھ استحصال کو ختم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ملک بھر میں ایک نصاب،ایک یونیفارم اور ایک بورڈ کانظام بنایا جائے۔  ایجوکیشن مافیا کی پالیسیز کی وجہ سے غریب بچے تعلیم سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ حکومتی تعلیمی ادارے یا تو بند ہو چکے ہیں یا تباہی کے کنارے پر کھڑے ہیں۔ جامع اور مساوی معیاری تعلیم کی فراہمی کو یقینی بنانا ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے لیکن حالت یہ ہے کہ ہمارے ہاں ڈھائی کروڑ بچے اسکول نہیں جا پاتے۔ تعلیم کا بجٹ سب سے کم رکھا جا تا ہے تا کہ کہیں غریب بچے تعلیم حاصل کر کے صدیوں سے قائم وڈیرہ شاہی اور لٹیرہ شاہی کے خلاف شعور حاصل کر کے اٹھ کھڑے نہ ہوں۔  سرکاری اسکولوں اور کالجوں میں تعلیم پر عدم توجہی اور تعلیمی افسروں کی باہمی ملی بھگت نے پرائیویٹ اداروں کو امیروں کا شوق اور متوسط طبقے کی مجبوری بنا رکھا ہے۔ریاست تعلیم کے نام پرسالانہ اربوں روپوں کا بجٹ بنا کر ہڑپ کر جاتی ہے۔ نجی تعلیمی ادارے پھل پھول کر مافیا کی شکل اختیار کرچکے ہیں،لگام دی جائے